گلگت شندور روڈ: زمینیں لے لیں، درخت کٹوا دیے، مگر معاوضہ دینا بھول گئے!

گلگت بلتستان کے عوام کو ترقی کے خواب دکھانے والوں سے کوئی پوچھے کہ آخر یہ ترقی کس کے لیے ہے؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ غریب لوگوں کی زمینیں لے لی جائیں، ان کے باغات اجاڑ دیے جائیں، کروڑوں روپے مالیت کے پھلدار اور غیر پھلدار درخت کٹوا دیے جائیں، لوگوں کو اپنی ہی زمینوں پر کاشت کاری سے محروم کر دیا جائے اور پھر دو دو سال تک ان کے معاوضے کی رقم بھی ادا نہ کی جائے؟ اگر یہی ترقی ہے تو پھر گلگت بلتستان کے عوام کو ایسی ترقی مبارک!

گلگت شندور روڈ محض ایک سڑک نہیں، بلکہ گلگت بلتستان کو چترال اور ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والا ایک انتہائی اہم بین الصوبائی منصوبہ ہے۔ اس شاہراہ سے عوام نے امیدیں وابستہ کی تھیں کہ سفری مشکلات کم ہوں گی، تجارت کو فروغ ملے گا، سیاحت بڑھے گی اور خطے کی معیشت کو نئی زندگی ملے گی۔ مگر افسوس کہ اس عظیم منصوبے کے متاثرین آج اپنی ہی زمینوں کے معاوضے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

زمینیں حکومت کی، معاوضہ کہاں ہے؟

گلگت شندور روڈ کی زد میں آنے والی زیادہ تر اراضی کے مالکان کو تاحال معاوضے کی ادائیگی نہیں ہو سکی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کے کاغذات اور دیگر ضروری کارروائی مکمل کی جا چکی ہے، لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے معاوضے کی رقم فراہم نہ ہونے کے باعث ادائیگی کا عمل آگے نہیں بڑھ رہا۔

یہ سوال صرف چند افراد کا نہیں، یہ ریاستی ذمہ داری کا سوال ہے۔ جب حکومت کسی شہری کی زمین اپنے ترقیاتی منصوبے کے لیے حاصل کرتی ہے تو کیا ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ اس شہری کو اس کے حق کا معاوضہ بروقت ادا کرے؟

دو سال کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی۔ دو سال میں ایک خاندان کے حالات بدل جاتے ہیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے، کاروبار ختم ہو سکتا ہے، قرض بڑھ سکتے ہیں اور گھر کا چولہا بجھنے کی نوبت آ سکتی ہے۔

مگر ہمارے سرکاری دفاتر میں شاید دو سال بھی کوئی مدت نہیں!

متاثرین نے درخت کاٹے، اب اپنی زمین پر بھی کاشت نہیں کر سکتے

اس معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متاثرین نے تقریباً دو سال قبل روڈ منصوبے کی زد میں آنے والی اپنی زمینوں اور باغات سے قیمتی درخت کاٹ کر ہٹا دیے تھے۔

یہ وہ درخت تھے جن سے ان خاندانوں کو ہر سال لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ کسی کے باغ میں سیب تھے، کسی کے اخروٹ، کسی کے خوبانی اور دیگر پھلدار درخت، جبکہ غیر پھلدار درخت بھی قیمتی اثاثہ تھے۔

ان لوگوں نے صرف زمین نہیں دی، بلکہ اپنی نسلوں کا معاشی سہارا بھی اس منصوبے کے لیے قربان کیا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ نہ زمین ان کے پاس رہی، نہ باغات رہے، نہ درخت رہے، نہ ان کی آمدنی کا وہ ذریعہ باقی رہا، اور سب سے بڑھ کر، معاوضہ بھی نہیں ملا۔

یہ کیسا نظام ہے؟ ریاست منصوبہ بناتی ہے، عوام قربانی دیتے ہیں، درخت کاٹتے ہیں، زمینیں چھوڑتے ہیں، مگر جب معاوضہ دینے کی باری آتی ہے تو فائلیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا سفر شروع کر دیتی ہیں۔

حکمرانوں کے اعلانات اور زمینی حقیقت میں زمین آسمان کا فرق

وفاقی وزیرِ مواصلات علیم خان گلگت بلتستان میں شاہراہوں کا جال بچھانے اور سڑکوں کے ذریعے خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ یقیناً اگر یہ اعلانات عملی شکل اختیار کریں تو گلگت بلتستان کے عوام اس کا خیرمقدم کریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اعلانات کب تک ہوں گے؟

گلگت بلتستان کے عوام کو اب تقریریں نہیں، عملی اقدامات چاہییں۔

اگر حکومت واقعی خطے میں سڑکوں کا جال بچھانا چاہتی ہے تو پہلے سے شروع کیے گئے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے فنڈز کیوں نہیں دیے جا رہے؟

اگر گلگت شندور روڈ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تو پھر اس کے متاثرین دو سال سے معاوضے کے انتظار میں کیوں بیٹھے ہیں؟

اگر اس شاہراہ کی اہمیت کا اعتراف کیا جاتا ہے تو تعمیراتی کام مطلوبہ رفتار سے کیوں نہیں ہو رہا؟

اور اگر متاثرین کے کاغذات ضلعی انتظامیہ مکمل کر چکی ہے تو پھر این ایچ اے معاوضے کی رقم جاری کرنے میں مزید کتنی مدت لے گا؟

کیا گلگت بلتستان صرف اعلانات کے لیے ہے؟

گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اس خطے کے عوام نے اپنی زمینیں، وسائل، وقت اور نسلوں کے مفادات تک ملکی منصوبوں کے لیے قربان کیے۔ مگر جب ان کے بنیادی حقوق کی بات آتی ہے تو انہیں فائلوں، نوٹیفکیشنز، وعدوں اور یقین دہانیوں کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔

یہ رویہ اب مزید قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

گلگت بلتستان کوئی تجربہ گاہ نہیں جہاں منصوبوں کے اعلانات کیے جائیں اور پھر انہیں فائلوں میں دفن کر دیا جائے۔

یہاں بھی انسان بستے ہیں۔ یہاں بھی کسان ہیں، مزدور ہیں، تاجر ہیں، زمیندار ہیں اور ایسے خاندان ہیں جن کا واحد ذریعۂ معاش ان کی زمینیں اور باغات ہیں۔

ایک غریب کسان کی زمین لے کر اسے دو سال تک معاوضے سے محروم رکھنا محض انتظامی تاخیر نہیں، بلکہ اس کے معاشی حقوق کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ایک طرف زمینیں لی جا رہی ہیں، دوسری طرف منصوبہ بھی سست روی کا شکار

اس معاملے کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ متاثرین کو معاوضہ بھی نہیں ملا اور روڈ کی تعمیر بھی مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی۔

یعنی عوام سے قربانی لے لی گئی، مگر بدلے میں نہ بروقت رقم ملی اور نہ منصوبے کی تکمیل نظر آ رہی ہے۔

آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟

این ایچ اے؟

وفاقی حکومت؟

متعلقہ وزارت؟

یا وہ تمام ادارے جو ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر اپنی جان چھڑاتے ہیں؟

عوام کو اس سوال کا جواب چاہیے۔

اسمبلی کے ارکان بھی سوال اٹھائیں

گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کو بھی اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ان کے حلقوں کے عوام کی زمینیں اس منصوبے کی زد میں آئی ہیں تو انہیں متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

صرف اسمبلی کے اجلاسوں میں تقریریں کرنے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

متاثرین کے حق میں آواز بلند کرنا، این ایچ اے سے جواب طلب کرنا، وفاقی حکومت سے فنڈز کا مطالبہ کرنا اور معاوضوں کی ادائیگی تک معاملے کی پیروی کرنا منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔

عوام نے انہیں ایوان میں اسی لیے بھیجا ہے کہ وہ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔

وفاقی وزیرِ مواصلات سے چند سیدھے سوال

وفاقی وزیرِ مواصلات سے گلگت بلتستان کے عوام چند سوالات کا جواب چاہتے ہیں:

گلگت شندور روڈ کے متاثرین کو معاوضہ کب ملے گا؟

این ایچ اے نے اب تک معاوضے کی کتنی رقم جاری کی اور کتنی رقم باقی ہے؟

تعمیراتی کام کی رفتار سست کیوں ہے؟

منصوبے کی موجودہ مالی صورتِ حال کیا ہے؟

متاثرین کو دو سال تک ان کے حق سے محروم رکھنے کا ذمہ دار کون ہے؟

اور سب سے اہم سوال: کیا وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو صرف اعلانات اور وعدوں تک محدود رکھنا چاہتی ہے یا عملی طور پر بھی کچھ کرے گی؟

اب وقت آ گیا ہے کہ ان سوالات کے واضح اور دوٹوک جواب دیے جائیں۔

عوام اب خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے

متاثرین کو ان کے حق کا معاوضہ خیرات کے طور پر نہیں چاہیے۔

یہ ان کا قانونی اور جائز حق ہے۔

وہ کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے۔ وہ اپنی وہ رقم مانگ رہے ہیں جو ریاست نے ان کی زمینیں حاصل کرنے کے بدلے انہیں دینی ہے۔

حکومت اور این ایچ اے کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ غریب شہری کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھنا خطرناک غلطی ہے۔

آج یہ متاثرین معاوضے کے منتظر ہیں، کل یہی مسئلہ ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

لہٰذا حکومت کو کسی بڑے احتجاج کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی جاگنا ہوگا۔

اب صرف وعدے نہیں، رقم چاہیے

گلگت بلتستان کے عوام نے بہت وعدے سن لیے۔

سڑکوں کے وعدے، ترقی کے وعدے، روزگار کے وعدے، سیاحت کے فروغ کے وعدے اور بڑے بڑے میگا منصوبوں کے اعلانات۔

اب عوام کو مزید تقریریں نہیں چاہییں۔

متاثرین کو ان کا معاوضہ چاہیے۔

گلگت شندور روڈ کے لیے مطلوبہ فنڈز چاہیے۔

تعمیراتی کام میں رفتار چاہیے۔

اور حکمرانوں سے جواب دہی چاہیے۔

اگر حکومت واقعی گلگت بلتستان میں شاہراہوں کا جال بچھانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ان منصوبوں کو مکمل کرے جو برسوں سے عوام کے انتظار کا امتحان بنے ہوئے ہیں۔

گلگت شندور روڈ کے متاثرین کے زخموں پر مزید وعدوں کا مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔

ان کے باغات اجڑ چکے ہیں، درخت کٹ چکے ہیں، زمینیں منصوبے کی زد میں آ چکی ہیں اور آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔ اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

وفاقی حکومت، وزارتِ مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو چاہیے کہ فوری طور پر معاوضے کے لیے فنڈز جاری کریں، ضلعی انتظامیہ کو رقم فراہم کریں اور متاثرین کو ان کا حق ادا کریں۔

ورنہ حکمرانوں کے خوبصورت اعلانات اور زمینی حقیقت کے درمیان بڑھتا ہوا یہ فاصلہ ایک دن عوام کے غصے میں تبدیل ہو جائے گا۔

گلگت شندور روڈ صرف پتھر، مٹی اور تارکول کا منصوبہ نہیں؛ یہ ان خاندانوں کی زندگیوں کا سوال ہے جنہوں نے قومی مفاد میں اپنی زمینیں قربان کی ہیں۔

اب فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ وہ ان قربانی دینے والے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا انہیں مزید دو سال، پانچ سال یا دس سال فائلوں کے پیچھے بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ حکمران جاگیں۔

اعلانات کا وقت گزر چکا ہے—اب عمل کا وقت ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button