گدھا، جسے گانے کا بڑا شوق تھا۔۔۔!

گدھا، جسے گانے کا بڑا شوق تھا۔۔۔!

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: سبطِ حسن

بہت سال پہلے کی بات ہے، ایک شہر میں ایک بوڑھا گدھا رہتا تھا۔ اس کا مالک ایک دھوبی تھا۔ دھوبی سارا دن گدھے سے کام لیتا اور شام کو اسے کھلا چھوڑ دیتا۔ گدھا ادھر اُدھر گری ہوئی چیزیں کھا کر پیٹ بھر لیتا۔ دھوبی اسے اچھا چارہ نہیں ڈالتا تھا، اس لیے گدھا کافی کمزور ہو گیا۔

ایک شام وہ بہت بھوکا تھا۔ وہ ادھر اُدھر گرے چھلکے وغیرہ کھاتے کھاتے کھیتوں کی طرف نکل آیا۔ وہاں اسے ایک گیدڑ نظر آیا۔ گیدڑ بھی بھوکا تھا۔ دونوں نے خوراک کی تلاش شروع کر دی۔ وہ ایک کھیت میں گئے، وہاں ککڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ ککڑیاں دونوں کو بہت پسند تھیں۔ دونوں نے انہیں خوب جی بھر کے کھایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہرروز اس کھیت میں آئیں گے اور خوب ککڑیاں کھائیں گے۔

گدھے اور گیدڑ کے درمیان دوستی ہو گئی۔ وہ ہر رات ککڑیوں کے کھیت میں جاتے اور مزے سے انہیں کھاتے۔ گدھے کی صحت اچھی ہوگئی اور وہ موٹا تازہ ہو گیا۔

ایک رات وہ ککڑیو ں کے کھیت میں آئے۔ انہوں نے خو ب ککڑیاں کھائیں۔ اس دن گدھا کچھ زیادہ ہی خوش تھا۔ اس نے خوشی میں ادھر اُدھر بھاگنا شروع کر دیا۔ گیدڑ نے اسے سمجھایا کہ اس طرح بھاگنے سے کھیت کے مالک کو پتہ چل جائے گا اور ان کی شامت آجائے گی۔ گدھے نے اپنے دوست کی بات غور سے نہ سنی، وہ اس سے کہنے لگا:’’ میں آج بہت خوش ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں۔۔۔ ؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنا پسندیدہ گانا گاؤں۔۔۔ وہ بھی اونچی آواز میں۔۔۔‘‘

’’کیوں بے وقوفی کی باتیں کرتے ہو؟ تمہاری آواز ، کھیت کے مالک تک پہنچ گئی تو بھلا وہ ہمیں ایسے چھوڑ دے گا۔ وہ ہماری پٹائی کرے گا اور کھیت سے نکال دے گا۔‘‘

’’آج میرا دل چاہتا ہے کہ میں گانا گاؤں۔۔۔ تم مجھے منع مت کرو۔۔۔‘‘ گدھے نے کہا۔

’’میرے بھائی ،تمہاری آواز ایسی اچھی نہیں کہ تم اچھا گانا گاسکو، بس رہنے دو، یہ سب ۔۔۔!!‘‘ گیدڑ نے اسے گانے سے روکنے کے لیے کہا۔

گدھے نے سوچا کہ گیدڑ کی اپنی آواز کون سی اچھی ہے۔ وہ اس کی آواز سے حسد کرتا ہے۔ وہ گانے لگا تو گیدڑ نے پھر اسے منع کیا۔ مگر گدھے نے اپنا گانا شروع کر دیا:

’’ڈھیں۔ن۔ن۔ڈھی۔یں۔یں۔چوں۔ں ۔ن۔۔۔‘‘

جونہی گدھے نے اپنا نغمہ شروع کیا، گیدڑ فوراً کھیت سے باہر کی طرف بھاگا۔ جونہی گدھے کی آواز، کھیت کے مالک کے کان میں پڑی۔ اس نے ایک موٹی لاٹھی ہاتھ میں لی اور کھیت کی طرف بھاگا۔ اس نے گدھے کی وہ ٹھکائی کی کہ بیچارا گدھا زمین پر گر پڑا۔ کسان نے گدھے کی گردن کے ساتھ ایک پتھر باندھ کر اسے چھوڑ دیا۔

گدھا آہستہ آہستہ لنگڑاتا ہوا کھیت سے باہر آیا۔ وہ ایک قدم اٹھاتا تو اس کے گلے میں بندھا پتھر اس کی ٹانگوں سے ٹکراتا۔ اسے سخت تکلیف ہو رہی تھی۔ کھیت کے باہر اس کا دوست گیدڑ کھڑا تھا۔ اس نے گدھے کے گلے میں لٹکے پتھر کو دیکھا اور کہنے لگا:

’’مبارک ہو، میرے دوست تمہیں گانے پر اچھا انعام ملا ہے۔۔۔‘‘

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔