بیرونی جارحیت اور مقامی مزاحمت: خالصہ اور ڈوگرہ دور (قسط اول)
تاریخ گلگت بلتستان
گلگت بلتستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ قدیم دور سے ہی اس علاقہ کی جغرافیائی و تزویراتی حیثیت نہایت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڈوں نے صدیوں تک یہاں کے مقامی باشندوں کو تحفظ فراہم کیا اور قدرت نے ان کی آزادی کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ لیکن تاریخ میں ایسے ادوار بھی آئے جب یہاں کے لوگ اپنی جغرافیہ کے ہی معتوب بنے، جس کی ایک اہم مثال تبت اور چین کی وہ جنگ ہے جب 722 عیسوی سے لیکر 747 عیسوی میں اس علاقہ کے روٹس پر قبضہ کرنے کے لئےتبتی سلطنت اور چین کی عظیم تانگ بادشاہت نے گلگت کی وادیوں میں ایک خونی جنگ لڑی جس کے نتجے میں گلگت بلتستان کی قدیم ریاست بلور ٹوٹ گئی۔ اس کے ساھ ہی پٹولہ شاہی یا بلور شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور یہ علاقہ چین اور تبت کی زیر نگین رہا۔ بقول کارل یٹمار "بلور کا نام پورے ملینیم میں استعمال ہوا ہے، تبت اور چین کی رساکشی نے بلور ریاست کے اندرونی معاملات کو متاثر کیا اور بیرونی دراندازی نے اس ریاست کے سیاسی نقشہ کو کافی حد تک تبدیل کر دیا۔”
مرزا حیدر دغلت اپنی تصنیف تاریخ راشدی میں لکھتے ہیں کہ "بلور کافروں کا ایک ملک ہے جو بدخشان اور کشمیر کے درمیان موجود ہے۔ ” ریاست بلور مشہور چینی سیاح فاہین سین 340 عیسوی اور یاتری ہوئی چوو آیو کے 770 عیسوی کے درمیانی دور میں موجود تھی۔
جب اندرونی انتشار اور بغاوتوں کی وجہ سے چین کے تانگ خاندان (Tang Dynasty) کی حکومت کو 907ء کو زوال آیا اور اس کا خاتمہ ہوا، تو بعد ازاں چین اور تبت سے یہ خطہ اس وقت دوبارہ آزاد ہوا ۔ اسی طرح تبت کی عظیم سلطنت جو 7ویں صدی سے 9ویں صدی تک وسطی ایشیا کی ایک طاقتور ریاست تھی، کا زوال نوویں صدی کے وسط میں شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے تبتی سلطنت کے زوال کا باقاعدہ آغاز 842ء میں آخری متحد حکمران لانگ دارما (Langdarma) کے قتل سے ہوا۔ ان کے قتل کے بعد جانشینی کی جنگ چھڑ گئی جس نے ریاست کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اس انتشار کی وجہ سے تبت میں کوئی مرکزی حکومت قائم نہ رہ سکی اور یہ علاقہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور قبائلی سرداروں میں بٹا رہا۔ اس طرح تبت کی سیاسی وحدت مکمل طور پر ختم ہو گئی اور تبت اپنی فتوحات کردہ علاقوں سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو گیا۔
اس پس منظر میں چینی تانگ بادشاہت اور تبت کی سلطنت کے زوال کے بعد گلگت بلتستان کا یہ علاقہ بیرونی قبضے سے آزاد ہوا اور مختلف حجم کی کئی خود مختار ریاستوں میں تقسیم ہوا جو وقت کے حوادث کے ساتھ پھیلتی اور سکڑتی رہیں۔ بعد ازاں گریٹ گیم کے دوران گلگت بلتستان کے لوگ ایک بار پھر سے اپنی جغرافیہ کے معتوب بنے۔
ماضی قریب میں یہاں 17 کے قریب چھوٹی بڑی ریاستیں قائم تھیں، جن میں گلگت، ہنزہ، نگر، پنیال، یاسین، اشکومن، کوہِ غذر، استور، سکردو، کھرمنگ، ٹولٹی، شگر، روندو، کیریس اور کھپلو شامل ہیں ان ریاستوں میں راجگی نطام تھا اور انتظام و انصرام راجگی نظام کے ساتھ قدیم علاقائی رواج کے مطابق چلایا جاتا تھا جبکہ دیامر چلاس ،داریل ،تانگیر میں راجگی نظام نہیں تھا ۔ دیامیر ریجن میں داریل ،تانگیر ، چلاس، گور اور کوہستان میں چھوٹی چھوٹی عوامی ریاستیں یعنی ری پبلکن ریاستیں تھیں جنہیں نوآبادتی میں یاغستان کے نام سے موسوم کیا گیا۔
خالصہ اور ڈوگرہ دور میں سب سے پہلے بیرونی جارحیت کا سامنا بلتستان کی سات چھوٹی ریاستوں کو کرنا پڑا، پہلے تو خالصہ سرکار یعنی پنجاب کی سکھ سلطنت نے حملے کئے بعد ازاں ریاست جموں و کشمیر کی ڈوگرہ افواج نے تاج برطانیہ کی مدد سے اس قبضے کو دوام بخشا۔
اگرچہ مغلوں نے بادشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں کشمیر پر حملہ کیا تھا، تاہم گلگت بلتستان ڈوگرہ حملوں تک ان کے اثر و رسوخ سے بڑی حد تک آزاد رہا۔
تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ 1840 میں پہلے پنجاب کی خالصہ فوج نے بلتستان پر یلغار کی، بعد ازاں کشمیر کی ڈوگرہ افواج حملہ آور ہوئیں اور آخر کار تاجِ برطانیہ کے کرنل ڈیورنڈ نے از خود اس خطے پر دھاوا بولا ریاست ہنزہ نگر چیلاس اور چترال پر قبضہ کیا اور یہاں کے باشندوں کی خودمختاری اور آزادی کو عملی طور پر ختم کیا اور یہی ہماری تاریخ کا تلخ سچ ہے۔ گلگت بلتستان پر پنجاب دربار اور ڈوگرہ یلغار کے ذریعے قبضہ کرنے کے بعد ریاستِ کشمیر میں شامل کیا گیا اور اس عمل میں تاج برطانیہ نے کلیدی کردار ادا کیا ۔
گلگت بلتستان پر بیرونی قبضے کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے "پنجاب دربار” کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اس کا سرا 1799 میں رنجیت سنگھ کے ہاتھوں لاہور میں پنجاب سلطنت کی بنیاد رکھنے سے جڑا ہے، جس نے زمان شاہ درانی کو شکست دے کر افغانوں کو پنجاب سے بے دخل کیا تھا۔
سکھ-افغان کشمکش کے اسی تسلسل میں رنجیت سنگھ نے 1819 میں کشمیر فتح کیا۔ اس مہم میں تین ڈوگرہ بھائیوں (گلاب سنگھ، سوچیت سنگھ اور دھیان سنگھ) نے بھرپور حصہ لیا۔ یہ تینوں اپنےے والد کشور سنگھ سمیت پہلے ہی لاہور دربار سے وابستہ تھے۔ ان کی خدمات کےصلے کے طور پر رنجیت سنگھ نے دھیان سنگھ کو اپنی کابینہ میں وزیر مقرر کیا اور ڈوگرہ خاندان کو جموں کا علاقہ بطور جاگیر عطا کیا۔ اس طرح کشور سنگھ جموں کے پہلے حکمران بنے اور سال22 -1821 میں ان کے بیٹے گلاب سنگھ ان کےجانشین مقرر ہوئے۔
ریاستِ جموں دراصل پنجاب سلطنت کے اندر ہی واقع تھی اور دھیان سنگھ لاہور دربار کا ملازم تھا۔ رنجیت سنگھ کی ایما پر گلاب سنگھ نے شمال کی سمت فتوحات کا آغاز کیا اور بھدرواہ، کشتواڑ اور چمبہ پر قابض ہو گیا۔ ڈوگروں نے 1834 میں پورگ (کارگل و سورہ) اور 1835 میں لداخ (لیہ و زنسکار) کو زیرِ نگیں کر لیا۔
بعد ازاں 1840 میں بلتستان کی فتح کا مرحلہ آیا۔ درحقیقت اس وقت سکردو کے راجہ احمد شاہ کے بیٹے محمد شاہ نے اپنے والد کے خلاف پنجاب کے سکھ حکمرانوں سے مدد مانگنے کے لیے سری نگر میں پناہ لی تھی۔ اس وقت وہاں خالصہ سرکار کی حکومت تھی ۔
کھرمنگ کا راجہ علی شیر بھی اپنے سسر راجہ احمد شاہ سے نالاں تھا۔ ان دونوں نے ڈوگرہ حکمرانوں کو گلگت بلتستان پر حملے کی دعوت دی۔ چنانچہ وزیر زورآور سنگھ کی قیادت میں ڈوگرہ افواج نے حملہ کر کے سکردو پر قبضہ کر لیا اور احمد شاہ کی جگہ محمد شاہ کو حکمران مقرر کیا۔
سکردو کے راجہ احمد شاہ بعد ازاں 1845 میں ڈوگرہ قید ہی میں وفات پا گیا۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے کے بعد ہی ڈوگرہ ریاست کی سرحدیں چین تک پھیل چکی تھیں جبکہ وادیِ کشمیر اب بھی پنجاب کی سکھ سلطنت کا حصہ تھی اور وہاں کا گورنر لاہور دربار سے مقرر ہوتا تھا۔
سال 1841 میں بلتستان میں پنجاب کی خالصہ حکومت کے خلاف ایک مقامی بغاوت ہوئی جس میں ڈوگرہ کمانڈر بھگوان سنگھ کو سکردو سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس تحریک کی قیادت شگر کے حیدر خان، روندو کے علی خان اور خپلو کے دولت علی خان کر رہے تھے، تاہم 1842 میں وزیر لکھپت رائے کی کمان میں خالصہ فوج نے اس مزاحمت کو کچل دیا۔ اس کے بعد سے اس خطے میں ڈوگرہ راج 1948 تک برقرار رہا۔
گلگت اور گرد و نواح کے حالات ذرا مختلف تھے۔
ہندوکش کے قبائل نامی کتاب کے مصنف گلگت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس جگہ کا قدیم نام سارگن (Sargin) تھا۔ بعد میں اسے گلیت (Gilit) کا نام دیا گیا، جبکہ سکھ و ڈوگرا فاتحین نے اسے بدل کر گلگت کر دیا، لیکن مقامی باشندوں میں یہ علاقہ اب بھی گلیت یا سارگن-گلیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی پہچان قدیم سنسکرت ادب کی ‘گہالتا’ (Gahalata) سے کی گئی ہے، سکالرز نے اس کی تصدیق بلور شاہی دور میں ہاتون راک انسکرپشن پر لکھی ہوئی شاہی اعلامیہ سے کی ہے۔
بقول جان بڈولف گلگت اپنی معتدل آب و ہوا، وسیع و عریض زرخیز زمین اور کلیدی جغرافیائی حیثیت کی بنا پر قدیم دور سے ہی حکمرانوں کا دارالخلافہ رہا ہے۔
1842 میں گلگت پر نگر کے راجہ سکندر شاہ کی حکومت تھی، مگر یاسین کے حکمران راجہ گوہر امان نے حملہ کر کے سکندر شاہ کو قتل کر دیا اور گلگت پر قابض ہو گیا۔ سکندر شاہ کے بھائی کریم خان نے لاہور دربار میں پناہ لی اور سکھوں سے امداد مانگی۔ لاہور دربار نے کشمیر کے گورنر کو کریم خان کی مدد کا حکم دیا، جس پر کرنل نتھو شاہ کی قیادت میں ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل سکھ فوج روانہ کی گئی۔ ڈاکٹر امر سنگھ چوہان کے مطابق، گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک قابل سید کمانڈر، جو کرنل کے عہدے پر فائز تھے، کی سربراہی میں سکھ رجمنٹیں بھیجی گئیں۔ نتھو شاہ کا سامنا گلگت بسین (Basin) کے مقام پر گوہر امان سے ہوا اور اسے شکست دی، جس کے بعد گوہر امان پنیال کی طرف پسپا ہو گیا۔
اسی سال ایک اور ڈوگرہ کمانڈر متھرا داس، کرنل نتھو شاہ کی جگہ لینے گلگت پہنچا، مگر گوہر امان نے شروٹ اور گلاپور کے میدانِ جنگ میں اسے عبرتناک شکست دی۔ ڈاکٹر امر سنگھ چوہان اپنی کتاب "گلگت ایجنسی” میں لکھتے ہیں کہ "متھرا داس بدحواس ہو کر سیدھا کشمیر کی طرف بھاگا۔ تاہم کرنل نتھو شاہ نے ہمت نہ ہاری۔ گوہر امان نے جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں طے پایا کہ گلگت پر سکھوں کا قبضہ رہے گا اور گلگت کے مغرب میں سرحد متعین کر دی گئی۔ اس مصالحت کے نتیجے میں کرنل نتھو شاہ نے کریم خان کو گلگت کا حکمران مقرر کیا، تاہم بیرونی حملے کے خوف سے ایک مشترکہ انتظامیہ تشکیل دی گئی”۔ امر سنگھ چوہان کے بقول، اس وقت کچھ سکھ فوجی ایک تھانیدار کے ماتحت گلگت میں تعینات تھے. یوں گلگت براہِ راست پنجاب کی سکھ سلطنت کے زیرِ اثر آ گیا۔ واضح رہے کہ یہ وہ دور تھا جب پنجاب میں سکھ بادشاہت قائم تھی اور جدید ریاستِ جموں و کشمیر کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ بعد ازاں 1845 میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور سکھ سلطنت کے درمیان پہلی اینگلو سکھ جنگ چھڑی۔ سکھوں کی شکست کے بعد 9 مارچ 1846 کو "معاہدہ لاہور” طے پایا، جس کے تحت سکھ اپنے مفتوحہ علاقوں بشمول گلگت سے دستبردار ہو گئے۔ محض ایک ہفتے بعد 16 مارچ 1846 کو برطانوی حکومت اور گلاب سنگھ ڈوگرہ کے درمیان "معاہدہ امرتسر” ہوا، جس کی رو سے انگریزوں نے سکھوں سے چھینے گئے علاقے 75 لاکھ نانک شاہی کے عوض گلاب سنگھ کو فروخت کر دیے۔ اس سودے میں گلگت بلتستان کے وہ حصے بھی شامل تھے جو سکھوں نے 1842 کے بعد فتح کیے تھے۔ اس پر پنڈت پریم ناتھ بزاز نے تاریخی جملہ کہا کہ: "بیس لاکھ انسانوں اور گلگت کو بھیڑ بکریوں کی طرح بیچ دیا گیا۔” دیگر ماہرین نے اسے ‘کشمیر کی جنت’ کا سستا سودا قرار دیا۔ یہ تاریخ کی ایک بے مثال اور غیر اخلاقی تہذیبی تجارت تھی، جہاں دو غاصبوں نے لٹل پامیر سے ہمالیہ تک کے جغرافیے اور انسانی جانوں کا سودا کیا۔
اسی المیے پر ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا:
دہقاں و کشت و جوئے و خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
دلچسپ بات ہے کہ 1846 میں ریاست کشمیر کے قیام کے بعد کرنل نتھو شاہ اور ان کے سکھ فوجیوں نے اپنی خدمات گلاب سنگھ کی ڈوگرہ افواج کے سپرد کر دیں۔ گلگت اور استور میں پنجاب دربار کا سکھ پرچم اتار کر ڈوگرہ جھنڈے لہرا دیے گئے۔ 1847 میں سرحدی امور کی نگرانی کے لیے برطانوی کمیشن (کیپٹن ینگ ہسبنڈ اور لیفٹیننٹ اینجیو) گلگت پہنچا۔ جب برطانوی افسران نے ہنزہ کا دورہ کرنا چاہا تو راجہ غزن خان نے اسے مداخلت قرار دیتے ہوئے نتھو شاہ کو موردِ الزام ٹھہرایا اور گلگت کے پانچ دیہات لوٹ لیے۔ اس کے جواب میں نتھو شاہ نے ہنزہ پر حملہ کیا، مگر اس کی فوج تباہ ہو گئی اور وہ خود راجہ کریم خان سمیت مارا گیا۔ کریم خان کے بعد راجہ محمد خان دوم جانشین بنا۔ گوہر امان اور ڈوگرہ افواج کے درمیان معرکہ آرائی جاری رہی۔ یاسین کے راجہ گوہر امان اور داریل کے عوام نے ڈوگروں کے خلاف محاذ کھول دیا۔
‘تاریخِ جموں’ کے مصنف حشمت اللہ خان کے مطابق، "یہ شورش اس قدر بڑھی کہ مہاراجہ ان تمام علاقوں سے محروم ہو گیا جو دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع تھے”۔
ڈوگرہ افواج نے 1852 میں چلاس اور 1856 میں داریل پر قبضہ کیا، مگر اس کے لیے انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، داریل پر مستقل قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے البتہ چلاس پر قبضہ برقرار رکھا۔
دریائے سندھ کے کنارے بھوپ سنگھ کی قیادت میں ڈوگرہ فوج اور راجہ گوہر امان کے درمیان ایک ہولناک جنگ ہوئی، جس میں مقامی جنگجوؤں نے ڈوگرہ فوج کو سات دن تک محصور رکھا۔ اس جنگ میں تقریباً ایک ہزار ڈوگرہ سپاہی ہلاک ہوئے اور بچ جانے والوں کو غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔ گلگت فورٹ اور نوپور گیریژن میں تعینات گورکھا فوجیوں کو ان کے خاندانوں سمیت قتل کر دیا گیا؛ صرف ایک خاتون دریائے سندھ عبور کر کے بونجی پہنچنے میں کامیاب ہوئی، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ گائے کی دم پکڑ کر تیرتی رہی تھی۔
گوہر امان کے دوبارہ قبضے کے بعد راجہ محمد خان دوم کشمیر فرار ہو گیا۔ یوں ڈوگروں کو عملی طور پر دریائے سندھ کے مغرب سے نکال دیا گیا۔ تاہم بلتستان پر ان کی گرفت مضبوط رہی۔ 1857 میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی وفات ہوئی اور اس کا بیٹا رنبیر سنگھ تخت نشین ہوا، جو جنگِ آزادیِ ہند کو کچلنے میں انگریزوں کی مدد کر رہا تھا۔ 1860 میں ڈوگرہ فوج نے جنرل دیوی سنگھ کی قیادت میں دوبارہ گلگت کا رخ کیا۔ عین اسی وقت گوہر امان کی قدرتی موت واقع ہو گئی، جس سے ڈوگروں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے گلگت، پنیال اور یاسین پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے سکھ اور ڈوگرہ قبضے کے خلاف ایک طویل جدوجہد جاری رکھی۔ بلتستان ، دیامر ، گلگت، ہنزہ نگر کے لوگوں کی مزاحمت اور یاسین کے راجہ گوہر امان کا دور بیرونی قبضے کے خلاف جہدوجہد کا ایک استعارہ ہے جس کے وفات کے بعد ڈوگرہ افواج نے نہ صرف گلگت پر دوبارہ قبضہ کیا بلکہ یاسین مڈوری قلعہ میں قتل عام کیا۔جس کا ذکر اس مضمون کے اگلے قسط میں ہوگا۔





