سعدی شیرازی: انسانیت اور اخلاق کے معلم
ڈاکٹر مہدی طاہری
ایرانی شمسی ہجری کیلنڈر میں یکم اردی بهشت (کے مہینے) کا دن فارسی ادب کی ایک عظیم ترین اورقابل فخر شخصیت ، یعنی سعدی شیرازی کی یاد منانے کے لیے مخصوص ہے۔ فارسی زبان بولنے والے شخص کے طور پر میرا یہ اعتقاد رہا ہے کہ شیراز کے اس معروف دانش مند، سعدی کی آواز نہ صرف ایران کے لیے ایک قومی خزانہ ہے بلکہ دلوں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل اور پوری انسانیت کے لیے ایک عالمی ورثہ بھی ہے۔ اس تحریر میں میں اختصار کے ساتھ ان کی شخصیت اور برصغیر، خصوصاً پاکستان کی ادبی فضا پر ان کے اثرات کا جائزہ لوں گا، نیز سعدی ہی کی زبان میں اس جنگ اور جارحیت کی مذمت بھی کروں گا جو آج ان کے وطن ایران پر مسلط کر دی گئی ہے۔
سعدی کی شخصیت اور مقام
شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی (تقریباً ۶۰۶–۶۹۱ ہجری قمری) عالمِ اسلام کے عظیم ترین شعرا اور ادبا میں شمار ہوتے ہیں، جن کی تالیفات نے زبان، قوم اور زمانے کی سرحدوں کو عبور کر رکھا ہے۔ وہ شیراز میں پیدا ہوئے، بغداد میں تعلیم حاصل کی، اور شام، حجاز، ہندوستان اور وسطی ایشیا کے طویل سفر کیے۔ ان وسیع انسانی تجربات کو انہوں نے اپنی لازوال تصانیف — گلستان اور بوستان — میں سمو دیا۔
سعدی صرف شاعر نہیں بلکہ انسانی اخلاق کے معلم ہیں۔ ان کی گلستان کا ایک جملہ — “بنی آدم اعضای یک پیکرند” — اقوام متحدہ میں کندہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے۔
برصغیر کے شعر و ادب پر سعدی کے اثرات
سعدی کا اثر اردو، فارسیِ ہند اور پنجابی ادب پر نہایت گہرا اور دیرپا رہا ہے:
اقبال لاہوری — جو پاکستان کے فلسفی شاعر ہیں — سعدی کو اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔ اقبال نے بارہا اپنے اشعار میں سعدی کی دانائی کا حوالہ دیا اور ان کے اخلاق و آہنگ کے اسلوب کو اپنے لیے نمونہ بنایا۔ ان کی معروف نظم “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” میں سعدی کی اخلاقیات کی روح جھلکتی ہے۔
میر تقی میر، غالب، ذوق اور دیگر کلاسیکی اردو شعرا نے براہِ راست گلستان اور بوستان سے استفادہ کیا۔ برصغیر کے مکتب خانوں میں صدیوں تک گلستانِ سعدی کو فارسی کی ابتدائی درسی کتاب کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔ دوسرے الفاظ میں، خود سعدی کے زمانے سے ہی ان کی موجودگی اور ان کی تالیفات برصغیر میں اس قدر وسیع پیمانے پر موجود تھیں کہ ان کی یہ کتابیں مدارس اور ادبی حلقوں کے نصاب کا حصہ بن گئیں۔
یہ اثر صرف فارسی تک محدود نہ رہا بلکہ سندھی، اردو اور بنگالی جیسی مقامی زبانوں کے بڑے شعرا کو بھی متاثر کیا۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے شہر حیدرآباد میں سندھی ادب پر سعدی کے افکار کے اثرات کا ادبی تحقیقات میں متعدد بار جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔
آج کے پاکستان میں بھی سعدی کو ایک خاص مقام حاصل ہے — فارسی زبان ہمارا مشترکہ ثقافتی رشتہ ہے اور سعدی اس رشتے کی علامت ہیں۔ حتیٰ کہ عام لوگ اردو میں بھی سعدی کے اشعار اور اقوال کو دہراتے رہتے ہیں۔
جنگ اور بے گناہوں کے قتلِ عام کے ردعمل میں سعدی کی نصیحتیں
آج کے دور میں جب دنیا دوبارہ جنگ اور جارحیت کے باعث پیدا ہونے والی تکالیف کا مشاہدہ کر رہی ہے، تو سعدی کا پیغام ایک روشن چراغ کی مانند انسانیت کی راہ کو روشن کرتا ہے۔ ان کی فکر کی بنیاد امن اور جنگ سے اجتناب پر ہے۔ وہ صاف الفاظ میں کہتے ہیں:
“میرے نزدیک صلح جنگ سے بہتر ہے۔”
تاہم ہر قسم کے تشدد اور جارحیت کے مقابل ان کا سب سے نمایاں اور عالمی پیغام گلستان کا یہ لازوال شعر ہے:
بنی آدم اعضای یک پیکرند کہ در آفرینش ز یک گوهرند
چو عضوی به درد آورد روزگار دگر عضوها را نماند قرار
تو کز محنت دیگران بیغمی نشاید که نامت نهند آدمی
(آدم کی اولاد ایک ہی جسم کے اعضا ہیں، جو اپنی تخلیق میں ایک ہی جوہر سے ہیں۔
جب ایک حصے کو چوٹ لگتی تو دوسرے حصے کو بھی قرار نہیں آتا۔
اگر تم دوسروں کی تکلیفوں سے بے پروا ہو تو یاد رہے کہ تمہارا نام انسان رکھنا ہی مناسب نہیں۔)
ان اشعار میں سعدی جغرافیہ، نسل اور مذہب کی مصنوعی سرحدوں کو مٹا کر انسانیت کی بنیادی وحدت پر زور دیتے ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی ایک انسان کا درد پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے۔
آج کے تلخ حالات، خصوصاً ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت اور جنگ کے تناظر میں، سعدی کا پیغام ہمارے لیے واضح ہے: اس ایک جسم کے کسی بھی عضو پر پڑنے والے درد سے ہم بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ سعدی کی فکر ہمیں ہمدردی، ذمہ داری اور انسانی وقار کے تحفظ کی دعوت دیتی ہے اور ہر قسم کے تشدد اور تفرقے کی مذمت کرتی ہے۔ ان کی آواز کسی بھی امتیاز، جنگ اور جدائی کے خلاف ایک پکار ہے۔
یہ اشعار آج پاکستان میں ہمارے لیے — بطور ایک مسلمان اور انسان دوست قوم — براہِ راست پیغام رکھتے ہیں: ایک بے گناہ انسان کا درد ہم سب کا درد ہے۔
سعدی بوستان میں فرماتے ہیں:
“دشمن کے ظلم کی آگ نے جب دوست کی کھیتی جلا دی تو میرا دل جل اٹھا —بھلا اس کا اس میں کیا قصور تھا؟”
اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
“کتنی خوب بات ایک بزرگ نے محراب و منبر پر کہی کہ خون بہانے والے کو خدا دوست نہیں رکھتا۔”
خلاصہ
سعدی صرف شیراز یا ایران کے شاعر نہیں بلکہ بیدار انسانی ضمیر کی آواز ہیں۔ اس ہنگامہ خیز دور میں جب انسانی بحران اور تقسیم نے زندگی کو زخمی کر دیا ہے، ایسی فکر کی طرف رجوع کرنا محض ایک ثقافتی انتخاب نہیں بلکہ تہذیبی ضرورت ہے۔ چاہے پاکستان ہو یا ایران، سعدی کا احترام دراصل اس دانائی کا احترام ہے جو صدیوں سے ہمیں صحیح اور غلط کے بیچ کا راستہ دکھاتی آئی ہے۔
امید ہے کہ یہ سطور اس مشترکہ ورثے کی عظمت کا کچھ نہ کچھ تعارف کرا سکی ہوں گی۔ آخر میں، میں معزز قارئین کو سعدی کی دو قیمتی کتابیں، گلستان اور بوستان، پڑھنے کی دعوت دیتا ہوں۔
ان کی یاد زندہ رہے، ان کا پیغام ہمیشہ قائم رہے۔
ہمارے اس مشترکہ ادبی و ثقافتی ورثے پر توجہ دینے کے لیے آپ سب کا شکریہ۔






