اپو قادر کی داستان الم

اپو قادر کی داستان الم

89 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: زاہد بلتی ستروغی یتو

پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیچ میں ہم ہیں
مثال گوہر نایاب ۔۔۔۔۔۔۔ہم پتھر میں رہتے ہیں

سطح سمندر سے 11ہراز فٹ کی بلندی پر واقع وادی سیاچن دنیا میں سیاحوں کیلئے جنت سے کم نہیں اور بلتی یول (بلتستان)کیلئے خدا کا دیا ہوا ایک انمول تحفہ ہے۔ یہاں اونچے اونچے پہاڑ گہری ندیاں،خوبصورت آبشاریں،سر سبز و شاداب وادیاں راستے میں رُکنے پر مجبور کرتے ہیں تو کہیں سکردو شہرکی سرد ریگستان جس میں آبادی نہ ہونے کی وجہ سے تا حد نگاہ ریت سے آنکھ مچولی کھیلنے کا مزہ ہی الگ ہے، کہیں زمین سونا اگلتی ھےتو کہیں زمین بنجر ھے پھر بھی یہاں بسنے والے خوش ھیں یہاں کے لوگ کالے بھی ہیں اور گورے بھی، خوبصورت بھی۔ لمبے قد والے بھی چھوٹے قد والے بھی ،اہل دانش بھی،اہل ادب،ادیب بھی شعرا۶ بھی،بلتی رسم رواج کےمطابق زندگی بسر کرنے والے بھی اور بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے بھی پھر بھی ہر کوئی یہی سوچ رکھتا ھے فایول اور فاسکت ہماری پہچان ھے (فایول) یعنی اباواجداد کی سر زمین (فاسکت) یعنی اباواجداد کی زبان!

دوستو انسان کی پہچان زبان اور علاقے سے کیجاتی ھے مگر ہمارے چند لوگ ایسے ہیں جو بلتی زبان بولنے میں عار محسوس کرتے ہیں اور علاقے کا نام لینے میں شرما ہٹ محسوس کرتے ہیں۔ تورتُک کرگل میں رہنے والے ہمارے لوگوں کو ہم سے بچھڑے 46 سال ہو گئے مگر وہ بلتی زبان بلتی ثقافت ابھی تک نہیں بھولے ہیں۔ سرحد پر کھنچی لکیر نے ہمیں جدا ضرور کیا مگر دلوں کا پیار ابھی تک دلوں سے الگ نہیں کر سکے۔

1971 کی پاک انڈیا جنگ میں بچھڑے خاندان کی ایک ایسی داستان جو محبت بھری اور پیار کی نشانی ہے جو آپ لوگوں کیلئے پیش خدمت ہے۔

جنگ سے پہلے تورتوک ٹیاقشی گاوں پاکستان کا حصہ تھا جنگ کے دوران تورتوک ٹیاقشی کے پورے علاقے کو ہندوستان نے قبضہ کر لیا اس کے بعد یہ علاقہ پاکستان سے کٹ کر ہندوستان میں ضم ھو گیا پھر سرحد پر لکیر کھینچ دی گئی جس کے نتیجے میں بہت سارے خاندا ن اپنے پیاروں سے جُدا ھو گئی سرحد کی اس لکیر نے نہ جانے کتنے لوگوں کو جدائی کا صدمہ دیا اپنوں سے بچھڑنے کا غم سہنے پر مجبور کر دیا۔

تیاقشی کا رہنے والا اپو قادر بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔1971 کی جنگ میں اپنوں سے بچھڑ گئے جنگ کے دوران اپو قادر پاک آرمی میں فوجی تھا اپو قادر کی ڈیوٹی کھرمنگ حمزی گون میں تھی۔ جنگ کی وجہ سے اپو قادر کو چھٹی نہیں ملی۔ جب جنگ ختم ھوا تو لکیر کھینچ چکا تھا۔ اسی لکیر کی وجہ سے اپو قادر بیوی بچوں سے جدا ھو گئے۔ اس کی بیوی اور بچے ٹیاقشی (ہندوستانی مقبوضہ علاقے) میں اور اپو قادر سکردو میں رہ گیا۔

اپو قادر کیلئے یہ لمحہ کتنا مشکل تھا کتنے کرب میں گزارے جُدائی کے وہ لمحے اس کا بیان ممکن نہیں ہے۔اپنے بیوی بچوں رشتہ داروں سے بچھڑنے کا غم انھیں بہت تڑپاتا رہا۔ نہ جانے کتنی راتیں روتے ہوئے گزاری۔ آخر کار 10 سال بعد بیوی کی طرف سے اپو قادر کو ایک خط موصول ہوا۔ خوشی کی انتہا نہ رہی خط پڑھتے پڑھتے جدائی کی یادوں نے سارا خط آنسووں سے بِھگو دیئے۔ دن میں کئی دفعہ خط پڑھنے لگا جدائی کے غم میں دن گزرتا گیا۔ راتیں کٹتی گئیں۔ ایک دوسرے سے مل نہ سکے۔

آخر چھوربٹ سیاری ٹاپ پر جا کر اپنے علاقے کی طرف دیکھ کر جدائی کے گیت گاتا دل کو تسلی دے کر واپس آتے۔ اس طرح اپو قارد کا سیاری ٹاپ پر جانا ایک معمول بن گیا۔ ایک دن سیاری ٹاپ پر بیٹھے ٹیاقشی کی طرف دیکھ رہا تھا موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا علاقہ بادلوں میں چھپا ہوا تھا اپو قادر یادوں کی پیاس کو مٹانے کیلئے کیا کر سکتا بلتی یول سے شام کو واپس لوڈ کر جانے والے پرندوں سے بھی کہتا تھا ہائی میرے بلتی یول سے جانے والے پنچھی اگر تیاقشی میں کہیں میری شریکِ حیات نظر ائے تو قادر کا سلام کہنا اور بتانا بلتی یول میں ہر طرف پھول کھلے ھیں جشن نوروز جشن ستروب لہ کاتہوار قریب آرہا ہے مگر تیری کمی کو پورا کرنا مشکل ہے!

دوستو جدائی کا زخم اپو قادر کو اندر ہی اندر کمزور کرتا گیا۔ بال سفید ہونا شروع ھو گئے۔ سکردو میں جہاں بھی کوئی تہوار ھوتا اپو قادر جدائی کے گیت گاتا۔ ایک دن ریڈیو سکردو پر اپو وتھول کے پروگرم سکرچن میں اپو قادر کو دعوت ملا اس وقت ریڈیو کے علاوہ اج کل کے ٹی وی موبائل وغیرہ نہیں تھے اپو قادر اپو وتھول کے پروگرام میں روتے ہوئے ایک بلتی گیت گایا وہی گیت ہندوستان میں اس کی بیوی نے بھی ریڈیو پر سن لی تھی گیت سن کر اس کی بیوی بہت روئی اور اپو قادر کی یادوں میں ایک دن دریا پر لگے پل پار کرتے ہوئے پانی میں گر گئی۔ آخر مردہ لاش دریائے شیوک کی بے رحم موجیں سرحد پار پاکستان لے کر آئیں۔  اور وادی خپلو غورسے نامی علاقے میں اپو قادر نے آہوں اور سسکِیوں میں اس کی لاش کو اپنے ہاتھوں سے سپردِخاک کر دیا۔

اس طرح محبت کی یہ داستان منوں مِٹی تلے دفن ہو گئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔