تحریک حقوق اشکومن نے حکومت کو بیس نکاتی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے 20 ستمبر کی ڈیڈ لائن دے دی

تحریک حقوق اشکومن نے حکومت کو بیس نکاتی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے 20 ستمبر کی ڈیڈ لائن دے دی

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اشکومن(نمائندہ خصوصی)تحریک حصول بحالی بنیادی حقوق اشکومن نے حکومت کوبیس نکات پر مشتمل مسائل کے حل کے لئے حکومت کو 20ستمبر تک کی ڈیڈ لائن دیدی،پیشرفت نہ ہونے کی صورت میں علاقے کے مردوزن سراپا احتجاج ہونگے۔’’تحریک حصول بحالی بنیادی حقوق اشکومن‘‘ کا ایک اہم اجلاس سید مددشاہ کے زیر صدارت چٹورکھنڈ ریسٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں نمبرداران علاقہ اور معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔اجلاس میں متفقہ طور پر بیس نکات پر مشتمل قرارداد منظور کی گئی جس پر عملدرآمد کے لئے صوبائی حکومت کو 20ستمبر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔شرکا ء نے گندم کا کوٹہ بڑھانے،سبسڈی بحال رکھنے اور غلے کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے نیزغریب عوام پر نافذ کئے گئے ٹیکسز ہٹانے کا مطالبہ بھی شامل ہے،اس کے علاوہ ایمت ،اشکومن کو تحصیل کا درجہ دینے اور تھانوں میں نفری کی کم تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان بارڈر پر پاک آرمی یا گلگت سکاؤٹس تعینات کئے جائیں اور کے پی کے کیساتھ حد بندیوں کا تنازعہ حل کیا جائے۔سرکاری محکمہ جات میں چیک اینڈ بیلنس کے لئے آرمی مانیٹرنگ سیل کو بحال کیا جائے۔چٹورکھنڈ دس بیڈ ہسپتال کو تیس بیڈ بنانے اور LMOکی تعیناتی کا مطالبہ بھی شامل ہے ۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایچ او غذر اور گزشتہ بارہ سالوں سے سپرنٹنڈنٹ کی پوسٹ پر قابض شخص کو فی الفور ہٹایا جائے،نیز محکمہ صحت میں ہونے والے بے قاعدگیوں کی شفاف انکوائری کرایا جائے۔گرلز ہائی سکو ل چٹورکھنڈ کے امتحانی ہال کو ناقص تعمیر کی وجہ سے ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے جسے دوبارہ تعمیر کیا جائے بصورت دیگر کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری محکمہ تعلیم پر عائد ہوگی۔علاوہ ازیں کانچے تا گشگش میٹل روڈ کی ری کارپٹنگ ،چٹورکھنڈ واٹر سپلائی کے لئے متبادل پلان کا مطالبہ بھی شامل ہے۔علاقے میں انٹرنیٹ کے نظام کو فعال بنانے اور 4Gسروس فوری شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔شرکاء نے یک زبان ہوکر اشکومن ایکشن کمیٹی کی دوبارہ بحال کرکے عوام کی جانب سے نمائندگی کااختیار دے دیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔