وہ ڈاکٹر جس نے اپنے بیمار دل کے باوجود ہزاروں دلوں کا خیال رکھا
کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کی یادیں بھی وقت کے ساتھ دھندلا جاتی ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت اپنے اندر جذب نہیں کر پاتا۔ ان کی آواز، ان کے الفاظ، ان کا اندازِ گفتگو، ان کی مسکراہٹ اور ان کے کیے ہوئے کام برسوں بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ڈاکٹر غلام حیدر عاصم بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
آج ان کی تیسری برسی ہے۔ تین سال گزر گئے، مگر خپلو ہسپتال کا ذکر آتے ہی ڈاکٹر غلام حیدر عاصم کا
نام ذہن میں آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ابھی ہسپتال کی کسی راہداری سے گزر رہے ہوں گے، کسی مریض کا حال پوچھ رہے ہوں گے، کسی ملازم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوں گے یا کسی افسر سے ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی پر بحث کر رہے ہوں گے۔
وہ کہا کرتے تھے، "یہ ہسپتال میری ماں جیسا ہے۔”
اور شاید یہی ایک جملہ ان کی پوری زندگی اور خپلو ہسپتال سے ان کے تعلق کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے اس ہسپتال کو صرف ایک سرکاری ادارہ نہیں سمجھا۔ انہوں نے اس کی ضرورتوں کو اپنی ضرورت سمجھا، اس کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا اور اس کی بہتری کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے واقعی ماں کی طرح اس ہسپتال کا خیال رکھا۔
ایک وقت تھا جب خپلو ہسپتال کی حالت یہ تھی کہ عام لوگوں کے درمیان یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ یہاں علاج کے نام پر صرف پیراسٹامول ملتی ہے۔ کسی پیچیدہ بیماری یا سرجری کی صورت میں مریض کو سکردو یا اس سے بھی دور لے جانا پڑتا تھا۔ لیکن جب ڈاکٹر غلام حیدر عاصم نے اس ادارے کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے ہسپتال کو بدلنے کا خواب دیکھا اور پھر اس خواب کو اپنی محنت سے حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی۔
خپلو میں باقاعدہ سرجری کا آغاز انہی کی کوششوں سے ہوا۔ وہ ہسپتال کو اس مقام تک لے گئے جہاں ان کے آخری دورِ تعیناتی میں لیپروسکوپک سرجری جیسی جدید سہولت بھی دستیاب تھی۔ جس ہسپتال میں کبھی بنیادی ادویات کی دستیابی بھی مسئلہ سمجھی جاتی تھی، وہاں جدید سرجری ہونا معمولی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ ایک سوچ، ایک جدوجہد اور ایک مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔
ان کے ہسپتال سے آخری تبادلے کے وقت خپلو میں لیپروسکوپک سرجری ہو رہی تھی، جو بلتستان ریجن میں اپنی نوعیت کی ایک اہم جدید طبی سہولت تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ گانچھے کا مریض صرف اس لیے جدید علاج سے محروم نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک دورافتادہ ضلع میں رہتا ہے۔
وہیں انہوں نے ڈاکٹرز کے رہائش کے مسئلے کو بھی سمجھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر کسی دورافتادہ علاقے میں ڈاکٹر تعینات تو کردیا جائے لیکن رہنے کی مناسب جگہ نہ ہو تو ڈاکٹر کے لیے یہاں کام کرنا مشکل ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے ڈاکٹر ہاسٹل کی تعمیر کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے اس اہم سرکاری ڈاکٹر ہاسٹل کی وجہ سے آج خپلو ہسپتال میں آنے والے ڈاکٹروں کے لیے رہائش کا مسئلہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
بجلی کا مسئلہ بھی انہیں ہر وقت پریشان کرتا تھا۔ ہسپتال میں بجلی کی بندش کا مطلب مریضوں کے لیے خطرہ ہوسکتا تھا۔ انہوں نے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کی اور معروف سماجی شخصیت تقی نقی کے تعاون سے ہسپتال کو سولر پر منتقل کرنے کا منصوبہ آگے بڑھایا۔ آج جب ہسپتال میں سولر کی سہولت موجود ہے تو اس کے پیچھے ایک ایسے شخص کی سوچ نظر آتی ہے جو جانتا تھا کہ دورافتادہ علاقے کے ہسپتال کو مستقل توانائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے جدید آئی سی یو کے قیام کے لیے بھی کام کیا اور مخیر حضرات کو ساتھ ملا کر اس منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ آکسیجن پلانٹ کا منصوبہ بھی انہی کی کاوشوں سے جڑا ہوا تھا۔ بچوں کے لیے پلے روم بنانے کا خیال بھی اسی حساس انسان کے ذہن میں آیا جو یہ سمجھتا تھا کہ ہسپتال میں داخل بچہ صرف دوا کا محتاج نہیں ہوتا، اسے کھیلنے، مسکرانے اور خوف سے نکلنے کے لیے ایک خوشگوار ماحول بھی چاہیے۔
ان کے دور میں ہارٹ اٹیک کے مریضوں کے لیے ایمرجنسی میں ابتدائی طور پر استعمال ہونے والا مہنگا انجکشن مفت فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ زندگی اور موت کے درمیان چند منٹ کا فرق ہوتا ہے، اس لیے مریض کو اس وقت پیسوں کے انتظام کے لیے نہیں چھوڑا جاسکتا جب اسے فوری علاج کی ضرورت ہو۔
وہ محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے سامنے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی کمی پر مسلسل آواز اٹھاتے تھے۔ کبھی بحث ہوتی، کبھی تلخی تک بات پہنچتی، مگر وہ خاموش نہیں ہوتے تھے۔ ان کا سوال سادہ تھا: اگر گانچھے کے عوام کے لیے ہسپتال بنایا گیا ہے تو پھر اس میں ڈاکٹر کیوں نہیں؟ مریض کے لیے علاج کیوں نہیں؟ ضروری عملہ کیوں نہیں؟
وہ ملازمین کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہسپتال کی کامیابی صرف بڑے ڈاکٹرز یا بڑے عہدوں سے نہیں بلکہ ہر اس شخص کی محنت سے ہوتی ہے جو ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ وہ سپروائزر کی حوصلہ افزائی کرتے، ملازمین کی تعریف کرتے اور انہیں عزت دیتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگ انہیں صرف ایم ایس نہیں بلکہ اپنا سرپرست سمجھتے تھے۔
ان کا خپلو ہسپتال سے تبادلہ ہوا تو گانچھے کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس خپلو لایا جائے۔ یہ کسی آفیسر کے لیے سب سے بڑا عوامی اعتراف تھا۔ حکومت کو بالآخر انہیں دوبارہ خپلو لانا پڑا۔ وہ واپس آئے تو پھر اسی جذبے کے ساتھ ہسپتال کی خدمت میں لگ گئے۔
ان کے بارے میں یہ بھی یاد کیا جاتا ہے کہ ایم ایس ہاؤس کے تمام تر اخراجات وہ اپنی جیب سے برداشت کرتے تھے۔ ان کے لیے سرکاری منصب سہولیات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ذمہ داری ادا کرنے کا موقع تھا۔
مجھے آج بھی مشہ بروم کے ایک انتہائی دورافتادہ گاؤں سے آنے والے اس شخص کی بات یاد ہے جو ہر سال سردیوں میں تقریباً دو ماہ خپلو ہسپتال میں بیٹھا رہتا تھا۔ پوچھنے پر کہتا تھا: "یہاں سردی نہیں لگتی، کمرے گرم ہیں، کھانا ملتا ہے۔”
اس ایک جملے میں شاید پورا گانچھے چھپا ہوا تھا۔ ایک ایسا ضلع جہاں دورافتادہ دیہات میں سردیاں زندگی کو مشکل بنا دیتی ہیں، جہاں ہر گھر کے پاس علاج کی سہولت نہیں، جہاں مریض کے لیے ہسپتال تک پہنچنا ہی ایک آزمائش ہے۔ ایسے علاقے میں ایک ہسپتال صرف علاج گاہ نہیں رہتا، وہ لوگوں کے لیے سہارا بن جاتا ہے۔
اور ڈاکٹر غلام حیدر عاصم اسی سہارا بننے والے ہسپتال کو اپنی ماں کہتے تھے۔
مگر شاید سب سے زیادہ درد ان کی اپنی کہانی میں تھا۔
وہ خود دل کے مریض تھے۔
ان کے دوست انہیں کہتے تھے کہ سکردو میں رہیں، وہاں صحت کی سہولیات بہتر ہیں، مگر وہ کہتے:
"مجھے گانچھے کے عوام دعا دیتے ہیں۔”
خپلو سے آخری بار تبادلہ ہوا تو وہ کراچی اپنے دل کا چیک اپ کروانے گئے۔ وہاں سے انہوں نے مجھے فون کیا۔
آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ہے:
"عالم، ڈاکٹر کہتا ہے میرا دل پچیس فیصد کام کر رہا ہے۔”
میں نے ان کی بات سنی۔ ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر بھی حیران ہے کہ وہ اس حالت میں کیسے زندہ ہیں۔
اور ڈاکٹر غلام حیدر عاصم نے وہ جواب دیا جو شاید ان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے:
"بس مجھے لوگوں کی دعا ہے۔”
کیا عجیب انسان تھے وہ!
جس دل کی طاقت صرف پچیس فیصد رہ گئی تھی، وہ دل پھر بھی گانچھے کے ہزاروں لوگوں کے لیے دھڑک رہا تھا۔
جس شخص کو اپنے علاج کی ضرورت تھی، وہ دوسروں کے علاج کے لیے فکر مند تھا۔
جس شخص کو آرام کی ضرورت تھی، وہ ہسپتال کے ملازمین، مریضوں، ڈاکٹروں اور سہولیات کے لیے بھاگ رہا تھا۔
اور جس شخص کو دوست سکردو کی نسبتاً بہتر طبی سہولیات میں رہنے کا مشورہ دیتے تھے، وہ جواب دیتا تھا کہ "مجھے گانچھے کے عوام دعا دیتے ہیں۔”
شاید وہ جانتے تھے کہ انسان کو زندہ رکھنے والی طاقت صرف دوائیں نہیں ہوتیں، کچھ دعائیں بھی ہوتی ہیں۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کی باتیں موجود ہیں۔ ان کے منصوبے موجود ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے ڈاکٹر ہاسٹل کی دیواریں موجود ہیں۔ ہسپتال کا سولر سسٹم موجود ہے۔ آکسیجن پلانٹ موجود ہے۔ آئی سی یو موجود ہے۔ سرجری کی سہولت موجود ہے۔ وہ مریض موجود ہیں جنہیں ان کے دور میں علاج ملا۔ وہ ملازمین موجود ہیں جنہوں نے ان سے شفقت پائی۔ اور سب سے بڑھ کر وہ دعائیں موجود ہیں جن کا ذکر وہ اپنی بیماری کے باوجود کیا کرتے تھے۔
تین سال بعد بھی اگر کوئی پوچھے کہ ڈاکٹر غلام حیدر عاصم کی سب سے بڑی خدمت کیا تھی تو شاید کسی ایک منصوبے کا نام لینا ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر غلام حیدر عاصم نے گانچھے میں ماں اور بچے کی ہیلتھ سے متعلق مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہسپتال کے ساتھ ماں اور بچے کے لئے سنٹر کا پروجیکٹ لایا تاہم بعد میں اسکو ٹراما سنٹر میں تبدیل کیا
ان کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ انہوں نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ گانچھے کا مریض بھی عزت، سہولت اور جدید علاج کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے ایک ہسپتال کی عمارت کو ادارہ بنانے کی کوشش کی اور ایک سرکاری عہدے کو عوامی خدمت میں بدلنے کی کوشش کی۔
ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو شاید یہی تھا کہ وہ اپنے ہسپتال کو ماں کہتے تھے اور اپنی زندگی کے آخری برسوں میں جب ان کا اپنا دل جواب دے رہا تھا، تب بھی وہ دوسروں کے دلوں کی فکر کرتے رہے۔
آج ان کی تیسری برسی پر انہیں یاد کرتے ہوئے آنکھیں نم بھی ہوتی ہیں اور دل سے دعا بھی نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انسان کی مغفرت فرمائے جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کی زندگی آسان بنانے میں گزار دیا۔
ڈاکٹر غلام حیدر عاصم نہیں رہے، مگر شاید وہ واقعی کہیں گئے بھی نہیں۔
وہ آج بھی خپلو ہسپتال کے کسی کمرے کی روشنی میں ہیں، کسی مریض کی دعا میں ہیں، کسی ڈاکٹر کی رہائش میں ہیں، کسی بچے کے پلے روم کی ہنسی میں ہیں، کسی ایمرجنسی کے مریض کو ملنے والی بروقت دوا میں ہیں، کسی آکسیجن سلنڈر کی جگہ چلنے والے پلانٹ میں ہیں، اور سب سے بڑھ کر ان لوگوں کے دلوں میں ہیں جو آج بھی ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔
اور شاید یہی ایک انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگ کہیں:
"وہ اچھا ڈاکٹر تھا، اچھا افسر تھا، مگر سب سے بڑھ کر وہ اچھا انسان تھا۔”
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر غلام حیدر عاصم مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور گانچھے کے عوام کے لیے ان کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔






