گلگت بلتستان کو آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول جیسے اداروں کی ضرورت ہے: جمشید خان دُکھی

گلگت بلتستان کو آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول جیسے اداروں کی ضرورت ہے: جمشید خان دُکھی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( نمائندہ خصوصی ) علاقے کے نامور شاعر اور مصلح ،جناب جمشید خان دکھی ؔ نے آغاخان ہائیر سکینڈری سکول گلگت کے طلبا کی اسمبلی سے خطاب کیا ۔ انہوں نے ماؤں کے عالمی دن کے حوالے سے طلبأ سے گفتگو کی۔ تاہم صاحب موصوف نے بچوں کی دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نوجوان طبقے کو درپیش کئی ایک مسائل کو اپنے خطاب کا حصہ بنایا اور ناظرین کو چالیس منٹ تک مکمل طور پر محظوظ رکھا ۔

ماؤں یعنی عورتوں کے مقام کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کئی ایک دلگاز کہانیاں سنائیں ۔ انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی علاقے میں ایک نوجواں کی بوڑھی ماں رہتی تھی جوکہ ایک آنکھ سے مکمل طور پر معذور تھیں ایک آنکھ کے سے نا بینا ہونے کی وجہ سے اُس عورت کا چہرہ بہت ہی بد نما معلوم ہوتا تھا اسی بدنما چہرے کی وجہ سے بیٹا ماں سے نفرت کرتا تھا ۔ بیٹا اپنی ایک آنکھ سے نابینا والدہ کے عظیم رشتے کو اپنے ساتھ منسوب کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا ۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ دوستوں کی محفل میں جب اُن کی والدہ تشریف لائیں تو انہوں نے اپنی ماں کو گالیں سنا سنا کے اُسے اپنے سے دور رہنے کو کہا ۔ لیکن ایک دن ماں جب ہسپتال میں داخل ہوئیں تو اُس کا بیٹا بہ حالت مجبوری ہسپتال گیا ۔ باتوں باتوں میں ڈاکٹروں نے بوڑھی عورت کی ایک آنکھ سے نا بینا ہونے کی وجہ پوچھی تو ماں نے کہا ’’ یہ کافی پرانی بات ہے جب میرا بچہ بہت چھوٹا تھا تو کھیلتے ہوئے اُن کی ایک آنکھ ضائع ہوئی تھی اور میں نے اپنی ایک آنکھ نکلوا کے اپنے بیٹے کو لگوائی تھی تاکہ میرے بچے کا چہرہ ایک آنکھ سے نا بینا ہونے کی وجہ سے بد نما نہ لگے ۔

جمشید خان دکھی صاحب کی اس کہانی پر نہ صرف محفل میں موجود اساتذہ آب دیدہ ہوئے بلکہ ننھے منھے طلبا کی آنکھیں بھی پر نم نظر آئیں ۔

دکھی صاحب نے رومی اور اقبال کے فارسی اشعار کا سہارا لیتے ہوئے اخلاقیات پر سیر حاصل بحث کی۔ اس موقعے پر طلبا اتنے انہماک سے سنتے رہے کہ دکھی کی تقریر کا لفظ لفظ اُن کے دلوں میں پیوست ہوتے رہے ۔

انہوں نے اخلا قیات کو انسانیت کا معراج قرار دیتے ہوئے ایک اور پر مغز کہانی سنائی : کسی علاقے میں کوئی بہت بڑا عالم دین تھا ۔ وہ روزے سے تھا کہ کوئی ملنے والا آیا ۔ ملنے والا شخص غالباً مسلمان نہیں تھا انہوں نے کھانے کی چیزیں ساتھ لائیں تھی ۔ مہمان نے کھانے کی چیزیں عالم دین کی طرف بڑھادیں ، عالم دین نے خوشی سے تناول فرمایا ۔ ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے چیخیں مارتے ہوئے کہا کہ محترم آپ کا تو روزہ تھا ۔ عالم دین نے فرما یا ’’ مجھے معلوم ہے میرا روزہ ہے لیکن میں اس لیئے روزہ توڑ رہا ہوں کہ کہیں مہمان کے دل کو دکھ نہ پہنچے ۔ روزہ اللہ اور اپنی پرہیز گاری کے لئے ہے جو کہ اللہ معاف کر سکتا ہے لیکن کسی انسان کا دل دکھانا شاید رب کے ہاں اچھا عمل نہیں ‘‘ انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت دل میں رہتا ہے انسان کا دل اللہ کا گھر ہوتا ہے اگر کوئی انسان کے دل کو دکھ دیتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالی کو ناراض کرتا ہے ۔

انہوں نے گلگت بلتستان کی اہمیت اور طلبا و طالبات کی ذمہ دارویوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ہر قسم کی دولت سے مالامال وہ خطہ ہے کہ جسے حاصل کرنے کے لئے دنیا کی قومیں آپس میں بہ دست و گریبان ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ اس خطے میں رہنے والے چھوٹے چھوٹے معاملوں پر آپس میں لڑتے ہیں ۔

انہوں نے یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت کی قوم کو آغا خان ہائیر سکنڈری جیسے اداروں کی ضرورت ہے کہ جہاں بچوں کو جدید زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اعلی اخلاقی تربیت بھی دی جاتی ہے ۔

انہوں نے اختتامی کلمات کے طور پر اپنا ایک خوبصورت قطعہ بھی سنایا
؂
تعصب سے بھرا پیغام یہ ہے
بہاؤ خون درس عام یہ ہے
مسلمانوں کا گر انجام یہ ہے
میں کافر ہوں اگراسلام یہ ہے

آخر میں سکول کے پرنسپل نے دکھی صاحب کے پرخلوص اظہار خیال پر آغا خان ایجوکیشن سرو س گلگت بلتستان کے جنرل منیجر جناب بہادر علی اور پورے سکول کی جانب سے شکریہ ادا کیا اور اسمبلی اپنے اختام کو پہنچی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔