آزاد امیدوار سے کیسے گلے شکوے؟

گلگت بلتستان کے الیکشن ہو گئے۔ نتیجہ؟ جیسے ہر بار ہوتا ہے۔  پی پی نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں۔ پی ایم ایل این دوسرے نمبر پر۔ 

اور فیصلہ؟ اب تک اطلاعات کے مطابق فیصلہ گلگت میں نہیں ہوا۔ کچھ لوگ اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھیے ہیں۔ اسلام آباد کی کسی اے سی والی میٹنگ روم میں کچھ گلگت بلتستان کے "خاص لوگ” بھی مدعو ہیں۔ ویسے ریموٹ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے کے پاس ہوتا ہے، اسلام آباد صرف چارجر لگا رہا تھا۔

اس بار 4 سیٹیں آزاد امیدوار لے گئے۔ "آزاد” مطلب آزاد پرندہ۔ نہ پنجرہ، نہ نظریہ، نہ پارٹی کا بوجھ۔ صبح کو ایک نعرہ، شام کو دوسرا۔ آج "تبدیلی”، کل "استحکام”، پرسوں "خیر ہے جو مل جائے”۔

کمال یہ ہے کہ کل تک جس علیم خان صاحب کو گلگت بلتستان کا کوئی بچہ نہیں جانتا تھا، آج چلاس سے یاسین تک ہر ڈرائیور ان کا نام لے رہا ہے۔ کوئی گالی دے رہا ہے، کوئی دعا۔ اور کچھ بیچارے "سبز باغ” کے ویزے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ 4 سیٹوں نے پورے جی بی کو "علیم خان ایکسپرٹ” بنا دیا۔

میں یہاں کچھ باتیں اپنے حلقے غذر 12 حلقہ 3 کی کروں گا جہاں سے  امان علی عامر جیت گئے۔ نعرہ وہی پرانا: "تبدیلی”۔ بالکل 2018 والا فلیور، بس پیکنگ نئی۔ شکل، اسٹائل، ہاتھ ہلانے کا انداز… سب ملتا جلتا۔ لوگوں کو لگا چلو کوئی نیا چہرہ تو آیا۔ محنت کی، پیسہ لگایا، 20 سال کا جمود توڑا۔ یہ ماننا پڑے گا۔

پر اب اصل کھیل شروع ہوا۔ جیتنے کے بعد موصوف نے ایک "غیر معروف” پارٹی جوائن کر لی۔ اب یاسین کے نوجوان سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ کل تک "ہمارا لیڈر” تھا، آج "یو ٹرن ماسٹر” بن گیا۔ اس نے غیر معروف پارٹی کیسے اور کیوں جوائن کرلی؟؟؟

یاسین والو ذرا  رکو۔ سوال تو بنتا ہے، پر غلط بندے سے۔۔۔۔

میں سمجھتا ہوں سیاست میں  "آزاد امیدوار” ایک کینسر ہے۔ میں سخت لفظ استعمال کر رہا ہوں ، پر سچ یہی ہے۔ آزاد امیدوار کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ ان کا نظریہ صرف "جیتنا” ہوتا ہے۔ ان کے پاس 3 چیزیں ہوتی ہیں:

چھا نعرہ

 اچھی تقریر

مقبول تنقید

نظریہ؟ وہ الیکشن کے بعد "مارکیٹ ریٹ” دیکھ کر خریدا جاتا ہے۔ آج اس پارٹی کا ریٹ اچھا ہے تو ادھر، کل دوسری پارٹی کا تو اس کی گود میں۔ اس میں امیدوار کا قصور نہیں۔ قصور ہمارا ہے۔

ہم نے اسے ووٹ اس لیے دیا کیونکہ وہ "پارٹی والا نہیں تھا”۔ اب شکایت کر رہے ہیں کہ وہ "پارٹی والا بن گیا”۔

یاسین سے اسلم انقلابی واحد بندہ تھا جو ایک نظریے، ایک پارٹی کے ساتھ کھڑا تھا۔ ہم نے اسے سپورٹ نہیں کیا کیونکہ "جیت نہیں سکتا تھا”۔ اب جو جیت گیا اس سے نظریہ مانگ رہے ہیں۔ یہ منافقت نہیں تو کیا ہے؟ یہی سوال گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں کے عوام سے بھی ہے۔ اگر نظریہ عزیز ہوتا تو نواز خان ناجی، اسلم انقلابی، آصف ناجی، آصف سخی جیسے امیدواروں کو ووٹ دیتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر یہ چار نظریاتی سیاست دان اسمبلی میں منتخب ہوتے تو سیاست کا تصور ہی یکسر مختلف ہوتا۔

اب سبق یہ ہے کہ آزاد امیدوار پر سوال اٹھانا بیوقوفی ہے۔ وہ تو آزاد ہے۔ مرضی کا مالک ہے۔ اگر نظریہ چاہیے تو نظریے والے کو ووٹ دو، چاہے وہ ہار جائے۔  اگر "سیٹ” چاہیے تو پھر اگلے 5 سال "صبر” کا نعرہ لگاؤ۔

گلگت بلتستان کی سیاست کا فارمولا بہت آسان ہے۔ عوام نعرے لگائیں گے، آزاد جیتے گا، اسلام آباد فیصلہ کرے گا ،ہم فیس بک پر پوسٹ لگائیں گے۔

اگلے 5 سال تک یہی چلے گا۔ پھر اگلے انتخابات میں نئے "آزاد” آئیں گے، نئے نعرے لے کر۔ اور ہم پھر تالیاں بجائیں گے۔تو فیصلہ آپ کا ہے

نظریے کے ساتھ ہار مانو، یا بغیر نظریے کے جیت کا جشن مناؤ اور منافقت سے دور ہو جاو۔

علی احمد جان

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button