گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتوں کا مستقبل
تحریر: تنویر احمد
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے اور اس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ پاکستان سمیت گلگت بلتستان میں بھی اس واقعے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بعض مقامات پر یہ احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گئے جس کے نتیجے میں 16 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔ وہیں کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا اور کئی عمارتیں آگ کی نذر ہو گئیں۔
تاہم اس تمام صورتحال کا ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ان واقعات نے گلگت بلتستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں میں ایک نئی سیاسی توانائی پیدا کر دی ہے۔ ایسے وقت میں جب خطے میں رواں سال صوبائی اسمبلی کے انتخابات متوقع ہیں، تیزی سے بدلتی سیاسی فضا نے خاص طور پر وفاق پرست سیاسی جماعتوں کو ایک کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
ایران پر حملے کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت کی پالیسی کو لے کر بھی شدید ردِعمل سامنے آیا۔ گلگت بلتستان میں اہلِ تشیع قیادت نے احتجاجی مظاہروں کے دوران کھل کر وفاقی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یکم مارچ کو ہونے والے مظاہروں میں بعض رہنماؤں نے واضح پیغام دیا کہ اس ناراضی کا اظہار آئندہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔
اگر اس صورتحال کا انتخابی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ دباؤ پاکستان مسلم لیگ (ن) پر پڑنے کا امکان ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ گلگت بلتستان میں اہل تشیع آبادی ایک بڑا اور فیصلہ کن ووٹ بینک رکھتی ہے۔ گلگت، ہنزہ، نگر، استور اور بلتستان ڈویژن کے اضلاع میں یہی ووٹ کسی بھی جماعت کی سیاسی کامیابی یا ناکامی کا رخ متعین کر سکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) پہلے ہی گلگت بلتستان میں اندرونی اختلافات اور تنظیمی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں اس جماعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اگر اہل تشیع ووٹ بینک بددل ہو کر کسی اور سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے تو اس کے انتخابی امکانات شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے پارٹی قیادت کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مذہبی قیادت کے ساتھ بامقصد مکالمہ کرے اور اعتماد کی فضا بحال کرنے کی کوشش کرے۔
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی اہم امیدوار بھی ایسے حلقوں سے انتخاب لڑتے ہیں جہاں ایک مخصوص مسلک کے ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے مقامی مذہبی اور سماجی قیادت کے ساتھ رابطوں کو مضبوط کرنا ہو گا۔
گلگت بلتستان کی سیاست کا ایک تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ سامنے آ جاتا ہے جو خطے کے سیاسی ماحول کو متاثر کر دیتا ہے۔ بعض اوقات یہ واقعات فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور انتخابی سیاست کو مذہبی یا لسانی بنیادوں پر تقسیم کر دیتے ہیں۔
موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا پلڑا نسبتاً بھاری ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو گلگت، نگر، استور اور بلتستان ڈویژن کے چار اضلاع میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کو انتخابی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ گلگت شہر کے تینوں حلقوں میں بھی ایک مخصوص فریق کے اجتماعی فیصلے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ایسے میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ سمیت دیگر وفاق پرست جماعتوں کی قیادت کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہیں عوام کو یہ باور کرانا ہوگا کہ بعض عالمی یا وفاقی سطح کے معاملات صوبائی قیادت کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں، تاہم مقامی سطح پر عوام کے مسائل اور جذبات کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کی تمام وفاق پرست سیاسی جماعتیں خطے کی موجودہ نازک صورتحال کا جامع جائزہ لیں اور ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں جو نہ صرف ان کی سیاسی ساکھ کو بحال کر سکے بلکہ گلگت بلتستان کی سیاست کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگنے سے بھی بچا سکے۔
ایک اور امکان جس پر سیاسی حلقوں میں بات ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کو اپریل یا مئی کی بجائے اکتوبر تک موخر کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وفاق پرست سیاسی جماعتوں کو نہ صرف اپنی صفیں درست کرنے بلکہ ناراض مذہبی قیادت کو منانے اور سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بھی کچھ مہلت مل سکتی ہے۔
بہرحال آنے والے مہینے گلگت بلتستان کی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہونے جا رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا سیاسی جماعتیں اس بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا کر عوام کا اعتماد بحال کر پاتی ہیں یا پھر خطے کی سیاست ایک نئے رخ پر گامزن ہو جاتی ہے۔






