نیٹکو سے کشتیوں کی خریداری کے لیے جاری کیے گیے اڑھائی کروڑ روپوں کا حساب لیا جائے، گوجال لوکل سپورٹ نیٹ ورک کا مطالبہ

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (پریس ریلیز) گوجال لوکل سپورٹ نیٹ ورک نے حکومتی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوے الزام لگایا ہے کہ پچھلے سالوں میں ملنے والی چائینز ریلیف آئٹمز انتظامیہ کے ارکان نے خورد برد کر دیے اور حقداروں کو محروم رکھا. پریس ریلیز میں نیٹکو کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے ہوے کہا گیا ہے کہ اڑھائی کروڑ روپے کشتیوں کی خریداری کے لیے جاری کیے گیے لیکن ابھی تک کشتیوں کے بارے  میں عوام کو جھانسے دیے جا رہے ہیں.

پریس ریلیز میں گلگت بلتستان حکومت اور وفاقی حکومت کی توجہ ا درج ذیل اہم اور غور طلب مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے ان کے فوری اور ضروری حل کیلئے اقدامات  اٹھانے کی پر زور اپیل کی گئی ہے:

۱۔ سانحۂ عطا آباد کے بعد اپنے گھر وں سے بے گھر ہونے والے متاثرین ( IDPs) کی بحالی کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے ۔

۲۔ گوجال کو سانحہ عطا آباد کے بعد وفاقی حکومت نے ڈیزاسٹر ہٹ ایریا (Disaster hit Area) قرار دینے کے باوجود عوامِ گوجال کو اس کے فوائد یعنی زرعی قرضہ جات کی معافی، بجلی اور ٹیلی فون کے بلات میں رعایت یا معافی کی سہولیات نہیں ملی ۔

۳۔ گوجال کے سٹوڈنٹس کو ایجوکیشن کی مدد میں مالی امداد کیلئے سات کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا مگر دو کروڑ روپے ابھی تک تقسیم ہوئے ہیں بقیہ رقسم سٹوڈٹس کو تاحال فراہم نہیں کی گئی ۔

۴۔ جاری منصوبوں کی عدم تکمیل اور نئے منصوبوں کی عدم فراہمی ، جس میں مسگر پاور اسٹیشن کی تعمیر اور گرلز ہاسٹل گلمت شامل ہیں ۔

۵۔ گلمت دس بستروں کا ہسپتال جو کہ 2010ء میں مکمل ہوا تھا مگر اب تک نہ ڈاکٹر ہے اور نہ ہی دیگر سٹاف تعینات کیا گیا ہے۔ پہلے سول ڈسپنسری میں میڈیکل آفیسر تعینات ہمیشہ ہوتا رہتا تھا مگر اب جب سے دس بستروں کا مکمل ہسپتال تعمیر ہوا ہے کوئی ڈاکٹر تعینات نہیں جس کی وجہ سے حادثات کے وقت ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے باعث اموات واقع ہوتی ہیں ؛۔

۶۔ چائنہ سے گزشتہ سال امداد کی شکل میں فیول (Fuel) جو ملا تھا انتظامیہ نے اسکو فروخت کرکے اسکی رقم گوجال کے بہبود اور ترقی پر خرچ کرنے کا یقین دلایا تھا مگر اسکی رقم خرد برد کی گئی ہے اور اس کا ایک پائی بھی گوجال میں خرچ نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا عوام الناس شدید غصے میں ہیں ۔

۷۔ جناب سپیکر قانون ساز اسمبلی کی جانب گوجال وزٹ کے دوران گوجال کو سب ڈویژن کا درجہ ملنے کی خوش خبری سنائی تھی اور اس کے نوٹفیکیشن کا ذکر کیا تھا مگر وزیر امور کشمیرو گلگت بلتستان منظور وٹو صاحب نے اس نوٹفیکیشن کو مسترد کیا ہے جس سے عوام میں بے چینی ، مایوسی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

۸۔ جناب سپیکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کے مطابق NATCO کو کشتی کی مد میں اڑھائی کروڑ روپے کی رقم فراہم کی گئی تھی لیکن وہ رقم کہاں استعمال ہوئی اسکا کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی عوام کی سہولت کے لئے ہر موسم میں چلنے والی کشتی خریدی گئی ہے۔ لہٰذا NATCO کے ذمہ داران سے اس حوالے سے جواب طلب کی جائے۔ NATCO نے اس علاقے کی وجہ سے ترقی کے عروج کو چھوا لیکن یہاں کے عوام کو کوئی سہولت مصیبت کی اس گھڑی میں نہیں دی۔

۹۔ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث دفتری اور دیگر ضروری کام متاثر ہورہے ہیں ۔ علاقے میں چلتے دریا پر اور نالوں میں بجلی پیدا کرنے کی فزیبلٹی موجود ہے لہٰذا فوری طور پر مسگر پاور اسٹیشن کو مکمل کی جائے اور دیگر ممکنہ منصوبو ں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کی جائے تاکہ توانائی کے کمی کو ہنزہ سطح پر کم کیا جاسکے۔

۱۰۔ ڈیزاسٹر کے دوران جناب قمر الزمان کائرہ اور چیف سکریٹری کی وزٹ کے دوران یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ یہاں کے نوجوانون کو حکومتی اداروں میں تقرریوں کے دوران ترجیح دی جائے گی مگر اس کے برعکس یہاں کے بہت کم نوجوانوں کو ملازمت میں موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اپنے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے یہاں کے نوجوانوں کو مختلف سرکاری اداروں میں ملازمت میں ترجیح دی جائے ۔

۱۱۔ سانحہ عطا آباد کے بعد ششکٹ، گلمت ، غلکین اور حسینی میں دریا کے کنارے آباد زمین پانی برد ہوئے جس میں زیر کاشت زمین کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں پھلدار اور غیر پھلدار درخت ، دوکان ، ہوٹل اور دیگر عمارت بھی زیر آب آئے ۔ لیکن ان کے مالکان کو کوئی معاوضہ ملا اور بلکہ بچنے والے زمین پر شاہراہ قراقرم کو حسینی تک لنک کرنے کیلئے روڑ تعمیر کیا گیا نہ ان کا معاوضہ ملا اور نہ ہی NHA کی جانب سے زمینوں کا معاوضہ تاحال ملا ہے۔ لہٰذا س عمل کو تیز تر کیا جائے ۔

۱۲۔ سردیوں میں جھیل میں ککر جمنے سے کشتی سروس بالکل منقطع ہوجاتی ہے ۔ لہٰذا اس کے متبادل پونی ٹریک تعمیر کرنے کا فوری اعلان کرنے کے بعد اسے روکا گیا ۔ اور تاحال کوئی جواب نہیں ہے لہٰذا یا تو فوری طور پر سیزن سے قبل پونی ٹریک کا کام شروع کیا جائے یا خراب سیزن میں بھی چلنے کی صلاحیت والی کشتیوں کا فوری بندوبست کیا جائے تاکہ سردیوں میں سٹوڈنٹس، مریض اور ضروری کام سے جانے والوں کو فوری نقل و حمل کی سہولت مل سکے ۔

۱۳۔ گوجال کے تاجرو ں کو تاشقر غن یا کاشغر چائنہ تک مفت پاس فراہم کی جائے اور فری ٹریڈ زون بنایا جائے تاکہ تاجر ضرورت کی اشیا ء چائنہ سے لاکر علاقے میں عوام کو سپلائی کرسکے۔ اسکے علاوہ علاقے کے تاجروں کو روزگار کے بہتر سہولیات میسر ہوں۔

پریس ریلیز میں گولسن کے چیرمین عبدل رشید نے اُمیدظاہرکی  ہے کہ وفاقی اور گلگت بلتستان حکومت درج بالا گزارشات پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر عمل در آمد کو یقینی بنائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔