حفیظ شاکر صاحب کی ’’زندگی‘‘ اور گلگت کے ادبی رویے

حفیظ شاکر صاحب کی ’’زندگی‘‘ اور گلگت کے ادبی رویے

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حفیظ شاکرصاحب عہدِ حاضر کے ان شاعروں میں سے ہیں ،جن کے لفظ وقعت رکھتے ہیں ۔جن کی فکر توانا ہوتی ہے۔اور جن کا فن قابل تحسین ہوتا ہے۔حلقہ اربابِ ذوق کے ایک سینئراور منجھے ہوئے شاعر ہیں۔ان کا اولین مجموعہ کلام ’’میں نہیں ہوں ‘‘ علمی اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا تھا۔اب ایک طویل عرصے کے بعد’’ زندگی ‘‘ کے عنوان سے دوسری کتاب منظر عام پہ آئی ہے۔جس میں زندگی اور اس کے رویوں کو ایک فنکارانہ دردمندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔کسی ایک کتاب میں زندگی کے اتنے چہرے شاید پہلی دفعہ یوں دکھائے گئے ہیں۔ان چہروں کے پیچھے ان گنت انسان ہیں۔اور ہر انسان کی ایک الگ داستان۔۔۔ایک شاعر،ایک ادیب زندگی کے ان گنت چہروں کو پڑھ لیتا ہے۔پھر انہیں اپنے انداز میں بیان کر لیتا ہے۔

حفیظ شاکر صاحب نے بھی انسان کو ،زندگی کے رویوں کو پڑھنے کی سعیء خوش کُن کی ہے۔اور ایسا کرتے ہوئے ان کا دعوٰی ہے :۔

اب جو آئی ہے میری تازہ کتاب

زندہ لوگوں کے لیے زندہ نصاب

منفرد ذہنوں میں جتنے ہیں سوال

زندگی لائی ہے ان سب کے جواب

اگرچہ ان کا یہ دعوٰی محض ایک شاعرانہ تعلّی ہے۔کیوں کہ زندگی کے سارے رنگ کسی ایک کتاب میں جمع ہوں ،یہ ممکن نہیں۔جب تک زندگی اور اس کے آثار ہیں ،یہ مختلف رُوپ رویوں میں اپنی چھب دکھلاتی رہے گی۔

ایک بیدار مغز شاعر اپنے فن کو ہمیشہ زندگی سے ہم آہنگ رکھتا ہے۔جذبوں کی قیامت خیزی اور تخیل کی بلند پروازی اگر شاعر کا کمالِ فن ہے تو زندگی سے نسبت ،اس کا جوہرِ فن ہے اور جوہرِ فن سے ہی شاعر کا کلام ،الہام بن کر اُترتا ہے۔ورنہ شاعری کیا ہے۔۔۔؟

عشقِ قلبی اور مشقِ ذہنی کا ایک فن کارانہ تعا مل ۔جس کا نتیجہ، لفظوں کے شبستاں میں ذہنی تلذّذ کے شاعرانہ چراغاں کے سوا کچھ نہیں ۔شاکر صاحب کی ’’زندگی‘‘ ہمیں ذہنی تلذّذ کی پُر کیف وادیوں میں نہیں گھماتی بلکہ انسان کو اس کے اجڑنے کی داستان سناتی ہے۔اور یہ روحِ عصر سے ان کی شدید کمٹمنٹ کو ظاہر کرتی ہے۔

اس ہانپتی کانپتی اور دکھ برساتی زندگی کے اثر سے جہاں ان کی ’’زندگی ‘‘ بوجھل ہے،وہاں کہیں کہیں ایک شاعرانہ حسن کا ری اور عاشقانہ سُخن طرازی کے رنگ بھی جھلکتے ہیں ۔ایک شاعر کے اثرِ جمال کی خلاقی اور ایک تخلیق کار کے حسنِ نظر کی صناعی بھی دکھائی دیتی ہے۔

فتنہ گر ہے مہ جبینوں کی نظر

توبہ توبہ نازنینوں کی نظر

راکھ کرتی ہے جلا کر زندگی

گل بدن ،گل رُخ حسینوں کی نظر

شاکر صاحب کی ’’زندگی ‘‘ میں جتنی پہلوداری ہے۔ان سب رویوں کو ایک ہی جگہ اتنے بھرپور طریقے سے شاید ہی کسی نے بیان کیا ہوگا۔آپ ’’زندگی‘‘ پڑھ لیں اور اس آئینے میں روحِ عصر اور اس کے گھناؤنے رنگ رُوپ جان لیں۔

ابھی پچھلے دنوں ان کی کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی تھی۔گلگت کی علمی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی تھی۔ایک طویل عرصے کے بعد گلگت میں اس طرح کی محفل سجی تھی۔د ل دادگانِ ادب کی جیسے عید ہوئی تھی۔اس تقریب میں توقع سے کم لوگوں نے شرکت کی تھی۔زیادہ تر شاعر اور ادیب تھے۔چند ایک سیاسی اور سرکاری، بڑے صاحبان بھی نشست افروز تھے ۔اس تقریب میں ناچیز نے بھی گفتگو کی تھی۔میری گفتگو کا مو ضوع گلگت کے ادبی رویوں سے متعلق تھا۔حلقہ اربابِ ذوق کی خدمات ،عوام میں ادبی رجحانات اور سرکاری حلقوں کی غیر ادبی ترجیحات کے بارے میں بات کی تھی۔ جس تناظر میں گفتگو کر رہا تھا،اس کے لیے تقریب تو اچھی تھی،مگر دائرہ محدود تھا۔اس لیے مناسب جانا کہ اسے طبع کراؤں،تاکہ گلگت بلتستان میں اردو زبان و ادب کی صورت حال کو زیادہ سے زیادہ لوگ جان سکیں ۔ان میں سے کچھ باتیں شاکر صاحب کی’’ زندگی ‘‘سے اور اپنی کتاب ’’حدیثِ دل‘‘ سے مستعار لی ہیں۔

’’گلگت کی ادبی فضا بڑی ہی بو جھل اور غبار آلود ہے۔اس پر بے دلی ،بے ذوقی اور بے یقینی کی دُھول اڑ رہی ہے۔حلقہ اربابِ ذوق ایک معتبر ادبی فورم ہے۔تین دہائیوں سے یہ ادبی حلقہ ،چراغِ ادب جلانے کی مشقت اٹھا رہا ہے۔ اس میں تیل کی کمی ہے یا پھر نا جانے اندھیرے اس قدر گہرے ہیں کہ اس کی روشنی بس چراغ کے آس پاس ہی پھیلی ہوئی ہے۔حلقے کی ادبی فعالیت اب وہ نہیں رہی جو کبھی اس کا خاصا تھی۔بس کبھی کبھار اس کا رنگ ڈھنگ نظر آتا ہے۔مہینے میں ایک آدھ دفعہ طرحی و غیر طرحی مشاعرہ ہوتا ہے۔گلگت کے چند گِنے چُنے شاعر اکٹھے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کو اپنا کلام سناتے ہیں۔بے دلی سے داد دیتے ہیں ۔چائے اور سگریٹ کے دھوئیں میں کچھ نرم گرم گفتگوکرتے ہیں۔ایک ذرا ہنسی مذاق کرتے ہیں۔پھر اگلے مہینے کے لیے کوئی شعر بطورِ طرح دے کر محفل برخاست کرتے ہیں۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ شعرااور مخصوص چہروں کے علاوہ کسی اور نے شرکت کی ہو ۔کئی سالوں کے بعد کسی کتاب کی اشاعت ہوتی ہے۔پھر حلقے کی وساطت سے اس کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوتی ہے تب ایک ذراہلچل سی ہوتی ہے۔یوں چند دن اس کا چرچا رہتا ہے۔

یہ بھی غنیمت ہے۔کم از کم اس بہانے کسی ادبی و علمی محفل کے کارڑز تو چھپتے ہیں۔چند لوگوں میں کسی کتاب کے حوالے سے ،چائے کی بھاپ اڑاتی پیالیوں کے درمیان گفتگو تو ہوتی ہے ۔ورنہ ادبی بے ذوقی یہاں اس بلا کی ہے کہ بہ قولِ شاعر

وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

یہ شاعر او رادیب بھی بڑے بیچارے ہوتے ہیں۔ان کا دامنِ خیال رنگ رنگ کے پھولوں سے بھرا رہتا ہے۔دل کی زمین پہ جذبوں کی دھوپ پھیلی رہتی ہے۔مگر جسمانی طور پر جس معاشرے میں سانس لیتے ہیں اس کے مسائل اور مصائب اس قیامت کے ہیں کہ وہ اس سماج کا ایک مسائل گزیدہ فرد بن کر رہ جاتے ہیں۔یہ محض قلم چلاتے رہیں گے تو گھر کا چولہا بھی نہیں جلے گا۔وہ زمانے گزر گئے جب شاعروں اور ادیبوں کی سرکاری سرپرستی کی جاتی تھی۔ راجوں ،مہاراجوں اور بادشاہوں کے دربار ہوں یا پھر ہندوستان کے ادب نواز انگریز حکمر ان ہوں ،ان کی قدردانی کرتے تھے۔انہیں فکرِ معاش سے نجات دلاتے تھے۔

پھر وقت بدل گیا۔نواب ،راجے اور بادشاہ وقت کی دُھول میں کہیں کھو گئے۔ہندستان کے سیاسی حالات کے پیش نظر انگریزوں کی ترجیحات بھی بدل گئیں۔ساتھ ہی شعر و ادب کا ذائقہ بھی بدل گیا۔پہلے قصیدہ گوئی ہوتی تھی اب حقائق گوئی کا تڑکا لگ گیا۔روحِ عصر کی ترجمانی کا غَلغلہ مچ گیا۔پھر ہر دور کے حکمران اس کا نشانہ بن گئے۔شاعر اور ادیب کلمۂ حق بلند کرنے کے زعم میں حکمرانوں سے نبرد آزما ہوئے۔یوں مزاجِ شاہاں کے لیے شاعر اور ادیب ناپسندیدہ طبقہ قرار پائے۔

اس سے ادب کا دامن تو نئے نئے رجحانات سے بھر گیا۔مگر شاہی درباروں کی نوازشیں ،قدردانیاں اور انعامات گئے موسموں کے خوا ب بن گئے۔اب شاعر اور ادیب ،فکرِ معاش اور فکرِ سخن دونوں کشتیوں پہ سوار ہوئے اور اکثر توازن برقرار نہ رکھ سکے۔کسی کی معاش کی اور کسی کی سخن کی کشتی ڈوب گئی۔بہت کم اہلِ قلم معاش کے چکروں سے بے فکر ہوکر یک سوئی سے ادب تخلیق کر سکے۔

اب تو جدید میڈیا کی شکل میں ایک اور آفت آئی ہے۔اس کی چمک دمک اور برق رفتاری سے خالص ادب کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔ویسے ادب کبھی مرتا نہیں۔بس وقت کے تیز رویوں میں اس کی قدر میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔اب بھی ایسی صورت حال ہے ۔سرکاری حلقے تو کب کے اس کی سرپرستی اور پزیرائی سے کنارا کش ہوگئے تھے۔اب تو عوامی حلقے بھی منہ پھیر گئے ہیں۔

ان سب جکڑ بندیوں سے بچ بچا کر ،یہ شاعر اور ادیب جب قلم پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں تو جو ادب تخلیق ہوتا ہے اس کا حال بھی زندگی جیسا ہوتا ہے۔بے ترتیب،بے جان ،باہر سے تڑکا دار ،اندر سے پھیکا پھکا……

حلقہ ارباب ذوق کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔اس سے وابستہ اہلِ قلم بھی غمِ روزگار کے ستائے ہوئے ہیں۔ان میں اکثر ملازم پیشہ ہیں۔جن کے پیشہ ورانہ تقاضے ہمیشہ جنونِ شوق کے آڑے آتے ہیں۔کبھی فرائضِ منصبی کی عدیم الفرصتی اور کبھی سرکاری مجبوریاں اور مصلحتیں۔۔۔۔یوں تخلیقی رویے ،بے شمار زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں۔

یہ وقت کا المیہ ہے کہ شعر و ادب کو بالکل بے فائدہ مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔واقعی شاعر اور ادیب اور کچھ نا کریں محض شعر و ادب تخلیق کریں تو فاقوں سے مر جائیں ۔

کچھ جنونِ شوق کے مارے قلمکار، تھوڑانام اور دام کمانے کی غرض سے کتاب چھپواتے ہیں(مجھ سمیت) تو پبلشر کے دست برد سے بہت کچھ لٹا کر آتے ہیں ۔اس پہ مستزاد قارئین کی بے ذوقی رہی سہی کسر نکا ل دیتی ہے۔یہ ستم ظریفی ہے کہ اکثر اچھے خاصے صاحبِ حیثیت لوگ بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ مصنف اپنی کتاب انہیں اعزازی طور پر عطا کرے گا ۔ان نادان دوستوں کو کیا پتا،ایک مصنف کو اپنی کتاب کی اشاعت کے دوران کتنے صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔جب کتاب منظر عام پر آتی ہے اور قارئین اسے خرید کر پڑھتے ہیں تو کیسی روحانی مسرت نصیب ہوتی ہے۔یہاں بات پیسوں کی نہیں بلکہ اس قدر افزائی کی خوشی ہوتی ہے کہ اس کی کتاب اس قابل ہے ،لوگ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔ورنہ گالیاں لکھ کر بھی مفت تقسیم کرنے سے کتاب ختم ہوجائے گی۔خریدی جانے والی کتاب مصنف کے لیے ایک اعزاز کی طرح ہوتی ہے۔اس لیے کتاب خرید کر پڑھنے کا کلچر عام ہونا چاہیے۔

اس سلسلے میں سرکاری سطح پر بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ قابلِ قدر اور معیاری کتب لکھنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں ۔ایسی کتب یہاں کے سکولوں ، کالجوں اور دیگر اداروں کی لائبریریوں کے لیے خریدی جائیں تو مصنف کو بھی مالی فائدہ ہوگا اور کتاب بھی قارئین کے ایک وسیع پڑھے لکھے حلقے تک پہنچ جائے گی۔بہت عرصہ ہوا ایک کمیٹی سرکاری سطح پر تشکیل دی گئی تھی۔ گلگت بلتستان کے ایسے ا ہلِ قلم جو مالی مشکلات کے باعث اپنے فن پاروں کو شائع کرانے سے قاصر ہوتے ہیں۔انہیں آسانیاں بہم پہنچانے کے لیے یہ کمیٹی بنائی گئی تھی۔ضیاء صاحب ،دکھی صاحب ،شیرباز برچہ صاحب اور تاج صاحب جیسے معتبر ادبی اہلِ قلم اس کے ممبر تھے۔مگر جیسا کہ روایت رہی ہے ،افسر شاہی کی غیر ادبی ترجیحات سے اس کمیٹی کی کارکردگی ،اس پہلی میٹنگ سے آگے نہیں بڑھی ہے۔

حلقہ ارباب ذوق کے سینئر شعرا امین ضیا صاحب،عبدالخالق تاج صاحب ،جمشید دکھی صاحب اور خوشی محمد طارق صاحب اب تو چراغِ سحری ہیں ۔خاکم بدہن!اس کا وہ مطلب نہ لیا جائے جو فوراََ ذہن میں آرہا ہے ۔بلکہ ان کا شعری قد کا ٹھ صبح دم کے اس چراغ کی طرح ہے جو روشنی نہیں دیتا بس جلتے رہنے کا حق ادا کرتا ہے ۔ا سکا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان کی تخلیقی صفت میں کمی آئی ہے ۔ہاں مگر المیہ یہ ہے ان کی ادبی حیثیت سے مستفید ہونے والے کم ہیں۔طارق صاحب اور ضیا صاحب کے علاوہ باقی دونوں اکابر شعرا ابھی پیغمبرِ بے کتاب ہیں۔ان کاادبی اثاثہ معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے قابلِ قدر ہے ۔محض اس وجہ سے کہ ادبی ماحول اور شعری رویوں کا فقدان ہے ،ان کا قیمتی کلام ان کی طرح حالات اور فاسٹ میڈیا کی دھول میں اٹا ہوا ہے۔ادبی فضا کا یہ سُونا پن ان ادبی پہلوانوں کی تساہل پسندی پہ نوحہ کناں ہے۔

اسی حلقے سے منحرف ہو کر ایک اور ادبی فورم بنا تھا۔دو نوجوان شاعر حبیب الرحمان مشتاق اور احسان شاہ اس کے سر خیل تھے۔یہ دونوں صاحبِ کتاب شاعر ہیں۔بہت خوب صورت اور جاندار کلام کہتے ہیں ۔ادبی فورم جسے انہوں نے فکری تحریک کا نام دیا تھا۔اس کی ابتدا میں دونوں بہت پرجوش اور فعال تھے۔کئی قابل قدر علمی اور ادبی مجالس کا ان کو کریڈٹ جاتا ہے۔مگر وقت نے ایسی گردش دکھائی کہ حالات کی تیز موجوں میں تنکوں کی طرح بہہ گئے۔فکری تحریک نام کی تنظیم اب محض گئے موسموں کا نوحہ بن کر رہ گئی ہے۔مشتاق صاحب اور احسان شاہ، مسائلِ روزگار اور تساہل پسندی کی اس طرح لپیٹ میں آگئے ہیں کہ فکرِ سخن کی محفلیں اب صرف ریکارڑ کے طور پر ان کی الماریوں میں موجود ہیں۔

یہاں چمنستانِ ادب کی بے رونقی کا اس طرح بھی اندازہ لگائیں کہ ایک بھی ادبی رسالہ شائع نہیں ہوتا۔بہت اچھا لکھنے والے موجود ہیں ۔مگر ان کے پاس پلیٹ فارم نہیں ۔جس کی وجہ سے ان کا فن جمود کا شکار ہے۔وہ تو بھلا ہو مقامی اخبارات کا جن کا دامن لکھنے والوں کے لیے ہمیشہ کشادہ رہا ہے۔جس کی بدولت یہاں اردوزبان و ادب کو استحکام ملا ہے۔یہاں کی ابتدائی صحافت اور آج کے معیار کا موازنہ کریں تو آج کی صحافتی زبان اور اخبارات کا معیار قابلِ تحسین ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ادبی رویوں کے پھلنے پھولنے کے لیے خالص ادبی رسالوں کی ضرورت رہتی ہے۔ادبی رسائل اس معاشرے کے ادبی ،فکری اور سماجی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ادبی اور علمی حلقے اس بارے میں بھی سوچ لیں۔اب ہر کام کے لیے حکومت پر ہی نظریں جما کر نہ بیٹھ جائیں۔خود بھی،اپنے وسائل سے بھی ایسا ممکن ہے۔بس اک ذرا بے حسی اور جمود کے دائرے سے باہر قدم رکھنا ہوگا۔ایک دفعہ اس کا اجراہوا تو اس کے بعد کئی سرکاری اور نیم سرکاری ادارے ،جن کا کام

ہی ادبی ، علمی اور ثقافتی رجحانات کی ترویج و ترقی ہے ان اداوں سے تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔بس اس کے لیے خلوص اور شوق سے ادب کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔

گلگت کے ایسے بے رنگ ادبی ماحول میں حفیظ شاکر صاحب کی کتاب ’’زندگی‘‘ نے زندگی کے کچھ خوش رنگ رویے زندہ کر دئے تھے۔اللہ کرے یہ رویے اب پھیلتے جائیں تاکہ ادب اور کتب ہمیں ہماری اصل کی طرف لوٹادیں ۔اس فاسٹ میڈیا کی چکا چوند میں ہم کچھ پانے کے شوق میں متعدد قدروں اور آدرشوں سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔خدا کرے ہماری پہچان لوٹ آئے ۔مغربی فکر ایک پُر کشش کلچر کی شکل میں ہماری سماجی زندگی میں در آئی ہے۔اللہ کرے ہمارا احساس،ہماری سوچ اس دلدل سے نکل آئے۔

اس کے لیے لازم ہے کتاب کلچر ،میڈیا گزیدہ کلچر کے جادو سے نکل آئے اور ہماری زندگی کا حصہ بن جائے۔

جنوری میں اسلام آباد میں چار روزہ بین الاقوامی ادبی کانفرنس ہوئی تھی۔ملک بھر سے اہلِ قلم کی فوج ظفر موج نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس کی ابتدائی تقریب میں وزیر اعظم صاحب بھی شریکِ محفل تھے۔انہوں نے اپنی تقریر میں ادب اور ادیب سے متعلق متعدد خوش کُن اعلانات کیے تھے۔اس موقع پر پچاس کروڑ دینے کا بھی وعدہ کیا۔

گلگت بلتستان، پاکستان کا ناگزیر حصہ ہے۔وزیر اعظم صاحب کے ادب پرور اعلانات کے حق دار یہاں کے شاعر اور ادیب بھی ہیں۔مگر یہ المیہ ہے آج تک یہاں کے اہلِ قلم ایسی کسی مہربانی سے محروم رہے ہیں۔ملک بھر میں ادبی ایوارڈ دئے جاتے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں کو کئی ایک اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔لیکن گلگت بلتستان کبھی ان کی توجہ کا مرکز نہیں بنا ہے۔یہاں بھی بڑے بڑے لکھنے والے ،نثر میں بھی ،نظم میں بھی موجود ہیں۔ان کا فن کسی بھی لحاظ سے ملک کے بڑے شہروں کے اہلِ قلم سے کم تر نہیں۔ محض اس وجہ سے کہ یہ پاکستان کے قومی ادبی دھارے سے جڑے نہیں ،ان کے فن کی قدر نہیں۔ان کی پہچان نہیں ۔

اکادمی ادبیات اسلام آباد ایک قومی ادبی ادارہ ہے۔ملک بھر کے بڑے شہروں میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔گلگت بلتستان اس سے محروم ہے۔گزشتہ دنوں حفیظ الرحمان صاحب نے جی بی کے ادبی حلقوں سے ملاقات کی تھی۔وہاں بہت سے دیگر امور کے علاوہ ،انہوں نے گلگت میں اکادمی ادبیات کے دفتر کے قیام کی فیصلہ کن بات بھی کی تھی۔ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق صاحب کوادب کے فوکل پرسن کی اضافی ذمہ داریاں دیتے ہوئے، انہیں ہدایت کی تھی کہ اکادمی ادبیات کے قیام کے سلسلے میں اس کے چئر مین قاسم بھگیو صاحب یا وزیر اعظم کے ادبی مشیر عرفان صدیقی صاحب سے ان کی بات کرائیں۔امید ہے فراق صاحب یہ اہم بات نہیں بھولے ہوں گے۔ترجیحِ اول کے طور پر وزیر اعلیٰ صاحب کی، متعلقہ ذمہ دار شخصیات سے بات کرائی ہوگی۔فراق صاحب خود ایک شاعر ہیں۔ادبی رویوں کے پھلنے پھولنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں ۔اس لیے ان سے امید ہے ،گلگت بلتستان میں ادب کی ترقی کے لیے اپنے ذوق و شوق اور توانائیوں کو صرف کریں گے۔

وزیر اعلیٰ صاحب نے اس نشست کے دوران جن اقدامات کا اعلان کیا تھا،مثلاََاکادمی ادبیات کے دفتر کے قیام کی بات ہو ،یہاں سالانہ ادبی میلے کا انعقاد ہو یا پھر اہلِ قلم کے لیے سہولیات ہوں۔۔۔ فراق صاحب ،میٹنگز،بیانات اور باتوں سے آگے بڑھ کر موٗثّر عملی اقدامات کرانے کے لیے سہولت کار بنیں گے۔

شاکر صاحب کی’’ زندگی ‘‘ سے ایک قطعہ پیش خدمت ہے۔۔۔

زندگی میٹھے سُروں کا نام ہے

اور یہ سوزِ دروں کا نام ہے

زندگی شعلہ بھی ہے شبنم بھی ہے

یہ قلندر کے جنوں کا نام ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔