آزادی کی صبح

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آزادی کی سترویں صبح طلوع ہوئی تو ارض پاک کے متوالوں کو اس کی مٹی پہ سجدہ ریز پایا ۔۔خوشی میں جھومتے دیکھا ۔۔صبح ہنس پڑی ۔۔کہا ستر سال کی بوڑھی مٹی ۔۔خاک وطن ۔۔ جس پر جان نچھاور کرنے کو یہ پاگل بے تاب رہتے ہیں ۔۔۔صبح ہنستی ہے ۔۔۔ہر طرف عزم و ہمت ، وعدہ وعید ،نعرہ ،خوشی مسرت ،شکر ،جذبہ تعمیر کے نعرے ہیں ۔۔بچوں کی آنکھوں میں خوشی ہے ۔۔بوڑھوں کی آنکھوں میںآنسو ہیں ۔۔جوانوں کی آنکھوں میں ایک جذبہ روشنی بن کے اُتری ہوئی ہے ۔۔۔صبح یہ سب کچھ دیکھ کے حیران ہو جاتی ہے ۔۔ اس سمے اس کے سامنے تاریخ کا جھروکا کھلتا ہے ۔۔دیکھتی ہے کہ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی جاری ہے ۔۔ملک پر اغیار کا قبضہ ہو گیا ہے ۔۔مسلمان حیران و پریشان ہیں ۔غلامی کا سایہ پڑگیا ہے ۔۔لیکن آزادی کی چنگاری بجھتی نہیں ۔۔اسی دن سے آزادی کے دیوانے میدان میں اُترتے ہیں ۔۔تحریکیں شروع ہوتی ہیں ۔۔یہ علی گڑھ تحریک ہے ۔۔یہ دیوبند تحریک ہے ۔۔یہ تحریک خلافت ہے ۔۔یہ کانگرس ہے ۔۔یہ آل انڈیا مسلم لیگ ہے ۔۔یہ ایک ماں ہے جو اپنے زیورات بھیج کر بیٹے کو تعلیم کے لئے باہر ملک بھیجتی ہے ۔۔یہ ماں ہے جو بیٹے کو نصیحت کرتی ہے

کہتی ہے ماں محمدعلی کی

جان بیٹا خلافت پہ دیدو

خون بہایا جا رہا ہے ۔۔مائیں بے اولاد ہو رہی ہیں ۔۔بچے یتیم ہو رہے ہیں ۔۔بہنیں بھائیوں کو کھو رہی ہیں ۔۔سہاگ لوٹے جا رہے ہیں ۔۔دیوانے کٹ مر رہے ہیں ۔متوالوں کا ایک کارواں بن گیا ہے۔۔منزل کا نام ’’پاکستان‘‘ ہے ۔۔نعرے بلند ہو رہے ہیں ۔۔لے کے رہیں گے پاکستان ۔۔بن کے رہے گا پاکستان ۔۔۔ اس ایک نعرے سے پربت و کوہسار ۔۔صحر او سبزہ زار ،نخلستان و کہستان ،گلی کوچے ، گھر بازار گونج رہے ہیں ۔۔دل دھڑک رہے ہیں ۔۔دیوانوں کو بھوک پیاس کی فکر نہیں ۔۔لباس و پوشاک کی فکر نہیںِ ۔۔باپ بیٹے سے کہتا ہے ۔۔’’امتحان چھوڑ دو یہ امتحان بعد میں دوگے قوم کا امتحان پھر نہیں آئے گا ‘‘چھوٹا بچہ روڈ پہ گاڑی کے ٹکرانے سے زخمی ہوتا ہے رو رہا ہے ۔۔تسلی دینے پہ کہتا ہے کہ ’’میں اس لئے نہیں رو رہا ہوں کہ میں شدید زخمی ہوگیا ہوں مر جا ؤں گا۔ بلکہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ میں نے اپنے خون کے جو قطرے آزادی کے لئے بہانے پہ محفو ظ ر کھا تھا۔۔ یہ فضول گر رہے ہیں ۔۔

صبح حیران ہوتی ہے کہ آخر کو وہ منزل آجاتی ہے ۔۔بے سروسامانی ہے مگر لوگ اپنی جائیدادیں وقف کر رہے ہیں ۔۔پارلمنٹ ہاؤس میں صبح دس بجے کی چائے نہیں آتی ۔ممبرانکہتے ہیں۔۔’’چائے کی ضرورت نہیں ہم نے گھروں سے ناشتہ کرکے آئے ہیں‘‘ ۔۔لوگ پیدل کا م پہ جارہے ہیں ۔۔تعمیر شروع ہوگئی ہے ۔۔مسجدیں آباد ہیں ۔۔بازاروں میں دھیرے دھیرے رونق آرہی ہے ۔۔سب کی آنکھوں میں روشنی ہے ۔۔شوق ہے ۔۔جذبہ تعمیر ہے ۔۔تاریخ کے واقعات سکرین پہ گذرتے جارہے ہیں ۔۔اس پاک سر زمین پہ جنگ مسلط کی جاتی ہے ۔۔جوان سرحدوں پہ سینہ سپر ہیں ۔۔مائیں سروں پہ کفن باندھے باہر نکلتی ہیں ۔۔بہنیں اپنے دوپٹے محاذ پر بیجھتی ہیں ۔۔کہ بھائیوں کی مرہم پٹی ضروری ہے ۔۔دشمن ریت کی دیوار ہے۔۔ سرفروش سرخرو ہیں ۔۔پھر ادھر ادھر للکار ہے ۔۔یہاں پہ بھی شیر کی کھچار ہے ۔۔مائی کا لال کوئی نہیں کہ میلی آنکھ سے دیکھ سکے ۔۔پھر آزمائشیں ہیں اور آزمائشوں کا ایک مقابلہ ہے ۔۔اسی طرح انہتر صبحیں گذرتی ہیں۔ یہ سترویں صبح ہے ۔۔اس صبح کا بہت پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے ۔۔اس کو مبارک صبح کہا جارہا ہے ۔آسمان سے نور بر س رہا ہے اور آآکر لوگوں کی آنکھوں میں جذبہ بن کر اُتر آیا ہے ۔۔ایک عزم ہے ۔۔ایک جذبہ تعمیر ہے ۔۔ایک آہ ہے ۔۔ایک خواب ہے اس کی تعمیر ہے ۔۔ ایک عقیدت ہے۔۔ادھر ادھر سے آوازیں آرہی ہیں ۔۔اے وطن پیارے وطن پاک وطن پاک وطن پاک وطن ۔۔۔اے میرے پیارے وطن ۔۔اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ۔۔۔۔چاند میری زمین پھول میرا وطن ۔۔۔وطن کی مٹی گواہ رہنا ۔۔میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے ۔بینر ز ہیں جھنڈیاں ہیں ۔محبت کے پھول ہیں ۔۔احترام کے انداز ہیں ۔عقیدت کی پرچھائیاں ہیں ۔یہ صبح بمبوریت کی خوبصورت سر زمین پہ بھی اُتر آئی ہے ۔۔ہائی سکول بمبوریت کو سجایا گیا ہے پاک آرمی اور ہائی سکول نے مشترکہ پروگرام ترتیب دیا ہے ۔۔بچے بچیاں ، مرد خواتیں ،بوڑھے جوان ،سب سکول کی طرف روان دوان ہیں ۔۔ پاک آرمی کے جوان ۔۔چترال پولیس کے جوان ۔۔سکول کے بچے بچیاں ۔۔صبح یہ دیکھ کے حیران ہوتی ہے کہ یہ منظر بدلا نہیں وہی ستر سال پہلے کا منظر ہے ۔۔وہی عزم ،،وہی جذبہ ۔۔وہی ولولہ۔۔وہی خوشی کے آنسو۔۔وہی عقیدت کے پھول ۔۔وہی قربانی کا ذمذمہ ۔۔ وہ دیکھو میجر ظہیر کی آنکھوں میں سر فروشی کا جذبہ روشنی بن کر اُتر آیا ہے ۔۔وہ دیکھو جاوید حیات ایک عزم کے ساتھ میدان میں اُتر آیا ہے کہ قوم کی تعمیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔۔یہ دیکھو چھوٹی بچیوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں ۔۔یہ دیکھو چھوٹے بچوں کے لبوں پہ دعائیں ہیں ۔۔اے وطن تو سلامت رہے ۔۔ صبح کو اپنے صبح ہونے پہ فخر ہوتا ہے ۔۔کیونکہ یہ ۔۔۔’’آزادی کی صبح ‘‘ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author