شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ……

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ……

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میراگزشتہ کالم’’ نانگا پربت کون کیا حاصل کرنا چاہتا ہے‘‘ شائع ہوا تو مجھے کئی کالز،ای میلز اور دیگر پیغامات اور آن لائن Comments موصول ہوئے کہ’’ میں سیاحوں کے قتل پر اہل دیامر کو ملوث کیوں نہیں سمجھتا‘‘؟۔مجھے اپنے ان پڑھے لکھے دوستوں پر بے حد خوشگوارتعجب ہوا جو آج کے اس Updateدور میں بھی وہی دقیانوسی اور روایتی خیالات پال رکھتے ہیں۔ اور اختلاف دلیل و برہان کے بجائے ذاتی خیالات ورجحانات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ بالخصوص اس پیراگراف پر ہر قاری نے اپنی رائے مجھ تک پہنچانا ضروری سمجھا۔کچھ نے سخت اختلاف کیا،کچھ نے دبے لفظوں میں اشکال کیا اور کچھ نے بات کی تہہ تک پہنچے بغیر تائید کی۔سب کا شکریہ۔پراگراف ملاحظہ ہو۔

’’میری دانست کے مطابق یہ سانحہ ملک پاکستا ن اور گلگت بلتستان کے امیج کو خراب کرنے کی ایک اہم کڑی تو ہے ہی مگر ضلع دیامر کو بدنام کرنے کی اہم ترین سازش ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں،یہ بات تو ہم سب پر عیاں ہے کہ یہ واردت امریکی گریٹ گیم کا اہم حصہ ہے۔امریکہ مسلم دنیا کا تھوڑا سا مفاد بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔گوادر چین کے حوالہ کیا گیا ہے جو امریکہ کو ہضم نہیں ہو پارہا ہے۔گوادر بذر یعہ دیامر چین تک لنک کرتا ہے۔ اور دیامر بھاشا ڈیم بھی ضلع دیامر میں بن رہا ہے۔پاک چائنہ ریلوے ٹریک استعماری قوتوں کو ناقابل برداشت ہے ۔ کچھ نادیدہ قوتیں ایسی ہیں کہ جنہیں عالمی سطح پربالعموم گلگت بلتستان اور بالخصوص دیامر اور اس کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی مقبولیت پسند نہیں، اس لیے تو اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ امریکی استعماری قوتوں کا ایک اہم ایجنڈا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جہادی سرگرمیاں ہوں وہاں مداخلت کرتا ہے اور ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو امت مسلمہ کے لیے تباہ کن ہو۔یا پھر جہاں سے جہادی سرگرمیاں پیدا ہونے کا امکان ہو وہاں بھی جان بوجھ کر ایسے کراتا ہے کہ مقامی حکومتیں وہاں کے عوام سے نبرد آزما ہو۔پھر افراتفری پیدا ہوجائے اور اندرونی خانہ جنگی ہو۔‘‘

آج اس پیراگراف کے تناظر میں مختصراً چند باتیں عرض کیے دیتے ہیں۔اس میں دو رائے نہیں کہ میری دھرتی میں کشت و خون کا بازار گرم کرنے والے نہایت مکروہ لوگ ہیں۔نانگا پربت میں دوست ممالک کے سیاحوں کا قتل عام کرنے والے انسانیت اور اخلاق سے نابلداور عاری ہیں۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ عرصے سے امریکہ انتہائی مشکل حالات کا سامنا کررہا ہے،دوحہ میں افغان طالبان سے مذاکرات کاڈھول پیٹ رہا ہے، اور پاکستان کو بائی پاس کرنا چاہتا ہے۔ جس کے لیے وہ اپنی قومی سلامتی کے نام پر یہاں کسی بھی گھناؤنی کھیل کھیلنے سے باز نہیں آئے گا۔ اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں اکثر بیرونی اثرات کی وجہ سے فرقہ وارانہ لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ بھی ہم سب پر عیاں ہے کہ وطن عزیز اور گلگت بلتستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کے نیٹ ورک وسیع پیمانے پر موجود ہے۔غیر ملکی ایجنٹ خود اس قتل وغارت میں ملوث ہوسکتے ہیں۔یا پھر ان کے مقامی ایجنٹ ان کے لئے یہ خونی کھیل کھیل سکتے ہیں۔جس نے بھی خون کی یہ ہولی کھیلی ہے وہ دیامر، گلگت بلتستان اور پاکستان کا غدار ہے۔اس کی شکل کوئی بھی ہو۔نانگا پربت قتل کیس کا واضح فائدہ ناٹو اور امریکہ کو حاصل ہے۔بہت سارے شواہد منظر عام پر آئے ہیں مزید بھی آئیں گے۔۔

کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جب امریکہ اس خطے سے واپس جارہا ہے تو وہ دہشت گردی کی دھکتی آگ میں کچھ تازہ لکڑیا ں پھینک رہا ہے۔ہمارے ملک میں امریکی مداخلت اور اثر ورسوخ اس حدتک بڑھا ہوا ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار کو بھی اس کا اندازہ نہیں۔یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ایک عام شہری بھی ان کے شرور ظاہریہ و باطنیہ سے محفوظ نہیں۔امریکی اور انڈیائی ایجنٹ بلیک واٹر اور دوسری ایجنسیوں کی آڑ میں اس خطے کو مزید زخمو ں سے چور چور کررہے ہیں۔اس سے بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں انہیں میرجعفر وں اور میر صادقوں کی معاونت اور سہارا حاصل ہے۔اور دکھ اس بات پر ہے کہ ہم آپس میں دست وگریباں ہیں۔کیا میرے شاکی دوست بے خبر ہیں کہ انڈیا کی آشیر باد پاکستان دشمن ملکوں بالخصوص امریکہ ،اسرئیل کو حاصل ہے۔کیا ہمارے خفیہ اداروں نے بارہا اہم حادثاتی مقامات پر انڈیا اور روسی ساخت کا بھاری اسلحہ نہیں پکڑا ہے؟۔کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ روس بھی اس دھرتی عزیز کے دشمنوں کے ساتھ خفیہ پلان بنا رہا ہے؟کاش کسی کو یہ سمجھ آئے کہ اکلوتا اسلامی ایٹمی پاور ملک کے خلاف دہشت گردی کی ٹریننگ کوئی دے رہا ہے، پلان اور پالیسی کوئی بنا رہا ہے اور اسلحہ بارود کوئی پہنچا رہا ہے۔ اور جائے وارادت کا تعین کوئی کررہا ہے اور مقامی غداروں کو کوئی اور تیار کررہا ہے۔ اور ایک ہم ہے کہ اپنے تمام مخلصین کو اپنا دشمن بنا بیٹھے۔کاش ہمارے حساس ادارے ہمیں آپس میں لڑوانے اور اپنے پرانے دوستوں اور بے وظیفہ سپاہیوں کو اپنا دشمن بنانے کے بجائے ان بیرونی عناصر پر ہاتھ ڈالتے جنہوں نے اس دھرتی جنت نظیر کو جہنم بنا رکھا ہے۔ہماری دھرتی کے ساتھ روز جو کچھ ہورہا ہے وہ انتہائی حد تک ناقابل برداشت ہے۔کیا افواج پاکستان اور حکمران پاکستان روز ہونے والے دھماکوں، ڈرون حملوں اور قتل و غارت کی مذمت نہیں کرتے پھر بھی یہ رکنے کانام نہیں لیتے۔اگر کوئی تو ہے اس پردہ نگاری میں۔

میرے دوست اصرار کررہے ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی ہے تو یاد رہے کہ اس ذمہ داری کابھانڈا بیچ چوراہے کھلے گا۔کیا بار با ر ایسانہیں ہوا کہ ٹی ٹی پی نے فوراً ذمہ داری قبول کی اور بعد میں اصل مجرم کوئی اور نکلا۔ٹی ٹی پی کا ہیڈ کوا رٹر وزیرستان ہے، ان کی نقل و حرکت بہت ہی محدود ہے اور حملے کے مقامات بھی متعین اور معلوم۔ انصا ف سے بتاؤ کیا ٹی ٹی پی ایک انتہائی حساس،ہمہ وقت بین الاقوامی نظروں میں رہنے والے علاقے میں اس لیول کی کاروائی کرکے فرار ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟اگر سمجھ نہیں آرہا ہے تو کسی عسکری ماہر سے ہی پوچھ لینا۔ عسکری ماہرین کی آراء سامنے آچکی ہیں کہ یہ دہشت گرد انتہائی تربیت یافتہ اور ہائی ٹریننگ یافتہ تھے۔سیکورٹی اور موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔یہ ٹی ٹی پی یا مقامی لوگوں کی بس کاروگ نہیں‘‘۔ یہ گریٹ گیم کا ایک اہم حصہ ہے جس کے لیے فٹ بال اور میدان ہمیں بنایا جارہا ہے، اصحاب فکر و دانش اور صاحب مطالعہ احباب خوب سمجھتے ہیں مگر پھر بھی تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔سچ بتانے سے گریز کیاجا رہا ہے، اگر کوئی بتانے کی کوشش کرتا ہے تو دیوانے کی بھڑ سمجھا جاتا ہے۔ جن ملکوں کے سیاح دہشت گردی کا ہدف بنے ان میں تین ممالک ایسے ہیں جو سلامتی کونسل میں کسی بھی فیصلے اور قرارداد کو تنسیخ کا اختیار رکھتے ہیں۔یہ اہم سوال ہے کہ مختلف ملکوں اور قوموں کے سیاح اس طرح اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ٹور آپریٹرز والوں کو واضح بتانا چاہیے۔ ایک اوراہم سوال بار بار مجھے تنگ کر رہا ہے کہ کیا ان غیر ملکیوں کے مکمل کوائف معلوم ہوسکے؟ بہت جلد معلوم ہونگے اور پھر یہ بھی معلوم ہوگا کہ اصل ورادت کرنے والے کون ہیں۔فی الحال اس موضوع کو نہیں چھیڑتے۔ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ حملہ آوروں کے تمام تر اہداف غیرمقامی تھے۔

ہمیں انتہائی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان میں کون سے ایسے گروہ اور لوگ ہیں جو اس لیول کی کاروائی کی مکمل طاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔اور اس بات کا بھی عمیق جائزہ لینا چاہیے کہ مقامی سطح پر لوگ ایسی ماہرانہ عسکری کاروائیوں کی پوزیشن میں ہیں؟۔ کہی ایسا تو نہیں کہ ہم اتنی پیچیدہ کاروائیوں کا تجزیہ پروپیگنڈہ اورسطحی معلومات کی بنیاد پر تو نہیں کررہے ہیں۔لالو سرواقعہ،کوہستان واقعہ اور نانگا پربت واقعہ کا تجزیہ حقائق کی بنیاد پر خالی الذہن ہوکر ،علاقائی، مذہبی اور لسانی تفرقات سے ہٹ کر کرنا ہوگا۔ کہی ایسا نہ ہو کہ ہم آپس میں دست و گریباں رہے، ایک دوسروں کی پگڑیاں اچھالتے رہے اور ایک دوسروں کے علاقوں پر اپریشن کی دعوتیں دیتے رہے ایک دوسروں کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنتے رہے اور آپس کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہے ،اور عالمی ایجنسیاں، ملک دشمن طاقتیں اور ان کے زرخرید مقامی غدار ،جو خونی ڈرامے رچانا چاہتے ہیں و ہ کامیاب ہوجائیں۔خدا کی قسم ایک نادیدہ قوت ہماری آپس کی ناچاکیوں اورہزیانی حالت پر ہنس رہا ہے ، ہم ان کے لیے مضحکہ کا سامان بنے پھر رہے ہیں۔ تف ہو ایسی حالت پر۔بہر صورت ہمیں اجتماعی طور پر بالخصوص ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کسی بھی وقت ہمارے لیے سوہان روح بن سکتی ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ مشکل کے اس وقت میں ہمیں باضمیراور مخلص قیادت کی طرف سے چند سخت ، سنجیدہ اورغیرت مند فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اس کالم کو ذرا غور سے پڑھا جائے ، بین السطور میں آپ سے کچھ کہا گیا ہے۔

اندازِ بیاں گرچہ میرا شوخ نہیں ہے

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments