وزیر اعلیٰ کا وعدہ اور سیپ ٹیچرز کا مستقبل۔۔۔۔۔؟

وزیر اعلیٰ کا وعدہ اور سیپ ٹیچرز کا مستقبل۔۔۔۔۔؟

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: نیاز علی وزیر

یہ 21مارچ 2013ء دوپہر کا وہ عظیم دن تھا جس میں پہلے ہی سے یہ بتایا جارہا تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان آج مقپون پولو گراؤنڈ سکردو میں ایک اہم اعلان کرنے والے ہیں ہزاروں کا اجتماع یہ اہم اعلان سننے کیلئے صبح 10بجے ہی سے گراؤنڈ میں آئے ہوئے تھے اور اعلان سننے کیلئے بے تاب تھے لوگوں میں لمحہ بہ لمحہ بے چینی بڑھ رہی تھی خداخدا کرکے وزیر اعلیٰ گراؤنڈ میں تشریف لائے اور مہمان خصوصی کی کرسی پہ جلوہ افروز ہوئے ہزاروں لوگوں کی کھیل کی طرف توجہ کم اور اعلان کے بارے میں چہ مگوئیاں زیادہ ہورہی تھی کہ یہ اہم اعلان کیا ہوسکتا ہے جوں ہی کھیل ختم ہوئی وزیر اعلیٰ پر جوش انداز میں مائیک ہاتھ میں لئے سٹیج کے سامنے آگئے مقپون پولو گراؤنڈ میں سناٹا چھا گیا ہزاروں کا اجتماع یہ اہم اعلان سننے کا منظر تھا رسمی گفتگو کے بعد بالاخر وزیر اعلیٰ نے اہم اعلان کردیا۔

’’میں ان پریشان حال سیپ ٹیچرز کو مستقل کرنے کا اعلان کرتا ہوں جوکہ 20سالوں سے کم اجرت پہ قوم کا مستقبل روشن کرنے میں مگن ہے۔‘‘

imagesیہ اعلان سننے ہی ہزاروں لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے پورے سکردو شہر میں تالیوں کی گونج چھاگئی عوام نے وزیر اعلیٰ زندہ باد کے نعرے بلند کئے کسی کونے میں مظلومیت کی چکی میں پسا ہوا اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے والا انصاف کا متلاشی سیپ ٹیچر بیٹھا ہوا تھا خوشی سے بے قابو ہوکر اس کے آنسو چھلک پڑے اوراپنے دوست سے لپٹ کرکہنے لگا میرے دوست میرا مستقبل روشن ہوگیا مستقلی کی خبر شام تک ہر ٹیچر کے گھر تک پہنچ گئی اورسیپ ٹیچرز نے شکرانے کے سجدے ادا کئے اور وزیراعلیٰ کے حق میں دعائیں بھی مانگیں جب صبح ہوئی تو سیپ ٹیچرز کے رشتہ دار ٹیچرز کو مبارکباد دینے کیلئے ان کے گھروں پر پہنچ گئے مٹھائیاں تقسیم ہوئیں اور پارٹیوں کا اہتمام کیا گیا اساتذہ اور ان کے اہل خاندان نے وہ کچھ دن بڑے سکون کے ساتھ گزارے اخبارات میں کالم اور اداریے لکھے گئے اعلان کا سلسلہ جاری رہا مگر تھوڑے ہی عرصے میں منظر ہی بدل گیا اب ایک سال گزرچکا لیکن مظلوموں کی مظلومی ختم نہیں ہوئی اب صورت حال یہ ہے کہ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا میرا دوست مجھ سے اکثر پوچھتا ہے کہ آپ کا مستقبل روشن ہوگیا۔۔۔؟ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے آخر رہمارا گنا کیا ہے؟

ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل کر قوم کا مستقبل روشن کیاہے۔
ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم نے مشکلات کونظرانداز کرکے قوم کے مستقبل کوسنوارا ہے۔
ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم نے طویل عرصے تک قلیل اجرت پر بہترین خدمات سرانجام دی ہیں۔
ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کی قربانیاں دے کر قوم کے بچوں کو سرخروں کیا ہے۔
ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم پرامن طریقے سے حق مانگتے رہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔

آخر کا 20سالوں سے اپنی خدمات احسن طریقے سے سرانجام دینے والوں اور 60ہزار سے زائد بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے والوں کو صرف وعدوں پہ ٹرخائے جائے تو ان پر کیا گزرے گی ہم نے امید کا دامن ابھی تک نہیں چھوڑا وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ صاحب کے اقتدار کے کچھ ماہ باقی ہیں وہ چاہیں تو اپنا وعدہ وفا کرسکتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد خوشخبری ملے گی اور قوم کے مستقبل کو سنوارنے والوں کا مستقبل روشن ہوجائیں گا ہمیں وزیراعلیٰ کے وعدے پر یقین ہیں بقول شاعر

یہ جان کر اس کی ہر بات پر یقین کرلیا
اتنے حسین لبوں سے وہ جھوٹ کیسے بولے گا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔