چترال میں گلاب کے پھولوں نے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دئیے

چترال میں گلاب کے پھولوں نے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دئیے

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) جنت نظیر چترال کو ویسے بھی قدرت نے حسین دینے میں بخل سے کام نہیں لیا ہے اور انتہائی سخاوت سے قدرت نے چترال پر اپنے حسن کے خزانے کھولے ہیں مگر چترال کے محتلف علاقوں میں جگہہ جگہہ لوگوں نے گھروں ، مہمان حانوں اور لان میں گلاب کے رنگ برنگے پھول لگائے ہیں جس سے اس قدرتی وادی کی حسن میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

چترال کے مرد و خواتین دونوں نہایت باذوق اور نفیس مزاج لوگ ہیں جہاں گھر کا کوئی کونہ حالی دیکھا وہاں زمین کھودی اور پھول لگائی۔ بعض گھروں میں جہاں زمین پر جگہہ کی تنگی یا کمی کی وجہ سے پھول اگانے کی جگہہ نہیں ہوتی تو خواتین کسی بالٹی، کنستر، ٹین یا کسی بھی فالتو برتن میں مٹی ڈال کر اس میں پھول بوتے ہیں جو کہ یہ پھول اگ کر ان کو دیواروں پر رکھتے ہیں اور گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔

چترال کے علاقہ شاہ میران دیہہ جو سینگور کے متصل گاؤں میں ہے اسی طرح سید نبیر شاہ کے گھر میں رنگ برنگے گلاب کے پھول لگائے گئے ہیں جو انتہائی خوبصورت لگتے ہیں۔ گلاب کو پھولوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے اور گلاب کی کئی قسمیں ہیں مگر ان میں سرح، گلابی، میرون، زرد، سفید رنگ کے گلاب بہت مشہور ہیں۔

گلاب کی پھول اگر ایک طرف گھروں کی حوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے تو اس کی میٹھی میٹھی خوشبوں گھر کے مکینوں کی خوشیوں میں بھی اضافہ کرتی ہے اور ان کو طبیعت کو ہشاش بشاش رکھتا ہے۔ اس گھر میں آنے والے مہمان بھی نہایت شوق سے آتے ہیں اور اگر کچھ بھی نہ ہو تو گلاب کے پھولوں کو دیکھنے کیلئے ضرور آتے ہیں۔ 

گلاب کے بارے میں پشتو زبان میں ایک مصرعہ بھی مشہور ہے کہ
گلاب د گلو شہزادہ دے
رامبیل چامبیل ئے نوکران نیولے دی

یعنی گلاب تمام پھولوں کا بادشاہ (شہزادہ ) ہے اور رامبیل، چنبیلی کے پھول ان کے نوکر ہیں۔

کچھ بھی ہو مگر پھول انسا ن کی طبیعت کو خوش رکھتا ہے اور ان کو دیکھ کر طبیعت سازگار ہوجاتاہے۔ اگر حکومتی سطح پر بھی سڑکوں کے کنارے حالی جگہہ میں کیاریاں بناکر ان میں پھول لگایا جائے تو لوگوں کے ٹینشن یعنی ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی اور لوگ پھر ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر سرکاری املاک کو پتھروں سے مارنے کی بجائے ان پھولوں کی کیاریوں میں چند لمحوں کیلئے بیٹھ کر اپنا وقت گزارینگے۔ چند لمحوں کیلئے محظوظ ہوجائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔