انسانی خدمت کی عالمگیر تحریک 

انسانی خدمت کی عالمگیر تحریک 

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

دنیابھرمیں ہرسال 8مئی کوریڈکراس اینڈ ریڈکریسنٹ کے عالمی دن کے طورپرمنایاجاتاہے۔اس دن کو منانے کامقصد ریڈکراس اینڈ ریڈکریسنٹ کی عالمگیر تحریک کے بانی ہینری ڈؤننٹ کی سوچ اورانسانیت پسندنظریے کوتسلیم کرنا،دکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے عوام میں شعور وآگاہی پیداکرنا اور نوجوانوں کے اندر رضاکارانہ جذبے کو فروغ دینا ہے ۔ ہینری ڈوننٹ ایک سوئس تاجر تھے جنہوں نے1859 ء میں سوئزرلینڈ سے اٹلی کی جانب سفر کے دوران راستے میں سلفرینو نامی گاؤں میں جنوبی اسٹریا اور فرانس کے درمیان چھڑی جانے والی خونی جنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے سینکڑوں فوجی اور سولین کی طبی امداد کے لئے چیخ وپکار کا منظر دیکھ کر دکھی انسانیت کی مدد کے لئے رضاکارانہ تحریک کا نظریہ دیا تھا۔ ہینری ڈوننٹ یہ منظر دیکھ کر خود پر قابو نہ پا سکے۔ انہوں نے اپنا سفر ترک کرکے گاؤں کی خواتین کو جمع کیا اور انہیں انسانیت کی خدمت کیلئے متحرک کیا۔ یوں ایک رضا کار نرسنگ گروپ بن گیا ۔ جس نے زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کے ذریعے سینکڑوں انسانی جانیں بچائیں ۔ ہینری نے خدمت انسانی کی مربوط کوششوں کی ضرورت محسوس کی اور آخر کار 9فروری 1863ء کو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی بنیاد رکھی گئی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کمیٹی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انسان صرف میدان جنگ میں ہی زخمی نہیں ہوتے بلکہ قدرتی اور انسانوں کی پیدا کردہ آفات میں بھی وہ جسمانی اور ذہنی طور پر زخمی ہوتے ہیں ۔ آج اس کمیٹی کا دائرہ کار انسانیت کو ہرطرف کے مصائب سے نجات دلانے تک پھیل چکا ہے ۔ 9فروری 1863ء انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس بننے کے بعد کئی ممالک نے ریڈ کراس سوسائٹیز بنائیں۔ سب کا مقصد ایک ہی خدمت انسانیت ہے ۔ آج دنیا بھر کے 187ممالک میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کام کر رہی ہیں۔ یہ تمام سوسائٹیز اپنے اپنے ممالک میں نیشنل سوسائٹیز کے طور پر جانی جاتی ہیں اور ملکی قانون کے تحت قائم کی جاتی ہیں۔ انسانی خدمت میں یہ سوسائٹیز اپنی اپنی حکومتوں کی مدد گار ہوتی ہیں۔ سات بنیادی اصولوں ، انسانی ہمدردی ، غیر جانبداری ، برابری ، خودمختاری ، رضاکارانہ خدمت گزاری ، اتحاد اور عالمگیریت کے تحت کام کرنے میں مکمل آزادہیں۔ یہ سوسائٹیز نہ تو این جی اوز ہیں اور نہ ہی آئی این جی اوز ۔ 1919ء میں دنیا بھر کی ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے ایک سکریٹریٹ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ جسے لیگ آف ریڈ کراس سوسائٹیز کہا گیا ۔ 1991میں اسے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کا نام دیا گیا۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس ، انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز اور نیشنل سوسائٹیز ایک موومنٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انسانی خدمت کی اس تحریک کے دنیابھر میں 13ملین رضا کار ہیں۔

SAFDAR ALI SAFDARپاکستان میں ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (انجمن ہلال احمر ) 20دسمبر 1947میں قائم ہوئی ۔ آج اس کا صدر دفتر اسلام آباد میں واقع ہے ۔پانچ صوبائی برانچیں ، آزادکشمیر برانچ ، فاٹا برانچ اور اسلام آباد کیپٹل منسٹریری برانچ کے علاوہ 92ضلعی برانچیں اور 143ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل ہیں ۔ اس کا احاطہ کار قدرتی آفات میں مدد کیلئے تیاری اور کام ، صحت عامہ جیسی خدمات کو بڑھانا ہے۔ گلگت بلتستان میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا صوبائی برانچ 20دسمبر 2007کو قائم کیا گیا اور آج اس ادارے نے علاقائی سطح پر خدمت انسانیت کے اپنے پانچ سال کامیابی کے ساتھ مکمل کرلئے۔

اس مختصر عرصے کے دوران ادارے کی جانب سے علاقائی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی مختلف نوعیت کی قدرتی آفات سے متاثرہ ایک لاکھ سے زائد افراد کو خوراک اوردیگر امدادی اشیاء فراہم کردی گئیں۔ تیس ہزار سے زائدافرادکو صحت کی بنیادی سہولیات باہم پہنچائی گئیں۔قدرتی آفات کے دوران بے گھر ہونے والے 1150خاندانوں کو عارضی گھربنانے میں مدد فراہم کی گئی ۔ جبکہ قدرتی آفات کے آنے سے پھیلی جانے والی وبائی امراض سے بچاؤ کے حوالے سے عوام کوشعور وآگاہی دینے کے لئے خصوصی منصوبے شروع کئے گئے جس سے متاثرین کی مشکلات میں کمی واقع ہوئی۔ اس عرصے کے دوران آٹھ ہزار سے زائد مردوخواتین نے ادارے کے ساتھ خود رضاکار رجسٹرڈ کردیا جس سے علاقائی سطح پر رضاکاروں کاایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہوا۔ ان رضاکاروں میں سے تین ہزار سے زائدرضاکاروں کو ابتدائی طبی امداد اور دیگر شعبوں میں خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی۔ اس مقصدکیلئے ادارے کی جانب سے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹی سطح پرکلب قائم ہیں جہاں پر ادارے کے ماہرین وقتاً فوقتاً رضاکارانہ خدمت کے حوالے سے یوتھ کلب کے ممبران کو تربیت فراہم کررہے ہیں۔ ہلال احمرگلگت بلتستان کے زیرنگرانی گلگت اور سکردو شہرمیں قائم بنیادی مراکزصحت میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں مریضوں کا معائینہ کرکے مفت ادویات بھی فراہم کی جارہی ہیں جبکہ زندگی کے مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے افرادکو ایمرجنسی ریسپانس اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے جن میں گلگت بلتستان سکاؤٹس،پولیس ڈیپارٹمنٹ ،ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اورٹرانسپورٹرزایسوسی ایشنز اور میڈیا کے نمائندے شامل ہیں۔ اس عرصے کے دوران انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس (IFRC) ، انٹرنیشنل کمیونٹی آف ریڈ کراس (ICRC) ، ڈینش ریڈ کراس (DRC) ، جرمن ریڈ کراس (GRC) ، نارویجن ریڈ کراس (NRC ) انجمن ہلال احمر پاکستان کے نیشنل ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا خصوصی تعاون رہا جنہوں نے ادارے کی سرگرمیوں کو کامیابی سے جاری رکھنے لئے مالی معاونت فراہم کی تاہم ادارے کو درپیش بعض مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں جن کے خاتمے کے لئے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کا خصوصی تعاؤن درکار ہے تاکہ یہ ادارہ مزیدمستحکم اور فعال انداز میں خدمت خلق کے مشن کو جار ی رکھ سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments