اور تنظیم ملت ٹوٹ گئی …..

اور تنظیم ملت ٹوٹ گئی …..

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 ہدایت اللہ آختر

گلگت  بلتستان کے باسیوں کو  شائد  ہی یاد ہو اگر نہیں تو ذرا ماضی کی طرف جھانکئے دیکھیں کی ہم نے اپنی آزادی کو کیسے  غلامی میں بدل دیا ۔ پہلی بار  میجر براون  کے ہاتھ پر بعیت کی اور دوسری بار ۱۹۷۰ میں  متحد قوم کو منتشر کیا۔  بس ایک واقعہ سناتا ہوں  اس پہ غور کریں اور سوچیں کہ کہیں ہم پھر اپنی غلطی کو  چوتھی بار تو نہیں دہرا رہے ہیں   ہوا کیا.

گلگت سکاوٹس کے کمانڈنگ آفیسر کی بیٹی  جو گرلز ہائی سکول گلگت میں پڑھتی تھی  وہ سکول امتحان میں فیل ہوئی. اس کی ماں  اس وقت کی ہیڈ مسٹرس کے پاس پہنچتی ہے اور اپنی بیٹی کو  غیر قانونی طور پر پاس کرانے کی کوشش کرتی ہے  اور اس کی ہیڈسٹرس کے ساتھ تلخ کلامی ہوجاتی ہے.  وہ ہیڈ مسٹرس اس وقت کے ڈپٹی کشنر کے پاس شکایت لے کر پہنچتی ہے  ۔۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈپٹی کشمنر اس کی شکایت کو سنتا  اور  اسکی شنوائی کرتا لیکن ایسا نہیں ہوا  بلکہ الٹا  اس  ہیڈ سٹرس  کو ڈپٹی کشنر نے  معطل کر دیا۔  نہ صرف معطل کر دیا، بلکہ  کمانڈنگ آفیسر اور اس وقت کے ڈپٹی کشنر نے جو کچھ کیا یا جس طرح اس  ہیڈسٹرس کی عزت اچھالنے کی کوشش کی  وہ باتیں یہاں لکھنے کی نہیں، اس لیے حذف کر رہا ہوں.

اس وقت کی متحرک سماجی و سیاسیتنظیم جسے  تنظیم ملت  کا نام  دیا گیاتھا ۔۔  جو صرف اور صرف گلگت کی بنیاد اور گلگتیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وجود میں لائی گئی تھی ۔۔کے نمائندوں نے ڈپٹی کشمنر سے ملاقات کی تاکہ  ہیڈ سٹرس سے جو نا انصافی اور زیادتی ہوئی تھی اس کا  ازالہ کیا  جاسکے.  بجائے اس کے کہ معاملے کو حل کیا جاتا کشمنر نے تنظیم ملت کے نمائیندوں  کو نہ صرف اپنے آفس سے باہر نکالا بلکہ انکی  بڑی بے عزتی بھی  کی۔  پھر کیا ہوا   لوگ سڑکوں پہ نکل آئے اور اس وقت کی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہرین پر فائر کھول دیا ، جس کی بعد اس احتجاج نے رنگ تبدیل کیا اور سیاسی تحریک کی  شکل اختیار کر گیا.  یہاں سے گلگت بلتستان  کےبنیادی حقوق کی بات چل پڑی. تنظیم کے پندرہ اہم رہنماوٗں کو نظر بند کر دیا گیا  لیکن احتجاجی مظاہرین نے جیل کو توڑا اور اپنے رہنماوں کو خود اپنے ہاتھوں اور کندھوں پر اٹھا کر جیل سے باہر لائے.

 اس کے بعد کی کہانی نہ پوچھو تو بہتر ہے  وہ اس لئے کہ پھر  ہم میں سے   کچھ لوگوں نے میجر براون کا کردار ادا کرتے ہوئے  پلاٹوں اور دیگر مراعات اور چند ٹکوں اور مفاد کی خاطر اپنے اس علاقے کا ایک بار پھر سودا کیا  بس اتنا کہونگا کہ۔۔۔ اور تنظیم ملت گلگت ٹوٹ گئی۔۔۔  اور اس کے بدلے وہ پارٹی بنی  جس کے حکمران آجکل اس  دھرتی کی دولت کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔۔۔

موجودہ پیکیج  ہماری تیسری بڑی غلطی ہے جس کے بعد کے برے  اثرات کرپشن اور مراعات یافتہ اور مفاد پرست سیاسی لیڈروں اور طبقوں  کو نظر نہیں آرہے ہیں ۔۔۔کیوں نہ یہ سوال ان سے پوچھا جائے جو آزادی ،شناخت اور قومیت کی بات  کرتے ہیں  کونسی قوم اور کونسی شناخت؟

 کیا  شناخت  رکھنے والی قومیں  ایسی غلطیاں اور سوداگری کرتی ہیں؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔