ہاں میں غدار ہوں

تحریر: صادق حسین

جی ہاں
میں غدار ہوں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شمولیتی پروگرام ہوا، جہاں حافظ حفیظ الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے ضلع غذر کے بارے میں فرمایا کہ وہاں اینٹی اسٹیٹ عناصر جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور تعجب یہ کہ اسی حلقے سے نواز خان ناجی جیت بھی جاتا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم سادہ لوح لوگ ہیں، ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہم آخر کب غدار بن گئے؟ کیوں کہ راقم بھی اسی حلقے سے ہے۔۔
ضلع غذر ،،جسے سرزمینِ شہداء کہا جاتا ہے۔جہاں سینکڑوں قبریں خاموشی سے گواہی دیتی ہیں کہ اس مٹی کے بیٹوں نے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔کیا ان شہداء کے خاندانوں نے جب ووٹ ڈالا تو وہ بھی اینٹی اسٹیٹ ہو گئے؟
اگر کوئی نمائندہ اپنے علاقے کے حقوق کی بات کرے، تعلیم، صحت، روزگار اور آئینی شناخت کی بات کرے تو کیا وہ ریاست دشمن ہو جاتا ہے؟
اگر ووٹر باشعور ہو اور نعروں کے بجائے سوال پوچھ لے تو کیا وہ مشکوک ہو جاتا ہے؟
تو ٹھیک ہے۔۔۔ہاں میں غدار ہوں۔
کم از کم مجھے یہی بتایا گیا ہے۔

ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں اپنے بچوں کے لیے معیاری تعلیم مانگ رہا ہوں۔
ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں پہاڑوں کے بیچ رہ کر بھی انٹرنیٹ تک رسائی چاہتا ہوں۔
ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں مشترکہ اراضی کو اپنی زمین سمجھتا ہوں اور اس پر حق ملکیت کا سوال اٹھاتا ہوں۔
ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں پہاڑ کی چوٹی سے دریا کے کنارے تک اپنے علاقے پر قانونی اختیار کا دعویٰ کرتا ہوں۔

ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں آئینی شناخت مانگتا ہوں۔
میں کسی ملک کا مکمل آئینی شہری بننا چاہتا ہوں، آدھا ادھورا نہیں۔
جی ہاں، میں غدار ہوں، کیونکہ میں بھی خواب دیکھتا ہوں کہ ایک دن قومی اسمبلی کا رکن بنوں، شاید وزیراعظم بھی۔
خواب دیکھنا اگر جرم ہے تو سزا بھی سنادیں۔

ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں۔
ہاں میں غدار ہوں، کیونکہ میں ووٹ دیتے وقت مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرتا ہوں۔
ہاں ہم غدار ہیں، کیونکہ ہم عام انتخابات میں وفاق کی حکمران جماعت کے خلاف بھی ووٹ ڈال دیتے ہیں۔

ہاں ہم غدار ہیں، کیونکہ ہم کسی مفاد پرست کے آلہ کار نہیں بنتے۔
ہم غدار ہیں، کیونکہ ہم بجلی کا پورا بل ادا کرتے ہیں اور پھر بھی اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہیں۔
ہم غدار ہیں، کیونکہ ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ہر چمکتی چیز کو سونا نہیں سمجھتے۔
ہاں ہم غدار ہیں ہم اپنے حلقے میں دوسرے فقہ کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی خاندان کی طرح رہتے ہیں۔۔
ہاں ہم غدار ہیں ، میرے حلقے میں اسماعیلی جب اپنے امام سے ملنے دیدار گاہ جاتے ہیں تو اہل سنت اسماعیلیوں کے عبادگاہوں اور گھروں کی دن رات پہرہ دے رہے ہوتے۔۔
ہاں ہم غدار ہیں، ہم نے سوات، مینگورہ، چمن، پنجاب ، کوہستان، مانسہرہ کے تاجروں کو دل میں بسایا ہے۔۔

اگر حق مانگنا غداری ہے،
اگر سوال پوچھنا بغاوت ہے،
اگر شعور رکھنا جرم ہے
تو حضور!
ہم واقعی غدار ہیں۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، وہ غدار نہیں، باشعور شہری کہلاتے ہیں۔
اور باشعور شہریوں سے ڈر صرف وہی کھاتے ہیں جنہیں سوالوں سے خوف آتا ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button