ہسپتالوں میں پرچی فیس یا بھتہ خوری ؟

ہسپتالوں میں پرچی فیس یا بھتہ خوری ؟

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر محمد زمان خان

ایک ڈاکٹر صبح ہسپتال میں اپنے سٹاف کے ساتھ راؤنڈ کرنے نکلا وارڈ میں داخل ہوتے ہی پہلا بیڈ خالی دیکھ کر نرس سے پوچھا یہ مریض کہاں گیا ہے تو نرس نے کہا جناب ڈاکٹر صاحب اس مریض کو سردی لگ رہی تھی اس لئے اس کو دوسرے وارڈ میں جس مریض کو 104 کا بخار تھا اس کے ساتھ لیٹایا ہے ڈاکٹر آ گے بڑھتا ہے دوسرا بیڈ بھی خالی پاکر نرس سے پوچھتا ہے یہ مریض کدھر گیا ہے تو نرس کہتی ہے جناب اس مریض کو اسہال کی بیماری ہے ہمارے ہسپتال کا ٹوائلٹ خراب تھا اس لئے مریض مسجد کے ساتھ والی ٹوائلٹ استعمال کرنے گیا ہے تیسرے بیڈ پر ڈاکٹر نرس سے پوچھتا ہے یہ کدھر گیا ہے تو نرس نے کہا اس نے کئی دنوں سے کھانا نہیں کھایا تھا ابھی کسی نے بتایا کہ ساتھ والے دربار میں لنگر تقسیم ہورہا ہے وہاں سے کھانا لینے گیا ہے اسی طرح چوتھے بیڈ پر ایک مریض کو ہسپتال بیڈ سے باندھا ہوا پاکر ڈاکٹر نے نرس سے پوچھا اس کو کیوں باندھا گیا ہے تو نرس نے کہا اس نے ہسپتال بیڈ کے چارجز اور اپریشن کے پیسے نہیں دیئے ہیں اس لئے اس کو بل ادا کرنے تک باند ھ کے رکھا گیا ہے ابھی اس کی صحت ٹھیک ہے مگر بل ادا کرنے پر اس کو رہا کر دیا جائے گا ڈاکٹر نرس کو شاباش دے کر آگے بڑھتے ہیں ایک اور بیڈ خالی ملتا ہے تو پوچھتے پر نرس کہتی ہے جناب ڈاکٹر صاحب اس مریض کو تکلیف زیاد ہ تھی آپ کے آ نے میں دیر ہوئی تو وہ آپ کی کلینک چلاگیا ہے یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب نے باقی راؤنڈ ادھورا چھوڑ کر نرس کو کہنے لگا آپ ان کو سنبھالومیں ان کو دیکھ لیتا ہو ں بچارے کو انتظار کی زحمت اُٹھانی پڑے گی ہا ں اگر کوئی پوچھے تو بتادینا ڈاکٹر صاحب میٹنگ میں ہے ۔

اب ہو بہو یہی صورت حال گلگت بلتستان کے ہسپتالوں کی ہے 2002 سے پہلے مریض سے پرچی فیس کے نام سے دو روپے لئے جاتے تھے بعد میں دودو روپے فیس بھی اڈٹ ابزرویشن کی وجہ سے بند کرنا پڑا اب چونکہ گزشتہ شمالی علاقہ جات نے ترقی کے منازل طے کر کے صوبائی درجہ حاصل کیا ہے تو اس خوشی میں حکمرانوں نے مریضوں سے پر چی فیس کے نام سے 10 روپے بھتہ مریض کے ہسپتال میں قدم رکھنے کے لئے جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب کے مریض سے معائنے کے نام سے اور تکلیف پوچھنے کے 25 بستر پر لیٹنے کی اجازت نامے کے 100 روپے رات بغیر دوائی روٹی اور کمبل کے گزارنے کے 50 روپے اوپریشن کے 500 تک بھتہ وصول کیا جاتا ہے ہسپتال میں ایک پیراسٹامول کی گولی ایک سرنج بھی میسر نہیں سب کچھ مریضوں نے بازار سے خرید کے لانا ہے تو یہ فیس کس چیز کی ملک کے دیگر بڑے بڑے ہسپتالوں میں بھی اتنی فیس نہیں لی جاتی ہے حالانکہ ان ہسپتالوں میں اعلاج تو ہوتا ہے اگر مریض نے فیس دے کر بھی شام کو ڈاکٹر صاحب کی کلینک میں جاکر پھر لٹ جانا ہے تو ان سرکاری ہسپتالوں کو بند کر دینا چاہئے ۔ وزیر صحت کہتے ہیں کہ مریضوں پر پرچی فیس کے نام سے ٹیکس ان کی مرضی سے لگا ہے بلکہ وہ اس کی مخالفت کرتا ہے عوام سراپا احتجاج ہیں ایک تو اس پر چی فیس کی وصولی کا طریقہ کار شفاف نہیں ہوتا لی جانے والی فیس کئی ایک ہاتھوں سے گزر کر کرپشن کے نظر ہوتی ہے اس فیس کے لینے سے نہ تو غریب مریضوں کو کوئی فائد ہ ہوتا ہے اور نہ ہی حکومتی خزانے کو کوئی فائدہ ملتا ہے ۔

حکومت اور محکمہ صحت کے اہلکاروں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ دوائی کی مد میں ملنے والا سالانہ بجٹ مریضوں کی خوراک کے لئے ملنے والی رقم کون کھا گیا ۔آ ج ہسپتال غریب مریضوں کے لئے کیو ں نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں ہسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے نہ صفائی اور نہ ہی دوا غریب پریشان حال ہیں قوم کے مسیحا ء اپنے حقوق کے لئے تو روزروز ہڑتالیں کر کے حکومت کو اپنے حقوق تو منواتے رہے مگر کوئی ایک مرتبہ بھی انہوں نے مریضوں کے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائی جو ان کے حلف میں شامل تھا حکمرانوں کو عوام الناس کے اس دیرینہ مسئلے پر غور کرنا ہوگا اپنے شاہی اخراجات میں کمی کرکے غریب مریضوں کو ریلیف دینا ہوگا ورنہ غریبوں کی دعائیں ان کی کشتی سمندر میں ڈبودیں گی صوبائی پیکج سے ذاتی تشہیری پروٹوکول کے نشے میں دھت حکمرانوں کی حوش کے ناخن لینے ہونگے چونکہ وفاق میں تبدیلی کے آثار نمایا ہیں گلگت بلتستا ن کے موسمی پرندوں نے بھی اپنے پر جھاڑ نے شروع کئے ہیں وفاقی حکومت میں تبدیلی کے ساتھ ان کا ممبر جاگ جائے گا اور اگلے پانچ سالوں کے لئے ان ضمیر فروشوں نے عقد ثانی کرنا ہے لیکن اس مرتبہ ان کو اس تبدیلی میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ مریضوں سے پرچی فیس لینے کا یہ قصہ توتمام ہوگا ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کو دیگر بہت سارے معاملات کا حساب بھی دینا ہوگا.

اب اگر حکومت مریضوں سے بھتہ لینے پر بضد ہی ہے تو ڈاکٹروں کی پرائیو یٹ پریکٹس پر پابندی لگائی جائے ہسپتال میں مریضوں سے لی جانے والی فیس میں مسیحا ہوں کا کمیشن مکرر کیا جائے تاکہ مریض صبح سرکاری ہسپتالوں میں اور شام کو پرائیویٹ کلینک میں دوبار لینے سے بچ جائیں اگر یہ ممکن نہیں تو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فوری طور پر ایک اجلاس بلاکر اپنی فیسوں میں کمی کا اعلان کریں کیونکہ اب ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے وہ یہ کر سکتے ہیں مریضوں کے لئے ایک امید کی کرن سپریم اپلٹ کورٹ کے سو موٹو ایکشن لے کر حکام کو بلایا ہے اللہ کرے عدالت اس بھتہ خوری کا خاتمہ کرے گی یا حکومت کو اس بات پر تیار کرے گی کہ اگر فیس لینا ہی ہے تو پھر مریضوں کو وہ سہولیات بھی دی جائیں جس کی ان سے پیسے لئے جاتے ہیں مریضوں کو دوائی خوراک اور دیگر سہولیات ہسپتالوں میں ملیں اس پر چی فیس جس کو میں بھتہ خوری کہتا ہوں کے خلاف میں نے آواز اٹھائی گلگت بلتستان ورلڈ فورم کے پلیٹ فارم سے تو مو جود ہ ڈاکٹروں کی تنظیم نے مجھے اس پلیٹ فارم سے عاق کرنے کا اعلان کیا مجھے بیرون ملک جانے عرصہ دراز سے محکمہ صحت سے لاتعلق کا اعلان کیا مجھے خوشی ہے کہ میں ان جرائم میں شریک نہیں نہ مریضوں کی خوراک نہ دوائی نہ زکواۃ اور پولیو کے پیسے کھانے میں اور نہ ہی موجود پرچی فیس کے اطلاق میں میر ا کردار ہے جوPMA آج جس مقام پر کھڑی ہے اس کی بنیاد میں نے رکھی تھی جو آج درخت بنا ہے جس کی کامیابی کا ذکر کرکے اس کے عہد یدار آج خوشیاں منارہے ہیں اس کی آبیاری میں ہمارا بھی خون پسینہ شامل ہے موجود ہ ڈاکٹروں کی تنظیم کی حلف وفاداری کے بعد سربنہ لاج کے لان میں سننے میں آیا ہے کہ مسیحا ء ناچ رہے تھے اللہ جانے یہ خوشی پرچی حضوری کی یا کلینکس میں مریضوں کی تعداد میں اضافے پرتھی یا پرچی فیس کے اطلاق پر تھی مسیحاؤں میں بے شمار فرشتہ صفت بھی ہیں تو بعض مسیحاؤں کے روپ میں قصائی بھی بے شمار ہیں جن کے نظروں میں صرف پیسے کی عزت ہے انسانیت کی نہیں خیر میں پر امید ہوں کہ پرچی فیس لگانے والوں کو منہ کی کھانی پڑئے گی اور یہ فیصلہ واپس لینا پڑئے گا نہیں تو گلگت بلتستان ورلڈ فورم اور سول سوسائٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلان جنگ کریں گے آ ج نہیں تو کل یہ فیصلہ ضرور واپس ہوگا انشاء اللہ ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔