واہگہ بارڈر کے اُس پار

واہگہ بارڈر کے اُس پار

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

لاہور میں آئے تین ہفتے بیت چکے ہیں،ان تین ہفتوں میں یہاں بہت کچھ دیکھا، سیکھا اور سمجھا۔کافی ساری اچھی یادیں ہیں ، گلگت کے نامور بزگوں سے اہم ملاقاتیں ہوئی وہ آپ سے کسی موقع پر ضرور شیئر کرونگا تاہم آج بروز منگل ۹ جولائی کو واہگہ بارڈرمیں جانے کا ا تفاق ہوا۔ ایک عرصے سے وہاں جانے کی خواہش تھی جو آج پوری ہوئی۔ برادرم مولانا عتیق صاحب نے مژدہ سنایا کہ آج دوسرے پہر واہگہ بارڈر جانا ہے ، کہیں نکل نہ جاؤ۔ ہم نے اطمینان کا سانس لیا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ہم بیگم پورہ سے ٹھیک چار بجے نکلے۔بیگم پورہ سے بذریعہ جی ٹی روڈ واہگہ بارڈر پہنچے۔ مولانا عبدالمتین،برادرم حماد، عزیزم منیب الرحمان اور نعمان بھی شامل سفر ہیں۔بیگم پورہ لاہور سے واہگہ بارڈر تک اٹھارہ کلومیٹر کا سفر ہے۔آج موسم بھی بڑا عمدہ ہے ورنہ تو لاہور کی طرح لاہور کی گرمی اور حبس بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔سوبرادرم عتیق الرحمان صاحب نے سواری کے ساتھ واہگہ بارڈر میں دیگر انتظامات بھی پہلے سے کررکھے ہیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو پروٹوکول نمبر۳۴ کے ذریعے پروٹوکول دیا گیا ، ہماری گاڑی اندر محفوظ جگہ چھوڑی دی گئی۔وہاں کسٹم مسجد کے خطیبب سعید صاحب نے ویلکم کہا، ان کی مسجد میں نماز عصرادا کی گئی۔واہگہ بارڈر کی پرانی مسجد کو شہید کرکے وہاں مارکیٹ بنائی گئی ہے جہاں آج کل انڈیا سے سمگلنگ ہوکر آنے والی چوڑیاں اور دیگر اشیائے زنانہ فروخت کی جاتیں ہیں۔رینجررز کے جس آفسیر نے مسجد شہیدکرکے مارکیٹ بنانے کا حکم دیا تھا ، وہ عین اسی وقت دریائے ستلج میں بیٹے سمیت طیارہ حادثہ میں ڈوب گیا۔اب ایک چھوٹی جامع مسجد نئی تعمیر کی گئی ہے ۔

واہگہ بارڈر جانے کے لیے لاہوریوں اور دوسرے سیاحوں کا ایک دریا اُمڈ آیا ہے۔سیکورٹی پر مامور حضرات ان کو اندر جانے کے لئے لائنوں میں کھڑا کیے جارہے ہیں اور غیر قانونی طور ان سے رقم بھی بٹوررہے رہیں۔جب ہم مخصوص نشستوں پر پہنچ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ چند قدم اُس پار ہندوستانیوں کا ایک جم غفیر نظر آیا۔بالکل سامنے ہی گاندھی جی کی تصویر اور ہندوستانی جھنڈا نظر آیا۔مڑ کر دیکھا تو اپنے بالکل اوپر پاکستان کا سبز ہلالی جھنڈا اپنی پوری شان کے ساتھ بلند ہے۔عورتوں بچوں اور جوانوں کی ایک بڑی تعدا د اِس پار اور اُس پار موجود ہے۔ہمارے دیگر ساتھی نیچے پروٹوکول والی نشستوں پر بیٹھ گئے، میں اور برادرم عتیق صاحب اوپری نسشتوں کی طرف گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے بالکل سامنے ہندوستان ہے ۔ایک ہلکی سے تار سے ہندوستان اور پاکستان کی سرحد کا اندازہ ہوتا ہے۔سیکورٹی حضرات اور کسٹم عملے کی ایک بڑی تعداد اپنی ذمہ داریوں میں مگن ہے۔نعرے لگ رہے ہیں۔اُس پار ہندوستانی عوام جذبات کی رو میں بہہ رہی ہے اور ادھر پاکستانی بھی مختلف نعروں سے اپنے دلوں کو ٹھنڈک پہنچا رہے ہیں۔ایک نعرے نے مجھے مبہوت کردیا جو ’’ پاکستان زندہ باد‘‘ یونیفارم پہنے عملے کی طرف سے بار بار لگایا جارہا تھا کہ ’’ہاتھ اُٹھا کے جیب بچا کے‘‘ کہو پاکستان کا مطلب کہا، لاالہ اللہ‘‘۔ادھر انڈیاوالے بھی ناچ گانوں میں مصروف ہیں۔پریڈ اور پرچم اترائی والے بھی مگن ہیں۔محفل کا آغاز پاکستان کی طر ف سے تلاوت قرآن سے کی گئی جبکہ انڈیا کی طرف سے کوئی خاص کلام پڑھا گیا جو یقیناًناقابل فہم ہے۔شاید ہندی میں کوئی مذہبی منتر ہو۔کچھ چیزیں دونوں مجمعوں میں یکساں ہیں مثلا وہاں کے نواجوان بھی ناچ رہے ہیں تو یہاں بھی ڈھول پِٹ رہا ہے اور بیہودگی نظر آرہی ہے، نوجوان غل غپاڑہ کررہے ہیں۔عورتیں بے پردگی میں تالیاں پیٹ رہی ہیں، جب تلاوت کلام کا آغاز ہوا تو احتراماً سب نے دوپٹے سروں تک کھینچ لیے۔واہ مظلوم اسلام۔

جی ہاں میرے بالکل سامنے انڈین ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ میں ان کو دیکھ رہا ہوں اور وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں۔وہ جذبات سے نعرے لگارہے ہیں تو صاف سنائی دے رہا ہے اور ہمارے جذبات بھی وہ ملاحظہ کررہے ہیں۔عجیب کیفیت کا سماں ہے۔ میرے دل میں بے تحاشا خیالات آرہے ہیں میرا خیالات اس ہنگامہ خیزی سے کہی دور جاچکے ہیں۔ میں جسماً وہاں موجود ہوں مگر ذہنا نہیں۔عین اسی وقت میرے سر کے عین اوپر سے دو سفید پرندے گزر گئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مختلف پرندوں کے کئی جھنڈ اُس پار سے اس پار آرہے ہیں۔انہیں اِدھر اُدھر جانے کے لیے کوئی ویزہ، کوئی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں۔ امیگریشن والے بھی ان سے پوچھ گچھ نہیں کرسکتے۔دنیاوی جھنجھٹوں سے آزاد یہ پرندے کتنے خوش قسمت ہیں کہ جہاں جی چاہیے وہاں اپنا بسیرا بنائے۔ان کی دنیا کتنی خوبصورت ہے۔بے شمار جھمیلوں سے آزاد بالکل آزاد۔کاش انسان نے دنیا کو خود اپنے ہاتھوں سے د وزخ نہ بنایا ہوتا!دل چارہا ہے کہ ابھی ہی بے ساختگی سے حالت جنونیت میں ہندوستان کی سیر کرنے نکلو۔کیوں؟ اس لئے کہ میری علمی ونظیرتاتی عقیدت گاہ دارالعلوم دیوبند پوپی ہندوستان اور موجودہ انڈیا میں ہے۔مسلم علیگڑھ یونیورسٹی کو دیکھنے کے لیے دل ترس رہا ہے۔جامعہ ملیہ دہلی، مظاہر العلوم سہارنپور،جامعہ امنیہ دہلی اور نہ جانے کتنے علوم و فنوں اسلامی کے مراکز وہاں اب بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کی دیواروں میں میرا ماضی، ہندوستانی مسلمانوں کا ماضی،مسلمانوں کی ہر طرح کی ترقی و خوشحالی کا راز پوشید ہ ہے۔لال قلعہ، جامع مسجد دہلی،قطب مینار،نظام الدین اولیا اور نہ جانے کیا کیا انڈیا میں ہیں جن سے ہمارا ماضی جڑا ہوا ہے۔ یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔

قارئین!جب میں واہگہ بارڈر میں انڈین اور پاکستانیوں کے جذبات ، دونوں دروازے کا کھلنا، بندہونا، نمائشی پریڈ، پرچم اُترائی کا عمل، بارڈر کے اس پار اوراِس پار کا جائزہ لے رہا ہوں تو دل و دماغ میں سوالات کا نہ تھمنے والا ایک سلسلہ شروع ہوا۔گاندھی جی فرقہ وارانہ تشدد کے سخت خلاف تھے اور قاید اعظم ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے پھر یہ سب کچھ کیوں ہوا۔کیا تقسیم بندی میں مسلمانوں کے ساتھ سخت ناانصافیاں نہیں کی گئی ، کیوں؟ اس لیے کہ وہ کمزور تھے اور مختلف النوع مصائب اور آلام میں پھنسے ہوئے تھے، لامحالہ انہیں انگریز سرکار کے سامنے جھکنا پڑا اور تاج برطانیہ نے شاطرانہ انداز میں حد بندی میں اپنی مرضی کی۔انگریز نے راس کماری سے ہمالیہ تک برصغیر کو ایک متحدہ شکل دی اور نظام حیات قائم کیا مگر جاتے جاتے بٹوارا کرکے مسلمانوں کو نقصان عظیم سے دوچار نہیں کیا؟کیوں! اس لیے کہ بٹوارے کے وقت مسلمانوں کی آبادی ایک چوتھائی سے زیادہ تھی اور بٹوارے کے بعد دسواں حصہ بن گئی۔ مسلمان ایک چوتھائی ہونے کے باجود ہندو اکثریت سے خوف زدہ تھے تو دسواں حصے کا خوف آپ خود قیاس کرسکتے ہیں۔کیا بٹوارے کے بعد مسلمانوں کی طاقت اور تعداد پانچ حصوں میں تقسیم ہوکر نہیں رہ گئی؟ یعنی پاکستان،بھارت، بنگلہ دیش، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی شکل میں۔کیا تقسیم کے بعد پانچ کروڈ سے زائد مسلمانوں کو ہندو بنئے کے رحم وکرم پر بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا گیا؟کیابٹوارے کے بعد قاید اعظم نے آئی آئی چند ریگر اور چودھری خلیق الزمان کو بھارتی مسلمانوں کی رہنمائی و نصرت کے لیے ہندوستا ن میں رہنے کی ہدایت نہیں کی تھی؟پھر بٹوارہ چہ معنی دارد؟کیا ہم نے غور کیا کہ بٹوارے کی برکت سے ہندوستانی مسلمان بے آسرا، کشمیری محصور و مقہور،گلگت بلتستان کے لوگ بے آماں و دھرتی بھٹک نہیں رہے ہیں اور مشرقی پاکستان تو ہم سے کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا حالانکہ تحریک پاکستان کا آغاز تو وہاں سے ہوا تھا،کیا بٹوارے کا نقشہ سر ظفراللہ خان نے نہیں تیار کیا تھا؟ کیا ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کے بعدخون خراب اور فسادا ت نہ ہونے کا یقین دھانی نہیں کرائی تھی پھر کیوں مسلمانوں کے خون سے صحراو سمندر کو لال کردیا گیا اور عزتیں و عصمتیں تار تار کی گئی؟کیا بٹوارے کے عمل سے مسلمانوں کی عظیم درسگاہ مسلم علی گڑہ یونیورسٹی، دارالعلوم دیوبند، جامعہ ملیہ یونیورسٹی، جامعہ امنیہ دہلی،لال قلعہ قطب مینار اور دیگر مقامات مقدسہ سے یک جنبش رشتہ نہیں ٹوٹا؟کیا ہم نے جس مقصد کے لیے پاکستان حاصل کیا تھا وہ پورا ہوا؟اور تو اور ہم ابھی تک ایک قوم بھی نہیں بن سکے، ہم پہلے پٹھان، پنجابی، بلوچی، سندھی،گلگتی اور کشمیری ہیں بعد میں شیعہ سنی اور پھر کہیں جا کر شاید پاکستانی۔بہر صورت اللہ ہم پر رحم کامل کریں۔ ہم نے اللہ سے ایک کمٹمنٹ کرکے پاکستان لیا تھا کہ ہم یہاں قانون اسلام نافذ کریں گے جب ہم نے اپنے وعدے کا ایفاء نہیں کیا تو اللہ نے ہم پر بے شمار عذاب نازل کردیے جو آج ہم ا جتماعی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ویسے نظریہ پاکستان کے مخالف احباب پر ایک سوال اٹھتا ہے۔ہمارے اکابر حضرت مدنی اورتھانوی گروپ میں جو اصولی اختلاف تھا وہ یہ کہ متحدہ ہندوستان کے قائل احباب کا کہنا تھا کہ ہندوستان ایک سیکولر اسٹیٹ بنے گا جہاں تمام ادیان والوں کو یکساں آزادی ہوگی اور صوبوں کی خودمختاری کا مکمل پاس رکھا جائے گامروجہ جمہوری اقتدار اپنائے جائیں گے،جبکہ منقسم ہندوستان والوں کا خیال تھا کہ یہ تو عین مخالف اسلام ہے ،اگر تھوڑا ساعلاقہ بھی نفاذ اسلام کے لیے ملتا ہے تو اس کو ضرور حاصل کیا جائے تاکہ اسلام کوباقاعدہ اسٹیٹ کی صورت میں بنیادی شکل دی جا سکے، خیر یہ ایک علمی سوال ہے جس کا فیصلہ اصحاب علم ہی کر سکتے ہیں۔تاہم مذکورہ بالا سوالات کے جوابات اگر کوئی موصوف دینا چاہیے تو میں اس کا مہربان وممنون رہونگا۔

بہرصورت میں انہیں سوالات کے نرغے میں پھنسا ہوں،سلجھ کے بھی سلجھائے نہیں دے رہا، اچانک برادرم عتیق صاحب نے کہا کہ ٹائم اَوور ہوا ہے چلتے ہیں۔ ہم واہگہ بارڈر سے باہر نکلے۔ برادرم سعید الرحمان صاحب کا گھر جو بارڈر سے متصل ہے میں خالص دودھ کی نمکین چائے کے ساتھ ہندوستان سے منگوائی ہوئی سوغات ’’پتیسہ ہلدی رام‘‘ نوش کی۔طبیعت میں اضمحلال ہے جو چائے نوشی سے دور ہوا۔ سو ہم واپسی کے لیے پابہ رکاب ہوئے۔ویسے لاہور جانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں دو نئی چیزیں کھانے کا موقع ملا، قاری کثیر کے ساتھ گارڈن ٹاؤن میں دھی بھلے اورانڈیا کا پتیسہ ہلدی رام، جیوے پاکستان۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔