نلتر نامہ: حصہ دوم

نلتر نامہ: حصہ دوم

66 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

برچہ صاحب تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ پبلک لائبریری گلگت کے کتاب دار رہے ہیں ۔اس طویل عرصے میں انہوں نے قارئین کے کئی رُوپ دیکھے ہیں ۔مطالعے کے گھٹتے بڑھتے رجحانات دیکھے ہیں۔حکامِ بالا کی طرف سے کتب سے دلچسپی اور بے زاری کے رویے دیکھے ہیں ۔

ان کی ایک بات نے بہت فکر مند کر دیا ۔یہاں کی افسر شاہی نے ہمیشہ نہیں تو وقتاََ فوقتاََ لائبریری کی بہتری اور ترقی کے لیے اقداما ت کئے۔مگر ہماری منتخب سیاسی اشرافیہ ہمیشہ اس سے انجان بنی رہی ۔کبھی کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ لائبریری آکے ،علم اور دانش کے اس ماخذ کی حالت جان لے۔اس کے برعکس مختلف مواقع پہ اس کے لیے مشکلات ضرور کھڑی کیں۔

گلگت شہر میں واقع پبلک لائبریری کی تصویر

میں نے پوچھا۔’’سر! آپ طویل عرصہ اس سے وابستہ رہے ہیں۔لوگ کتابوں کے لیے بھی اور آپ سے ملنے کے لیے بھی لائبریری آتے رہے ہیں۔آپ نے کتب سے لگاؤ کا رجحان کیساپایاہے؟‘‘

برچہ صاحب بولے۔’’پہلے پڑھنے والے زیادہ تھے۔طالب علم ہوں یا عام پڑھے لکھے لوگ ہوں ،بڑی تعداد میں لائبریری آتے تھے۔جب سے جدید ایجادات انٹرنیٹ ،ٹی وی اور موبائل نے اودھم مچایا ہے،اس سے لوگوں میں شوق کے پیمانے بدل گئے ہیں۔اس کے ساتھ گلگت کے مخصوص حالات نے بھی وہاں آنے والوں کو متاثر کیا ۔پبلک لائبریری چونکہ ایک گنجان آبادی کے اندر ایک محلے میں ہے۔بدقسمتی سے ہم میں دوریاں اور بدگمانیاں بہت پیدا ہوگئی ہیں ۔اس لئے میرے آخری آٹھ دس سال صورت حال خوش کُن نہیں تھی۔‘‘

میں نے عرض کیا۔’’سر! مجھے یاد ہے، برسوں پہلے جب دلوں میں دوریوں کی دُھول نہیں جمی تھی۔میں اکثر لائبریری آتا تھا۔پھر آپ سے گفتگو کے شوق میں گھنٹوں آپ کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔آپ کی بات درست ہے ان ہی زہریلے رویوں کی وجہ سے دوسروں کی طرح میرا بھی آنا متاثر ہو ا۔آپ کا دل بھی تو یقیناًدکھتا ہوگا یہ صورتحال دیکھ کر…؟‘‘

نلتر کی ایک دلکش تصویر

انہوں نے کہا ۔’’ظاہر ہے ایک لائبریرین، پڑھنے والوں میں اضافہ ہو تو مسرت محسوس کرتا ہے۔صورت حال اس کے برعکس دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا تھا۔ایک بار میرے پاس کچھ پڑھے لکھے نوجوان آگئے۔وہ مختلف یونیورسٹیز اور کالجز میں پڑھتے تھے۔وہ یہی شکوہ کر رہے تھے ہم لائبریری سے صحیح طرح استفادہ نہیں کر سکتے ہیں۔یہاں آتے ہوئے ہم سہولت محسوس نہیں کرتے ہیں۔ایک خوف کی کیفیت رہتی ہے۔

’’میں ان کے جذبات سمجھتا تھا۔مجھے خود بھی اس بات کا احساس رہتا تھا۔میں نے انہیں تجویز دی آپ حکام بالا سے ملیں۔شہر کے وسط میں ایک ایسی جگہ جہاں سب بے فکری سے اورآزادی سے آ جا سکیں ،وہا ں لائبریری کے قیام کی بات کریں۔وہ نوجوان بڑے پر جوش اور جذباتی تھے۔ایک آدھ بار کسی بڑے سے ملاقات بھی کی۔مگر افسر شاہی کے روایتی ہتھکنڈوں اور اپنے سیاسی قائدین کی ازلی کم عقلی کی وجہ سے بہت جلد وہ نوجوان مایوس ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔

’’ اکثر فورمز پہ میں نے خود بھی بتا دیا ہے۔موجودہ لائبریری کی عمارت چونکہ ایک تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے۔اسے ایک میوزیم کا درجہ دیا جائے۔یہاں کی تاریخ اور ثقافت سے متعلق کچھ نایاب اور نہایت اہم کتب یہاں رہنے دی جائیں۔باقی کتابوں کو کسی کھلی اور مناسب عمارت میں منتقل کیا جائے۔مگر….اے بسا آرزو کہ خاک شد

اصل میں حکامِ بالا کی ترجیحات میں کتاب اور علم دور دور تک موجود نہیں ۔اب کوئی مہربان اور کتاب دوست ہی ایسا کر سکتا ہے۔‘‘

دکھی صاحب بولے ۔’’میں توپھر بھی آیا کرتا تھا۔اصل میں آپ کی محبت ہی اتنی تواناتھی کوئی بھی حالت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔مگر جب سے آپ لائبریری سے سبکدوش ہوئے ہیں ۔میں وہاں نہیں گیا۔‘‘

برچہ صاحب ہنس دئے۔’’اکثر احباب مجھ سے یہی کہتے ہیں۔یہ ان کا حسنِ ظن ہے۔ویسے آپ لوگوں کو جانا چاہیے۔لائبریری سے ناتا توڑنا ایک طرح سے علم و ادب سے منہ موڑنا ہے۔میں بھی اکثر وقت نکال کر وہاں چلا جاتا ہوں ۔میرا اسسٹنٹ ہی اس وقت ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔‘‘

نلتر کی طرف جانے والی بل کھاتی سڑک

میں نے کہا ۔ ’’ویسے سر!یہ المیہ ہی ہے۔لوگوں کے پاس پیسہ بھی آگیا ہے ۔lifestyle میں تبدیلی بھی آگئی ہے۔مگر ترقی یافتہ دنیا کے قدم بہ قدم چلنے کاسلیقہ نہیں آیا۔ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔کیا اس زوال کی ایک اہم وجہ علم سے دوری نہیں….؟ دیکھئے نا ویسے تو تعلیم عام ہے ۔بڑے چھوٹے ،سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بہتات ہے۔ہر سال تھوک کے حساب سے ڈگریاں تقسیم ہوتی ہیں۔ان میں سے بہت کم مگر علم سے ،بلند سوچ سے ،وژن اور کچھ کر دکھانے کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں ۔اور اکثر اوپر سے سند یافتہ پڑھے لکھے،اندر سے بس …ٹائیں ٹائیں فش ! ۔کیونکہ نصاب سے ہٹ کر انہوں نے کچھ پڑھا نہیں۔اس میں قصور تعلیمی اداروں کا بھی ہے،حکومتی اداروں کا بھی۔تعلیمی اداروں میں لائبریریز ایک بڑے کمرے میں کتابوں کی کچھ الماریوں کی حد تک تو ہیں،مگر کتاب سے مضبوط رشتے کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اس سے یکسر عاری ہیں۔حکومتی سطح پر پورے ملک میں بہت کم پبلک لائبریریز ہیں۔اور جو ہیں وہا ں بھی لوگوں کو جدید ایجادات کی چمک دمک سے نکال کر کتاب کی طرف لانے والا عملہ اور ماحول نہیں ۔ذرا سوچیں اس پورے گلگت شہر میں محض ایک آدھ پبلک لائبریری ہے۔پھر ہمارا زوال اورذلت کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔‘‘

برچہ صاحب دکھ سے بولے۔’’آپ حیران نہ ہوں امریکہ میں عوامی لائبریریاں ایک لاکھ بیس ہزارکے قریب ہیں۔۵۰ریاستوں پہ مشتمل اس ملک کے چھوٹے سے چھوٹے قصبے میں بھی دوسری سرکاری عمارتوں مثلاََ عدالت،پولیس ،اسپتال اور سکول کے علاوہ ایک پبلک لائبریری بھی لازماََ موجود ہو گی۔

اس کے مقابلے میں پاکستان بھر میں عوامی ،سرکاری اور تعلیمی اداروں کی لائبریریاں بھی ملا کے دو ہزار سے کم ہیں۔پھر آج امریکہ سپر پاور ہے ،اس کی معیشت ،اس کی طاقت اور اس کا ہر ادارہ کامیاب ہے تو ہمیں تکلیف کیوں ہونی چاہیے؟ا ن لوگوں نے ترقی اور کامیابی کا راز پا لیا ہے۔اور وہ ہے….علم،کتاب ،تجسس اور لگن…‘‘

نلتر کے درمیان سے گزرنے والی سڑک

رات گزرتی جا رہی تھی۔چاند کی روشنی کھڑکی کے باہر نرسری کے درختوں سے سر گوشیاں کر رہی تھی۔اور ہم بھی اس بھیگتی رات میں محوِکلام تھے۔برچہ صاحب اور دکھی صاحب اپنی زندگی کے یادگار واقعات سنا رہے تھے۔علمی و ادبی رویے،سیاسی ، سماجی اور مذہبی رجحانات ،دفاتر اور بازاروں میں بددیانتی کے معاملات…

بہت رات گزری تھی۔ہمارے باقی ساتھی سوگئے تھے۔سحری کے لیے گھنٹے سے بھی کم وقت رہ گیا تھا۔برچہ صاحب کرسی پہ کچھ بے سکونی محسوس کر رہے تھے۔دکھی صاحب بولے ۔’’ کچھ دیر کمر سیدھی کر لیتے ہیں ۔صبح جھیلوں کی طرف بھی جانا ہے۔وہاں کا روڑ بہت شکستہ ہے۔اس لیے تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں۔‘‘

میں اپنے کمرے میں آیا۔سونے کے لیے وقت نہیں تھا۔اس لیے کاغذ قلم نکال کر سفر کی یادداشتیں نوٹ کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

 

گلگت کی ایک نہایت مشہور اور خوبصورت وادی، نلتر کا سفر نامہ – حصہ اول

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments