یکم نومبر…… کیا جشن ایسے منائے جاتے ہیں

یکم نومبر…… کیا جشن ایسے منائے جاتے ہیں

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 آج اکتوبر  کا آخری دن تھا.   صبح سے پروگرا م بنایا  کہ آج گلگت شہر  میں تھوڑی مٹر گشت   کی جائے.  ویسے تو روز شہر  کا چکر لگتا ہے لیکن آج نیت کچھ اور تھی.  آج کے پروگرا  م میں  اپنے شہر کے عا  م اشخاص سے ملنے کا پروگرا م تھا ۔آپ سوچ رہے  ہونگے کیوں  بھائی  یہ آج عام آدمیوں سے ملنے کا  خاص  پروگرا  م کس سلسلے میں   آپ کی سو چ اور سوال اپنی جگہ  سو فیصد درست ہے.  میں جب گھر سے نکلا تو میری سوچ  کچھ اور تھی لیکن جب لوگوں سے ملاقات ہوئی  تو میری   سوچ میں حیرانی  کا عنصر بھی داخل ہوا ۔ جب   آپ آگے  کا احوال پڑھیں گے تو آپ بھی ضرور میری طرح حیران اور پریشان ہونگے۔

میری مٹر گشتی کا مقصد یہ تھا کہ  اکتوبر  کے آخری دن اور کل آنے والے  یکم نومبر  کے حوالے سے  عا م آدی کیا سوچتا ہے اس بارے تھوڑی  سی معلوات  حاصل کئے جائیں  دیکھیں  کہ   ہمارے  لوگوں کے اندر  یکم نومبر  کے حوالے سے کیا جذبات ہیں۔اس سلسلے کا   میرا پہلا پڑاوٗ پونیال روڈ  گلگت تھا     اور یہاں موجود  مارکیٹ میں    لوگوں  سے  اس دن کی نسبت  اور آبا و اجداد   کے کارناموں اور ڈوگرہ    راج کے انخلا  کے بارے   نوجوان  اور بزرگوں  سے     جاننا  چاہا تقریبا  لوگ ڈوگرہ راج کے انخلا اور   یکم نومبر سےکی اہمیت  سے لا علم  تھے  تو جشن  کا اہتمام کا سوال  کہاں سے پیدا ہوتاہے.

 میرا دوسرا پڑاوٗ   راجہ بازار گلگت تھا یہاں کاروبار ی حضرات  سے دریافت کیا تو ان کا جواب  بھی  ویسا ہی تھا جیسے  پونیال روڈ  کے لوگوں کا تھا۔یہ یکم نومبر کو  کیا ہوا تھا  ۔میں نے کہا کہ یکم نومبر وہ دن ہے  جب یہاں سے ڈوگرو راج کو مار بھگایا   گیا تھا ۔ آگے سے جواب ملا اچھا جی۔۔۔

صدر بازار  میں چند ایک مقامی لوگوں سے بھی گفتگو کا وقع ملا   ان لوگو؛ں  کا جواب  کچھ  بے دلی والا ملا    ان کا کہنا  یہ تھا کہ    جشن آزادی تو  ۱۴  اگست کو منا چکے ہیں اب بار بار کیا جشن منانا ہے ۔  یہاں سے فارغ ہوکر  میں جماعت خانہ بازار  کی طرف رواں ہوا  ۔یہاں  پر بھی چند ایک بھائیوں سے بات چیت کی تو  انہوں نے کہا کہ   ہمیں یکم نوم بھر پور طریقے سے منانا چاہئے  لیکن جناب کیا کیا جائے  یہاں کی   فرقہ واریت نے سب چیزوں کا مزہ ہی کرکرا کے رکھ دیا ہے  اب تو کسی بھی چیز  کو منانے کو دل نہیں کرتا        اس کے بعد  میرا  رخ کشروٹ کی طرف تھا     یہاں بھی صورت حال جوں کی توں تھی  وہی جو آگے میں نے تحریر کیا ہے   یہاں بھی مجھے مختلف جوابات ملے   کچھ نفی اور کچھ مثبت    لیکن   پھر وہی بات  بے دلی اور بے حسی  ۔ یہ صورت حال دیکھی تو    سوچا کہ  تھوڑی دیر کہیں بیٹھوں اور    اپنی اور اس  علاقے کی عوا م  کی حالت  پر  جی بھر کے رولوں  تاکہ  تھوڑا سا بوجھ ہلکا ہوجائے.

jashnجشن منانا تو کیا  اس دن کے حوالے سے ہی لوگ نا بلد ہیں ۔ جب میں گھر سے نکلا تھا تو میری سوچ یہ تھی کہ  کل یکم نومبر  کے حوالے سے لوگوں کے اندر ایک جوش ہوگا اور ولولہ  ہوگا  اور شہر میں کل کے حوالے سے  مختلف بینر لگے ہونگے  لیکن   بسین سے لیکر  کشروٹ چوک تک  مجھے کوئی بینر  یکم نومبر کے حوالے سے نظر نہیں آیا   سوائے صدر بازار میں  محکہ پی ڈبلیو ڈی کا ایک اکلوتا بینر جس  میں یو م آزادی مبارک لکھا ہوا تھا  اتحاد چوک میں دفاع وطن  کانفرنس کے  ایک دو بینر زکے علاوہ ۔ دل  میں میری افسردگی سی چھائی تھی سوچا کہ واپس  مڑ جاوٗں  پر  خیال آیا   ذرا  چنار باغ  کا نظارہ بھی تو دیکھیں کہ  وہاں کیا صورت حال ہے ۔وہاں جاکے  اتنا  معلو م  ہوا کہ  خانہ پوری کے  انتظامات مکمل ہیں  اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یکم نومبر  چنار باغ میں ہے  میں خواہ مخواہ اس کو شہر میں تلاش کر رہا تھا ۔ تین چار بینر  مختلف محکموں نے  لگا رکھے تھے  اس جشن کا احوال کل  یا پرسوں کے اخباروں یں   آپ ضرور پڑھیں گے  بلکہ تصویریں بھی دیکھیں گے اور سرخیاں بھی لگ جائینگی  جس میں یہ لکھا ہوگا کہ گلگت بلتستان میں یکم نوم بڑے جوش اور  جذبے  کے ساتھ منایا گیا اور چنار باغ میں  پرچم کشائی کے بعد  شہیدوں کی یادگار  پر پھول  کی چادریں  چڑھائی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔

کیا جشن ایسے منائے جاتے ہیں ؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔