ریاست ہنزہ نگر کے خلاف تاج برطانیہ کی جنگی مہم۔ آخری قسط

کرنل ڈیورنڈ کی افواج نے ایک خونی معرکے کے بعد ریاست نگر کے دفاعی قلعہ نلت پر قبضہ کیا تھا، ایسا لگتا تھا نلت کے سقوط سے دشمن نے حوصلہ نہیں ہارا بلکہ وہ مزاحمت کرتے رہے۔ بقول کرنل ڈیورنڈ "وہ میری زندگی کے بدترین سولہ دن تھے جب دوران جنگ زخمی ہونے کے بعد میں نے بستر پر لیٹ کر انتہائی بےبسی اور پریشانی میں گزارا تھا۔ نلت قلعہ پر قبضہ کے باوجود ہماری افواج قلعہ کے قریب ہی خیمہ زن تھی اور جنگ ابھی جاری تھی اور میری پریشانی روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔
ڈیورنڈ اپنی تصنیف "دی میکنگ آف اے فرنٹیئر” میں لکھتے ہیں "ایک طرف وادیِ سندھ کے قبائل اور چترالی بغاوت کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اگرچہ گلگت اور بونجی محفوظ رہتے، مگر جنگ طول پکڑتی تو محاذ پر موجود فوج کو رسد پہنچانا ناممکن ہو جاتا کیونکہ پہاڈی درے بند ہو چکے تھے۔ اس نازک وقت میں جارج رابرٹسن کی موجودگی اور ان کا آہنی عزم ہی میرے اعتماد کا سہارا تھا۔”
 نلت کے قلعے پر قبضے کے بعد بھی دشمن کی دفاعی لائن توڑنا ایک معمہ بنا ہوا تھا۔ اس مہم کی ناکامی برطانوی راج کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی ۔بقول ڈیورنڈ ان کے پلان کے مطابق ہنزہ میون کے قلعہ پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہوئی تھی، وہ قلعہ انتہائی مضبوط تھا اس پر قبضہ کرنا ناممکن تھا کیونکہ میون کے قلعہ پر قبضہ کرنے کے لیے ان کے فوجیوں کو چھ سو گز تک ان چٹانوں کے نیچے سے گزرنا پڑتا تھا جو ہر جگہ سے دشمن کے قبضے میں تھیں، اور پھر نگر کی پوزیشن کے دائیں جانب پہنچنے سے پہلے دونوں کناروں سے ہونے والی شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑتا۔ دریا کی چٹانیں کئی سو فٹ بلند تھیں۔ صرف کہیں کہیں کوئی راستہ اوپر سطح مرتفع کی طرف جاتا تھا، اور ان معروف گزرگاہوں پر دشمن نے پانی بہا دیا تھا جو فوراً جم کر برف کی چادر بن گیا تھا۔ ایسی پگڈنڈیوں پر چڑھنا ناممکن معلوم ہوتا تھا، اور دشمن رات کے وقت دریا کے پاٹ میں آگ کے گولے پھینک دیتے تھے جس سے وہ جگہ پوری طرح روشن ہو جاتی تھی اور ہماری مشکل کو مزید بڑھا دیا تھا۔ چنانچہ دوسرے متبادل پر بھی کافی غور و خوض کے بعد یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا۔ 
وہ مزید لکھتے ہیں "اسی صورتحال میں ہمارے پاس​ صرف تیسرا راستہ باقی بچا تھا یعنی نلت کے سامنے والی چٹانوں پر چڑھنے کا راستہ تلاش کرنا اور براہ راست حملہ کرنا۔ بقول ای ایف نائٹ "مقبوضہ قلعہ نلت کی حفاظت کے لئے ایک چھوٹا سا دستہ چھوڑا گیا، فوج کا زیادہ حصہ قلعہ سے آدھا میل دور کاشت شدہ کھیتوں میں خیمہ زن ہوگیا، ہم نے نلت کے پار میون میں پہاڈوں کی اطراف میں دشمن کے ہر طرف پھیلے ہوئے مورچوں میں جھلملاتی ہوئی آگ دیکھی۔ سورج غروب ہونے پر شیر بچہ توپ اور دیگر نشانہ بازی بند ہو چکی تھی۔ راتوں رات جاسوسی مہمات راکاپوشی کے گلیشیئرز کی طرف جانے والے بڑے نالے (Ravine) تک بھیجی گئیں اور سامنے والی چٹان کا معائنہ کیا گیا۔ دشمن کی چوکیاں گلیشیئرز تک پھیلی ہوئی تھیں اور جتنا ہمارے آدمی آگے بڑھتے، چٹانیں اتنی ہی خطرناک ہوتی جاتیں۔ آخر کار ضرورت کے وقت ایک آدمی سامنے آیا۔ ‘ناگدو’ نامی ایک چھوٹے سے ڈوگرہ سپاہی نے ایک رات چٹان پر بارہ سو فٹ کی چڑھائی میں کامیابی حاصل کی اور ایک قابلِ عمل راستہ تلاش کر لیا، جس کے بعد نگر پر مورچہ زن دفاعی افواج پر حتمی حملے کی تیاریاں کی گئیں۔”
بقول ڈیورنڈ ​کئی دنوں تک انھوں نے کوئی حتمی خبر نہیں سنی تھی، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ فیصلہ کن لمحہ قریب ہے۔ آخر کار ایک صبح، کئی دنوں کی شدید بے چینی اور راتوں کے مسلسل درد کے بعد (جس نے انھیں نڈھال کر دیا تھا)، مینرز سمتھ (Manners-Smith) خوشخبری لے کر ان کے کمرے میں داخل ہوئے کہ پوزیشن پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور فوجیں نگر کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ کامیابی سیفورتھ ہائی لینڈرز کے کیپٹن کولن میکنزی کی کمان میں حاصل ہوئی تھی، جو لارڈ رابرٹس کے ایڈ-ڈی-کیمپ تھے اور ان کے ساتھ آئے تھے۔ ڈیورنڈ نے انہیں اپنی چھوٹی سی فوج کا کوارٹر ماسٹر جنرل مقرر کیا تھا۔ کمانڈر افسر کو سپلائی کے اہم معاملے کے لیے چند دنوں کے لیے گلگت واپس جانا پڑا تھا؛ ان کی غیر موجودگی میں ایک موقع ملا اور میکنزی نے، جو عارضی کمانڈ میں تھے، اسے لپک لیا۔ یہ کارروائی ان کے دوست نائٹ (Knight) کی کتاب "جہاں تین سلطنتیں ملتی ہیں” میں بہترین انداز میں بیان کی گئی ہے، اور اسے کسی ایسے شخص کی طرف سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں جو وہاں موجود نہ تھا۔
نگر کی اس دفاعی لائن کو توڈنے کے متعلق ائ ایف نائٹ لکھتے ہیں کہ”نلت نالے کے اوپر قلعہ کی دیواروں اور پہاڈی کے کنارے پر روڈ بنانے والوں کی حفاظت کے لیے توپیں لگائی گئیں اسی دوران ہماری مخالف سمت کی دیوار سے درجن سے زائد رائفلوں سے کنجوتی نشانہ بازوں نے اپنے جنگی لیڈران سے ہدایت لے کر برطانوی فوج کے ہجوم پر فائرنگ شروع کر دی اور وہ دشمن کی گولیوں کی زد میں آئے ۔ برطانویوں کے تین آدمی مارے گئے اور پانچ ذخمی ہوئے ، خود کیپٹن گارٹن بھی بری طرح زخمی ہوئے۔ نیز بیڑی کے کچھ خچر بھی دشمن کی فائرنگ کی زد میں ائے۔ اسی دوران انگریزوں کا ایک اور سپاہی بھی مارا گیا۔ یہاں کنجوتی ان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار بیٹھے تھے۔انگریز سپاہ کے اوپر والی چٹان سے گولیوں کی بارش ہونے لگی۔ دشمن کی ایک گولی مچل کے چھاتی پر لگی لیکن وہ خوش قسمتی سے بچ گیا۔ نیچے نلت میں تمام ملک یہ تہیہ کئے ہوئے تھا کہ وہ اس جگہ ہی مقابلہ کریں گے ایک مورچہ انہوں نے قبضہ میں بھی لیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا وہ قلعہ واپس لینے کا سوچ رہے تھے۔
​بقول ای ایف نائٹ، اسی دوران ایک آدمی مشک پر دریا عبور کر کے بحفاظت ان کے پاس آیا۔ وہ ہنزہ کے راجہ کا ایک خط لایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ راجہ امن کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کرنل ڈیورنڈ کے دیے گئے الٹی میٹم کے مطابق انگریز سرکار کے مطالبات ماننے کو تیار نہیں تھا۔ راجہ میر صفدر علی خان نے مستقل مزاجی سے اس بات کا تہیہ کیا تھا کہ وہ اپنے ملک میں سڑک تعمیر کرنے نہیں دے گا۔ صفدر خان کے ایلچی نے انھیں اشارہ دیا کہ نلت پر قبضہ ایک معمولی بات ہے اور اس پر ہمیں اترانا نہیں چاہیے، کیونکہ اس بات کا اس کے جرنیلوں کو کم و بیش پہلے سے اندازہ تھا۔ لیکن انگریزوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اس طرح کے ناقابلِ عبور دفاع کے سامنے اس سے آگے بڑھنا ان کے لیے ناممکن ہوگا ہنزہ میں ہر مورچہ میں لڑاکا موجود تھے ان کے پاس ایک بڑی شیربچہ توپ کے علاوہ چار چھوٹی پویپں بھی تھی وہ ایک بہترین دفاعی پوزیشن میں تھے۔ انگریز کوشس کے باوجود ہنزہ میون کے قلعہ پر قبضہ میں ناکام ہو چکے تھے۔ 
میر صفدر علی خان کا ایلچی انگریز پولیٹیکل افسر کا جوابی خط لے کر واپس چلا گیا، جس میں راجہ ہنزہ کو بتایا گیا تھا کہ جب تک وہ برٹش انڈیا کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، جنگ جاری رہے گی۔ آدھے گھنٹے بعد ہلکے توپ خانے اور رائفلوں کا غیر معمولی تبادلہ شروع ہو گیا اور یوں لگا جیسے اس بے کار صلح کاری سے محض وقت کا ضیاع ہوا۔ اس کے ​دو دنوں کے اندر انگریزوں نے نگر پر قبضہ کر لیا لیکن سخت مقابلے کے بعد انھوں نے اس اہم دفاعی پوزیشن پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس خونی معرکے میں انگریزوں نے نچلے مورچے اور قریبی دفاعی پوسٹوں سے 118 افراد کو قیدی بنایا تھول کی سفر کے دوران قیدیوں میں سے چند کنجوتی اپنی ضد کی وجہ سے ڈٹے ہوئے تھے اس طرح بائیس کو گولی ماری گئی ۔ انگریز سپاہ کے چھ جوان مارے گئے اور 27 زخمی  ہوئے تھے۔ بقول نائٹ بیس دسمبر کی فتح صرف کشمیری باڈی گارڑ رجمنٹ کے سپاہی نگڈو کی وجہ سے ممکن ہوا اس کی بہترین جاسوسی کے بعد انگریز نے اس اہم دفاعی پوزیشن قبضہ کیا تھا بعد میں یہ پتہ چلا کہ دشمن کے اسی سے زائد افراد مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر افراد نگر کے تھے  جبکہ چند افراد ہنزہ میون کے تھے جن جو نالے کے پار اپنے مورچوں سے مسلسل انگریز افواج پر گولیاں برساتے رہے تھے اسی دوران  اٹھارہ دنوں تک انگریز سپاہ نگر میں خمیہ زن رہے اور ہنزہ کے مورچوں پر فائرنگ جاری رہی۔ انگریز افواج کی بندوقوں اور رائفلوں نے ان کو مجبور کر دیا تھا کہ  وہ اپنے قلعہ بند دیہاتوں میں رہیں۔ بقول نائٹ "دوسری طرف ان کے نشانہ بازوں نے  ہم میں سے کسی کو بھی نلت قلعے کی منڈیر پر سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا تھا۔ان میں سے ایسے آدمی تھے جو لمبی رینج کے ہتھیار استعمال کرنا بخوبی جانتے تھے۔ ہنزہ کے جنرل کا طریقہ تھا کہ وہ سارا دن زیارت کے قلعے پر ہاتھ میں دوربین اور رائفل لئے ہماری جاسوسی کرنے اور ہم پر گولیاں برسانے کے لیے کھڑا رہتا تھا اس امید کے ساتھ کہ کھبی نہ کھبی شیربچہ توپ ہمارے کیمپ کے وسط میں کوئی گولہ پیھنک دے گی”۔
ای ایف نائٹ کے بقول وہاں ایک بہادر ہنزہ کا کنجوت جنگجو تھا جس نے ایک دن مایون نالہ پار کیا اور دریا کی سایئڈ سے بالکل ہمارے قریب کمپ کے مخالف سمیت پوزیشن سنبھال لی اور انگریزوں پر اس وقت تک گولیاں برساتا رہا جب تک مالونی کی توپ کے شل سے اس کو نشانہ بنایا نہ گیا۔ پس یہ تسلیم کیا گیا کہ وہ مارا جاچکا ہے۔ ہنزہ کے پہاڑیوں پر فائرنگ سنائی دے رہی تھی جہاں ثابت قدم ہنزائی اپنے راجہ کے فرار ہونے کے بعد بھی اپنے مورچوں میں موت کا کھیل کھیل رہے تھے۔
 ہنزہ نگر کے اس جنگ میں چار برطانوی افسران کے علاوہ چالیس دیگر فوجی بھی مارے گئے.
بقول ای ایف نائٹ” نگر پر مکمل قبضہ کے بعد ہم نے ہنزہ کے لوگوں کو پیغام بیجھا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کو کوئی نقصان نہیں پنچائیں گے یہ موسم وادی میں فصلیں بونے کا تھا، ان کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا تھا جلاوطن وزیر ہمایون بیگ کے حمایتی جنگ نہیں چاہتے تھے کیونکہ ان میں سے ایک بڑی جماعت ہنزہ کے راجہ صفدر خان کی مخالف تھی۔
 کیونکہ وہ اپنی رعاریہ سے بے وفائی کرتے ہوئے ملک چھوڑ کر فرار ہوا تھا اس لیے وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ کسی شرائط پر سمجھوتہ ہو جائے ۔ ایک دن دریا ہنزہ کے مخالف کنارے پر چند آدمی دیکھے گئے جن پر انگریز فوجیوں نے اس وقت تک فائرنگ کی جب تک اس بات کی شہادت نہ ملی کہ ان لوگوں کا لڑنے کا ارادہ نہیں ہے”۔ وہ انگریزوں سے گفت و شنید کرنا چاہتے تھے۔  ان کے بزرگوں کا ایک وفد دریا پار کرکے نلت مزاکرات کے لیے ائے وہ ہنزہ کے با اثر خاندانوں کے چودہ آدمی تھے۔
وزیر ہمایون کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مسائد اللہ بیگ ایڈوکیٹ کے بقول اس مذاکراتی وفد میں وزیر ہمایوں کے حقیقی بھائی محمد رضا بیگ بھی شامل تھے۔  انگریزوں کی یقین دہانی پر کہ وہ ان کو نقصان نہیں پنچائیں گے اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ، ہنزہ کے قبائلیوں نے بغیر کسی لڑائی کے تاج برطانیہ کی اطاعت قبول کر لی ۔ 
 قبائلیوں کی ایک جماعت نے انگریز فوج کو ہنزہ میں داخل ہونے کے لئے دریا ہنزہ پر عارضی پل تیار کرنے میں ان کی مدد کی۔  گلگت بلتستان کا نامور دانشور عزیز علی داد کا کہنا ہے کہ "نگر کی ریاست کی شکست کے ساتھ ہی ہنزہ کا دفاع تحلیل ہوگیا اور یہاں کے سرکردہ افراد انگریزوں سے مزاحمت کی بجائے خوشامد تک اتر آئے۔ مایون کے بعد ہنزہ میں انگریزوں کو کوئی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔” بقول عزیز علی داد "انگریز افواج کے ہنزہ میں داخلے میں سہولت پیدا کرنے کے لئے پل بنانا سہولت کاری ہی ظاہر کرتا ہے ناکہ مزاحمت۔  بعض لوگ ان مذاکرات کو ہنزہ کی دانشمندی قرار دیتے ہیں جو حقیقت میں شکست خوردہ سوچ کا اپنی کمزوری کو اچھا نام دینے کا نفسیاتی عمل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ میر صفدر خان کے فرار کے بعد ہنزہ میں قوت کا کوئی مرکز نہیں رہا۔”
 ہنزہ کے وفد سے مذاکرات کے مطابق پل تیار ہوتے ہی اگلی صبع کپٹن ٹوگ ، لفٹیننٹ بواسرگون اور ایک سو گورکھا جوان نگر سمائر سے ہنزہ راجہ کا محل قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ بقول ای ایف نائٹ” ہنزہ کے جنگجوں نے سال قبل ڈوگرہ کی تمام فوج کو قتل کیا تھا اس لیے انھیں پریشانی لاحق تھی کہ راجہ واپس آکر حملہ نہ کریں یا یہ مذاکرات قبائلیوں کی کوئی چال نہ ہو  یا پھر قبائلیوں کا ذہن بدل نہ جائے، لہذا کسی بھی حملے کی صورت میں فوجی دستوں کو تیار رکھا گیا۔اور ان چودہ قبائلیوں کو بطور ضمانت انگریزوں نے نگر میں اپنے پاس رکھا۔ ان کی زندگی انگریز فوجیوں کی زندگی ان کے ساتھ مشروط تھی۔ پونیال کے راجہ اکبر خان اور استور کا راجہ بہادر خان انگریزوں کے ساتھ تھے۔ ان کا ہنزہ نگر کے راجوں کے ساتھ رشتے تھے۔ ہنزہ کے قبائلیوں نے وعدہ خلافی نہ کی کیونکہ راجہ کے فرار ہونے اور اس کے ظلم و جبر سے لوگ ناخوش تھے۔ اس طرح انگریزوں نے ہنزہ پر قبضہ کیا اور ان کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ بقول کرنل ڈیورنڈ کنجوتیوں (ہنزہ کے جنگجوؤں) نے اپنا بہترین دفاع کیا لیکن وہ ان مقابلہ نہ کر سکے۔ 
 بقول ڈیورنڈ "میرے دوست ہمایوں جو ہنزہ کے سابق وزیر تھے، قدرتی طور پر ہمارے ساتھ رہے تھے اس سے دوبارہ ہنزہ کا وزیر بنایا گیا ۔ بقول ای ایف نائٹ ہنزہ میں وزیر ہمایون کے بہت سے دوست تھے اور بڑی جماعت اس کی حمایت کو تیار تھی ہمیں ایسے ہی آدمی کی ضرورت تھی لہذا ہمارے ریذیڈنٹ  نے اس سے چترال سے بلایا تھا اور اس وقت جب میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں اس وقت ہمایوں بیگ واپس ہنزہ میں اپنے عہدے پر معمور ہو چکا ہے۔” 
 کرنل ڈیورنڈ نے ہنزہ نگر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے امپئرئل سروس رجمنٹ کے چھ سو ادمی عارضی طور پر وہاں چھوڑے۔ ملک کی سویلین حکومت کے انتظامات مقامی راجوں کے ہی سپرد کیا جبکہ باقی فوج کو واپس گلگت بلایا، اور کپٹن ٹاوشیڈ کو ملیڑی گورنر مقرر کیا گیا۔بعد ازاں کرنل ڈیورنڈ نے مقامی لوگوں پر مشتمل ہنزہ نگر لیوئز قائم کی۔
بقول کرنل ڈیورنڈ یہ ایک کھلا راز تھا کہ ہنزہ کا راجہ صفدر علی خان  شمال سے مدد کی امید لگائے بیٹھا تھا اور اس نے تاشقند میں روسیوں کے پاس ایک سفارت بھیجی تھی۔ گورنر جنرل نے کسی بھی امداد سے انکار کر دیا تھا، لیکن تمام اطلاعات کے مطابق ان کے عملے نے بہت مختلف زبان استعمال کی تھی، اور صفدر علی خان نے بظاہر اپنے قاصد کی لائی ہوئی رپورٹس کو اہمیت دی تھی۔ میرے الٹی میٹم کے جواب میں اس نے مجھے تین سلطنتوں: ہنزہ، روس اور چین کے غیظ و غضب کی دھمکی دی تھی۔ جس مدد کی توقع تھی وہ نہیں آئی اور "سکندر کی نسل” کا وہ دعویدار اب جلاوطن تھا۔ اس چھوٹی سی جنگ کا نتیجہ ایک معروف روسی مدبر کے الفاظ میں بہتر طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، جس نے ہنزہ پر ہمارے قبضے کی خبر سن کر کہا تھا: "Ils nous ont fermés la porte au nez” (انہوں نے ہمارے منہ پر دروازہ بند کر دیا ہے)۔ 
بقول کرنل ڈیورنڈ اس جنگ میں کامیابی پر ملکہ برطانیہ نے انگریز ​افسروں اور جوانوں کی بہادری کو مناسب طور پر نوازا ۔ ایلمر (Aylmer)، بوئسراگون (Boisragon) اور بہادری سے کمان کرنے پر مینرز سمتھ کو گریٹ برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ‘وکٹوریہ کراس’ سے نوازا، اور مقامی فوج کے رینک اینڈ فائل میں وکٹوریہ کراس کے مساوی متعدد ‘آرڈرز آف میرٹ’ تقسیم کیے گئے۔ 
 بقول ای ایف نائٹ ہنزہ نگر مہم اب ختم ہوچکی تھی اب یہاں  کاشت کاری کا موسم شروع ہوا تھا
وادی میں فصلیں بونے کا وقت تھا  فتح کے بعد جب میں نے دونوں ملکوں میں کھیتی باڈی دیکھی تو اندازہ ہوا کہ کنجوتی بہادر ڈاکوں کے ساتھ ساتھ بہترین کاشتکار بھی تھے۔ دنوں راجاوں کے قلعوں سے اسحلہ بارود سمیت بدقسمت یارقندی کی بنائی ہوئی ہنزہ محل کی بڑی توپ کو رضاکارانہ طور پر اٹھا کر بطور ٹرافی گلگت لے آئے اور ایک سو دس لوگ اس سے لے کر گلگت لائیں تھے، جبکہ چار دوسری شیر بچہ توپیں بھی گلگت لائی گئی جبکہ نگر نلت قلعے سے بھی ایک توپ قبضے میں لیا تھا۔  
شیر بچہ توپ کی کہانی یوں ہے کچھ سال قبل ایک پارقندی  اسلحہ ساز دینار بیگ  یارقند سے ہنزہ آیا تھا اس نے راجے کا قلعہ دنیا کے مقابلے میں لانے اور دفاعی طور پر اس سے مضبوط بنانے کے لئےایک توپ بنانے کی پیش کش کیا ۔ راجہ نے رضامندی کا اظہار کیا اور تمام دیہاتوں سے تانبے کے برتنوں اکھٹا کرکے اس دھات سے اس چینی  نے ایک بڑی توپ بنائی، اس قبل ہنزہ میں اس طرح کی توپ کھبی نہیں دیکھی گئی تھی ہنزہ کا راجہ بہت خوش ہوا اور یہ سوچ کر اس اسلحہ ساز کو قتل کرنے کا حکم دیا کہ ملک نگر اور ڈوگرہ فوج یا کوئی اور اس طرح کی توپ نہ بنوائے۔ کہا جاتا ہے اس  بدقسمت یارقندی کے قتل کے بعد راجہ نے اس سے بہت زیادہ خراج تحسین پیش کیا۔ 
بقول کرنل ڈیورنڈ ہنزہ نگر کی ریاستوں کے داخلی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔ شاید ان کے ذہن میں اینگلو افغان جنگ 1842 کی بدترین تجربہ نقش تھا۔ 
بقول ای ایف نائٹ” نگر پر مکمل قبضہ کے بعد راجہ عذر خان اور اس کا کزن ہنزہ کا راجہ صفدر خان اپنے چار سو لوگوں کے ہمراہ سرحد پار شمال کی طرف بھاگ نکلے تھے۔ لیکن جانے سے قبل انہوں نے نہ صرف ہنزہ کا خزانہ بلکہ بہترین قسم کی رایفلیں بھی ساتھ لے گئے تھے ۔ وہ وادی ہنزہ کے سر پر واقع درہ کلک کو عبور کرکے چائینہ ترکستان کے علاقے تاشغرغن کی جانب نکل گئے تھے۔ بقول ای ایف نائٹ ایک آدمی سے پوچھنے پر کہ راجہ کس طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا وہ بام دنیا ( دنیا کی چھت) عبور کرنے کے قریب ہیں، ہم نے پہلی بار کسی مقامی سے پامیر کے لیے بام دنیا کا لفظ استعمال کرتے ہوئے سنا تھا”۔ 
 بقول ڈیورنڈ "جنگ کے بعد راجہ عذر خان خود واپس کر اپنے اپ کو انگریز سرکار کے حوالے کیا اور اسے کشمیر جلاوطن کر دیا گیا جہاں وہ اب قید ہے جبکہ راجہ صفدر علی خان یارقند بھاگ گیا، جہاں وہ ایک چھوٹی سی جائیداد پر رہتا ہے جو چینیوں نے اس کے والد کو دی تھی جبکہ اس کا تند خو وزیر ‘دادو’ جلاوطنی میں ہی مر گیا۔ "
ہنزہ کے راجہ کی چین میں اس جائیداد کے متعلق میجر جان بڈولف اپنی کتاب” ہندوکش کے قبائل میں لکھتے ہیں کہ” 1847 ء میں یارقند میں بغاوت کے وقت ہنزہ کے بادشاہ ‘غضنفر خان’ نے چین کی مدد کی تھی، جس کے بدلے میں انہیں یارقند کے قریب ایک جاگیر اور ایک پیتل کی تختی دی گئی جس پر ہنزہ اور بیجنگ کی دوستی درج تھی۔ چین کی حکومت ہنزہ کے تھم/ راجے کو ایک مقررہ وظیفہ بھی دیتی تھی۔ ان حالات میں ہنزہ کے لوگ اکثر یارکند اور لیہہ کے درمیان قافلوں کو لوٹتے تھے اور لوگوں کو پکڑ کر غلام بنا لیتے تھے، جس کی وجہ سے ہنزہ بدخشاں کے غلاموں کے تاجروں کا مرکز بن گیا تھا۔ جبکہ سال 1878 ء میں کاشغر میں چینی اقتدار کی بحالی پر میر غزن خان  نے اپنے قدیم حقوق کی بحالی کے لئے چین کو درخواست کی تھی”۔
دوسری طرف ای ایف نائٹ کے مطابق نگر کے راجہ عذر خان کو چین کے ایک حفاظتی دستہ نے گلگت لا کر برطانوی افسران کے حوالہ کیا تھا ۔
جس سے بعد میں کشمیر لے جاکر قید کیا گیا ،دس سال قید میں رہنے کے بعد وہ وفات پا گئے ۔ ہنزہ نگر کے ان دونوں جنگجو راجاوں کی نسل آج بھی کشمیر اور چین میں آباد ہے ۔ واضع رہے ہنزہ نگر کی جنگ سے قبل ہی بلتستان ،استور گلگت، چلاس، پونیال یاسین  ڈوگرہ افواج کے قبضے میں تھے ۔
بقول ای ایف نائٹ بلا آخر گیارہ جنوری کو ان کی فوجیں فاتحانہ انداز میں گلگت میں داخل ہوئی مقامی لوگوں کا ہجوم فاتح فوج کو خوش آمدید کرنے لیے میدان میں جمع تھا گلگت کا راجہ علی داد جس کے باپ کو کچل دیا گیا تھا وہ ہمارے اعزاز میں موسیقی بکھیر رہا تھا۔اس جنگ کے بعد برٹش انڈین سرکار نے صفدر علی خان کے سوتیلے بھائی میر نظیم خان کو  ہنزہ کا نیا چیف مقرر کیا اور ہمایوں ان کے وزیر بنے، جبکہ نگر کے پرانے راجہ نے اپنی حکومت برقرار رکھی اور ان کے بیٹے سکندر خان کو جانشین مقرر کیا گیا اور ان دونوں راجاوں کے لئے پنشن مقرر کی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پنشن آج تک جاری ہے فرق اتنا ہے اب حکومت پاکستان  پنشن ادا کر رہی ہے۔
 نگر کے راجہ ظفر خان مرحوم کے پڑ پوتے راجہ زوالفقار احمد کے بقول” ہنزہ نگر کے تخت پر آپسی چپقلش کی وجہ سے نگر کی خود مختار ریاست انگریزوں کی تسلط میں چلی گئی۔  آگر مقامی لوگ تعاون نہ کرتے  تو انگریز یہ جنگ کھبی نہیں جیت سکتے تھے ۔
بقول راجہ زولفقار اس شکست کے بعد نگر کی خودمختار ریاست برطانیہ کی زیر نگیں ہوئی اور ماضی کی یہ ریاست آج کل ایک ڈسٹرکٹ ہے یہی صورت حال ہنزہ کی ہے”۔ 
اس تاریخی پس منظر میں مجھے دی گریٹ گیم کے مصنف پیڑ ہوپ کرک کے وہ تاریخی جملے یاد آتے ہیں کہ وسطی ایشیا پر بالادستی کے لئے روس اور برطانوی راج کے درمیاں کھیلی گئی یہ گریٹ گیم  درحقیقت مقامی لوگوں کے لئے زندگی اور موت کا مسلہ تھا اس عظیم کھیل کے بظاہر احتتام کے بعد اب مقامی لوگوں کی زندگی کا فیصلہ کلکتہ اور لندن میں بیھٹے ہوئے لوگ کر رہے تھے ان کی خود مختاری عملی طور پر ختم ہو چکی تھی، گریٹ گیم میں وسطی ایشیا کے پہاڈی علاقوں میں بسنے والے لوگ اہم نہ تھے بلکہ ان سرحدی علاقوں کی سٹرٹیجک لوکیشن اہم تھی جس پر قبضہ کرنے کے لئے تاج برطانیہ اور زار دوس کی سلطنتوں نے 1830 سے گریٹ گیم شروع کیا تھا ۔ اس پس منظر میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ریاست ہنزہ نگر پر برطانوی قبضہ پریوں کی کہانیوں کا خوشگوار احتتام نہ تھا بلکہ غلامی کی ایک نہ ختم ہونے والی نئی داستان تھی۔ ہنزہ نگر کی اس جنگ سے ایک بات بلکل واضع ہے کہ انہوں نے متحد ہو کر ایک عالمی سپرپاور کے ساتھ بہت ہی بہادری اور جرات کے ساتھ مقابلہ کیا تھا جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہنزہ نگر کے لوگ نہ مضبوط اعصاب کے لوگ تھے بلکہ ان کو اپنے اوپر پورا بھروسہ تھا جو ایک آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے، بقول ای ایف نائٹ "دشمن کے کچھ نشانہ بازوں نے آخر دم تک مقابلہ کیا اور بنا کسی لالچ کے مرتے دم تک لڑتے رہے۔ لیکن وہ ہار گئے۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک عالمی سپر پاور کے خلاف ہنزہ نگر کے وہ بہادر لوگ جنگ ہار کر بھی تاریخ میں امر ہوگئے، جنہوں نے اپنی دھرتی کے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔
 آج بھی ہم جب ہنزہ نگر کے مردوں اور خصوصا خواتین کو  K2 جیسی دنیا کی بلند ترین فلک بوس پہاڑوں کی بلندیوں کو بنا کسی خوف کے سر کرتے دیکھتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بہادری، جرات اور خوداعتمادی ہنزہ نگر کے لوگوں کی ڈی این اے میں شامل ہے۔ نیز یہ بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے گلگت بلتستان کے دیگر علاقہ جات کے لوگوں کے ساتھ مل کر جنگ آزادی گلگت بلتستان یکم نومبر 1947 میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button