شمالی پاکستان: اتحاد و ہم آہنگی کا پیغام — آغا خان پنجم کا دورہ پاکستان
تحریر: ثاقب عمر
پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم کے حالیہ دورۂ شمالی پاکستان کے دوران پھسو، چترال اور گلگت میں منعقد ہونے والی دیداری تقریبات محض روحانی اجتماعات نہیں تھیں بلکہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی اتحاد اور پُرامن بقائے باہمی کی ایک خوبصورت علامت بن کر سامنے آئیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کی سرزمین پر ہونے والے ان اجتماعات نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مختلف مسالک اور برادریاں باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔
ہنزہ کے تاریخی اور خوبصورت گاؤں پھسو سے لے کر چترال کی وادیوں اور گلگت شہر تک ہزاروں افراد نے اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے روحانی پیشوا کا پرتپاک استقبال کیا۔ تاہم ان تقریبات کا سب سے نمایاں پہلو مختلف مکاتبِ فکر، برادریوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت تھی، جنہوں نے باہمی تعاون اور احترام کے ساتھ ان اجتماعات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے سے مالامال پھسو میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد دیداری انتظامات میں شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔ اسماعیلی برادری سے خاندانی اور سماجی تعلق رکھنے والے افراد کو باقاعدہ طور پر خوش آمدید کہا گیا، جبکہ اہل تشیع اور اہل سنت برادری کے افراد نے بھی اسماعیلی رضاکاروں کے ساتھ مل کر خدمات انجام دیں۔ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے ٹریفک مینجمنٹ، زائرین کی رہنمائی، ہجوم کے نظم و ضبط اور سیکیورٹی تعاون میں مشترکہ طور پر حصہ لیا، جو اجتماعی ذمہ داری اور ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی۔
ان اجتماعات کے دوران جو ماحول دیکھنے میں آیا وہ شمالی پاکستان کی صدیوں پر محیط روایاتِ برداشت، احترام اور بقائے باہمی کی عکاسی کرتا تھا۔ چترال اور گلگت میں بھی مقامی آبادی نے مثالی مہمان نوازی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے رضاکاروں اور شہریوں نے آنے والے مہمانوں کی رہائش، سفری رہنمائی اور بڑے اجتماعات کے پُرامن انتظام میں بھرپور کردار ادا کیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ انسانیت اور خدمت کا جذبہ فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہوتا ہے۔
اس دورے نے خطے کے عوام میں موجود مضبوط شہری ذمہ داری کے احساس کو بھی اجاگر کیا۔ لاکھوں افراد کی آمد کے باوجود تقریبات پُرامن، منظم اور نظم و ضبط کے ساتھ منعقد ہوئیں، جس کا سہرا رضاکاروں، مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو جاتا ہے۔ اس موقع پر نظر آنے والا تعاون اس بات کی واضح مثال تھا کہ جب معاشرے باہمی احترام اور مشترکہ اقدار کے تحت کام کریں تو ہم آہنگی خود بخود فروغ پاتی ہے۔
اپنے خطابات میں پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم نے حکومت پاکستان، گلگت بلتستان اور چترال کی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، رضاکاروں اور تمام برادریوں سے تعلق رکھنے والے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن، اتحاد، برداشت اور باہمی احترام ایک ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے ان تمام افراد کے لیے دعائیں بھی کیں جنہوں نے دیداری تقریبات کے کامیاب انعقاد میں کردار ادا کیا۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا مذہب، نسل اور نظریات کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہے، پھسو، چترال اور گلگت میں دیکھے گئے مناظر نے دنیا کے سامنے ایک مختلف تصویر پیش کی — ایسی تصویر جو بقائے باہمی، انسان دوستی اور سماجی ہم آہنگی کی عکاس تھی۔ ان اجتماعات نے پاکستان کے شمالی علاقوں کا ایک مثبت، باوقار اور پُرامن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، جہاں تنوع کو اختلاف نہیں بلکہ اجتماعی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
یہ دیداری اجتماعات محض مذہبی تقریبات نہیں رہے بلکہ شمالی پاکستان کے پہاڑوں سے دنیا کے لیے امن، بھائی چارے اور اتحاد کا ایک مضبوط پیغام بن گئے۔ ان تقریبات نے یہ ثابت کیا کہ جب معاشرے اخلاص، عاجزی اور باہمی احترام کے ساتھ متحد ہوں تو تنوع تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی بنیاد بن جاتا ہے۔






