پہاڑوں کی خاموش محافظ: صنفی مساوات ایک ماحولیاتی مسئلہ کیوں ہے

 

زرینہ اشرف


"اس کی مال مویشی چراتے چراتے پہاڑی چراگاہ پر ہی زچگی ہو گئی۔”

ہوشے کی ایک خاتون نے یہ واقعہ نہایت سادگی سے بیان کیا، مگر اس کے یہ الفاظ سن کر میں گہری حیرت اور صدمے میں مبتلا ہو گئی۔ پہاڑوں کی دشوار گزار زندگی، محدود طبی سہولیات اور خواتین کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا یہ واقعہ دل کو جھنجھوڑ دینے والا تھا۔

ایک ماں، جس نے بچے کو جنم نہ کسی ہسپتال میں دیا، نہ اپنے گھر میں، بلکہ اکیلے ایک دور دراز بلند پہاڑی چراگاہ میں، مویشیوں کے درمیان، اپنے گاؤں سے میلوں دور۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا۔ یہ ایک پورا نظام تھا۔

ضلع گانچھے کی وادیِ ہوشے، جو کے ٹو اور مشہ بروم کا دروازہ کہلاتی ہے، وہاں ہر سال مئی سے ستمبر تک مویشیوں کو بلند چراگاہوں تک لے جانے اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مردوں کی نہیں بلکہ عورتوں کی ہوتی ہے۔ تقریباً پانچ ماہ تک وہ اپنے گاؤں سے دور، بغیر علاج معالجے، بغیر سڑک کی سہولت اور بغیر کسی حفاظتی نظام کے زندگی گزارتی ہیں۔

میں نے اکتوبر 2018 میں ضلع گانچھے میں سیاحت اور ثقافتی ماحولیات پر اپنی ایم فل تحقیق کے سلسلے میں وادیِ ہوشے کا دورہ کیا۔ میری تحقیق کا بنیادی مقصد علاقے میں سیاحت کے امکانات کا جائزہ لینا تھا، تاہم اس دوران میری توجہ وادیِ ہوشے کی خواتین کو درپیش سماجی، معاشی اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کی جانب بھی مبذول ہوئی۔

میں نے محسوس کیا کہ سیاحت کے امکانات کے ساتھ ساتھ یہاں کی خواتین کی زندگی، ان کی محنت، مشکلات اور بنیادی حقوق سے جڑے کئی ایسے مسائل موجود ہیں جو طویل عرصے سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں، جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود ہماری اجتماعی توجہ سے اوجھل رہے ہیں۔

ہوشے کوئی گمنام مقام نہیں۔ یہ کے ٹو، مشہ بروم اور دنیا کی چند مشہور ترین چوٹیوں تک رسائی کا دروازہ ہے، اور ہر سیزن میں سیاحت اس علاقے میں خاصی آمدنی لاتی ہے۔ مگر جو عورتیں اسی ثقافت اور اسی منظرنامے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جو سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتا ہے، وہی اپنی برادری میں معاشی اور سماجی طور پر سب سے زیادہ نظر انداز رہ جاتی ہیں۔

میری تحقیق مجھے چھوار بھی لے گئی، جو ایک دفاعی علاقے کے قریب واقع ہے اور جہاں نسبتاً بہتر سہولتیں دستیاب ہیں۔ مگر وہاں بھی یہی مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی براہِ راست عورتوں کی صحت، کام کے بوجھ اور بقا پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ جب چراگاہیں سکڑتی ہیں، جب پانی کے ذرائع خشک ہو جاتے ہیں، جب فصلیں ناکام ہوتی ہیں، تو اس نقصان کا سب سے پہلا اور سب سے گہرا بوجھ عورتیں ہی اٹھاتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی صنفی طور پر غیر جانبدار نہیں۔ یہ کوئی استعارہ نہیں، یہ وہ حقیقت ہے جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

اور اس کے باوجود، امید کی کرن موجود ہے۔

آج کا ہوشے اور چھوار وہ نہیں جو میں نے 2018 میں دیکھا تھا۔ لڑکیاں گھروں سے باہر نکل رہی ہیں۔ وہ اسکول جا رہی ہیں، تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اور ان جگہوں پر اپنی آواز بلند کر رہی ہیں جہاں کبھی انہیں خاموش کر دیا جاتا تھا۔

یہ تبدیلی، خواہ کتنی ہی چھوٹی ہو، اہمیت رکھتی ہے۔ لوگوں میں آگاہی بڑھی ہے۔ لوگ زیادہ باخبر ہیں، ایک دوسرے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں، اور اپنے ماحولیاتی و سماجی مسائل پر کھل کر بات کرنے کو تیار ہیں۔

مگر صرف آگاہی کافی نہیں۔ صنفی مسئلہ اب بھی ایک گہرا اور اٹل چیلنج ہے۔ رکاوٹیں ختم نہیں ہوئیں، وہ صرف پہلے سے زیادہ نظر آنے لگی ہیں۔ اور نظر آنا، اگرچہ ضروری ہے، مگر صرف پہلا قدم ہے۔ اصل تبدیلی پالیسی میں، وسائل میں اور معاشرتی رویوں میں ابھی باقی ہے۔

میری ہر ذمہ دار سے گزارش ہے کہ جب ہم پہاڑوں کا جشن مناتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کا جشن مناتے ہیں، سیاحت کا جشن

آپ کی رائے

comments

زرینہ اشرف

زرینہ اشرف ترقیاتی امور کی محقق ہیں۔ ان کی تحقیق کا محور ثقافتی ورثہ، موسمیاتی خطرات اور گلگت بلتستان میں مقامی برادریوں کی ماحولیاتی و سماجی لچک ہے۔ وہ بلتستان میں سیاحت، جدیدیت اور سماجی تبدیلی کے موضوعات پر فیلڈ اسٹڈیز بھی شائع کر چکی ہیں۔ زرینہ اشرف کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور انکی مادری زبان بلتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button