وہ خط جو ہر حکمران کو پڑھنا چاہیے۔۔۔
گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد انتخابی شور تھم چکا ہے۔ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ وزیراعلیٰ اور کابینہ کے اراکین نے حلف اُٹھا لیا ہے۔ مبارک بادوں، اُمیدوں اور دُعاؤں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ اور اب تو بجٹ بھی پیش ہو چکا ہے۔
مگر ہر حلف کے پیچھے ایک سوال خاموشی سے کھڑا ہوتا ہے: ’’کیا یہ پانچ سال عوام کے دلوں میں روشنی بن کر زندہ رہیں گے یا حسرتوں کی ایک اور داستان بن جائیں گے؟‘‘
ایسے ہر موڑ پر تاریخ ہمیں ایک چراغ تھما دیتی ہے۔ حکمرانی کے سفر میں وہ چراغ حضرت امام علی علیہ السلام کا وہ شہرۂ آفاق خط ہے جو آپؑ نے مصر کے گورنر مالک اشتر کے نام لکھا تھا۔ صدیوں پہلے لکھے گئے اس خط کے الفاظ آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے اس دن تھے جب قلم نے انہیں کاغذ پر اتارا تھا۔ یہ صرف ایک خط نہیں، اقتدار کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ابدی نصیحت ہے؛ ایک ایسا آئینہ جس میں ہر حکمران اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے لیے اپنے دل کو محبت اور رحمت سے بھر دو۔ ان پر اس طرح حکومت نہ کرو جیسے کوئی شکاری اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ رعایا کو اپنی طاقت کا میدان نہیں، اپنی ذمہ داری سمجھو۔ اقتدار کو اعزاز نہیں، امانت جانو۔
قارئین! زمانہ بدل چکا ہے۔ یہ جنریشن زی کا دور ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو ناموں کے سحر میں گرفتار نہیں ہوتی۔ اسے خاندانی شجرے متاثر نہیں کرتے۔ یہ دولت کے انباروں سے مرعوب نہیں ہوتی۔ یہ صرف کام دیکھتی ہے، کارکردگی دیکھتی ہے، قابلیت کو سلام کرتی ہے اور ناکامی کا بے لاگ احتساب کرتی ہے۔ اس نسل کے سامنے نہ ماضی کے قصے چلتے ہیں اور نہ سیاسی وراثت کے دعوے۔ اس کے نزدیک عزت صرف اس کی ہے جو عوام کی زندگی میں بہتری لا سکے۔
اسی لیے آج گلگت بلتستان کی نئی قیادت کے سامنے ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ یہ پانچ سال تاریخ کے سنہری ابواب بھی بن سکتے ہیں اور ناکامیوں کی ایک طویل فہرست بھی۔
امام علیؑ کے خط کا ایک اور درخشاں سبق یہ ہے کہ اپنے گرد اچھے لوگوں کو جمع کرو۔ ایسے لوگ جو سچ کہنے کی ہمت رکھتے ہوں، جو تمہاری غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں، جو ذاتی مفاد سے بلند ہو کر اجتماعی بھلائی کا سوچتے ہوں۔ خوشامدی لوگ حکومتوں کو وقتی سکون تو دے سکتے ہیں مگر دائمی کامیابی نہیں۔ بند ذہن اور تعصب کے اسیر افراد حکمران کو حقیقت سے دور لے جاتے ہیں، جبکہ صاحبِ فکر اور صاحبِ کردار افراد اسے عوام کے قریب رکھتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ اکثر حکمران مخالف آوازوں کو دشمنی سمجھ بیٹھتے ہیں اور تعریف کرنے والوں کو خیر خواہ۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں دشمنوں سے کم اور خوشامدی دوستوں سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں۔
گلگت بلتستان کے ان برف پوش پہاڑوں، شور مچاتے دریاؤں اور دور دراز وادیوں کے باسی آج اپنی نئی قیادت کی طرف اُمید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ سڑکوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور روزگار کے مواقع سے بڑھ کر ایک انصاف پسند اور جوابدہ حکومت کے منتظر ہیں۔ وہ ایسی قیادت چاہتے ہیں جو اقتدار کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی عوام کے دُکھ درد سے جُڑی رہے۔
پانچ سال بعد جب آج کا دن ماضی بن چکا ہوگا تو عوام کو نہ تقاریر یاد ہوں گی، نہ پروٹوکول اور نہ ہی اقتدار کی چکاچوند۔ انہیں صرف یہ یاد ہوگا کہ ان کے منتخب نمائندوں نے ان کے لیے کیا کیا۔ کتنے خواب پورے ہوئے، کتنی مشکلات کم ہوئیں اور کتنے وعدے نبھائے گئے۔
اس لیے آج جب اقتدار کے دروازے کھل چکے ہیں تو کاش نئی قیادت مالک اشتر کے نام لکھے گئے اس خط کو اپنے میز پر رکھ لے۔ کاش وہ ہر بڑے فیصلے سے پہلے اس کے اوراق پلٹے۔ کاش وہ یاد رکھے کہ اقتدار چند برسوں کا مہمان ہے مگر کردار نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔
آخری بات۔۔۔ ایک اور حقیقت جسے نئی قیادت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے، یہ ہے کہ اکثر حکمران اپنی نیت اور ارادوں میں برے نہیں ہوتے، مگر ان کے گرد جمع ہونے والے خوشامدی اور مفاد پرست لوگ انہیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ حکمران اور عوام کے درمیان ایسی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں فیصلے زمینی حقائق کے بجائے چاپلوسی کی بنیاد پر ہونے لگتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’بعض اوقات دیگچی سے زیادہ چمچہ گرم ہوتا ہے۔‘‘ یہی حال اقتدار کے ایوانوں میں بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات حکمران سے زیادہ ان کے چمچے طاقت کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھتے ہیں اور عوام کی آواز کو حکمران تک پہنچنے نہیں دیتے۔ حضرت امام علیؑ نے مالک اشتر کو اسی لیے تنبیہ فرمائی تھی کہ اپنے قریب ایسے لوگوں کو جگہ دو جو سچ بولنے کی جرأت رکھتے ہوں، نہ کہ وہ جو ہر بات پر واہ واہ کرتے ہوں۔ نئی قیادت کی کامیابی کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ خوشامدیوں کے شور سے نکل کر عوام کی اصل آواز سننے کی صلاحیت پیدا کرے۔ کیونکہ تاریخ حکمرانوں کا احتساب صرف ان کے فیصلوں سے نہیں کرتی بلکہ ان چمچوں سے بھی کرتی ہے جنہیں انہوں نے اپنے اردگرد جمع کیا ہوتا ہے۔
وقت گزر جائے گا، عہدے ختم ہو جائیں گے، قافلے آگے بڑھ جائیں گے، مگر تاریخ ایک سوال ضرور پوچھے گی: ’’جب اختیار تمہارے ہاتھ میں تھا، تب تم نے کیا کیا؟‘‘ اس سوال کا جواب آج کے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔






