چترال کے بالائی علاقے بروغل میں گدھوں پر بھی پولو کھیلا جاتا ہے

چترال کے بالائی علاقے بروغل میں گدھوں پر بھی پولو کھیلا جاتا ہے

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی)   پولو کو بادشاہوں کا کھیل کا کھیلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ کھیل گھوڑے جیسے شاہی سواری پر بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے ۔ مگر جب شاہی سواری نہ ہو اور لوگ شاہی مزا ج کے ہو تو یہ بادشاہوں کا کھیل گدھے پر بھی بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے۔

چترال کے ہر حصے میں عمومی اور بالائی علاقے بروغل میں حصوصی طور پر گدھا پولو کھیلا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں گوردوغ غال کہا جاتا ہے۔فری سٹائل گدھا پولو نہایت شوق سے لوگ دیکھتے ہیں۔ اس کھیل میں عام طور پر چھوٹے عمر کے بچے حصہ لیتے ہیں۔

اس کھیل میں بچے نہایت مہارت سے گدھے پر سوار ہوکر پولو کھیلتے ہیں اور گدھا بھی بغیر کسی مہار کے یا رسی کے قابو کیا جاتا ہے۔

فری سٹائل گدھا پولو بروغل وادی کی نہایت مقبول کھیل ہے جسے بچے ، جوان اور بوڑھے یکساں طو ر پر کھیلتے ہیں۔ تاہم اس کھیل کو زندہ رکھنے کیلئے حصوصی طور پر گدھے پالے جاتے ہیں جن کی تربیت بھی کی جاتی ہے تاکہ وہ بغیر کسی مشکل کے یہ کھیل کھیل سکے۔

ہر ٹیم میں کم از کم چھ چھ کھلاڑی ہوتے ہیں اور اس کیلئے گھوڑا پولو کی طرح زیادہ بڑا میدان نہیں ہوتا۔بلکہ پولو کے مقابلے میں اس کیلئے میدان کے نصف حصے کو مقرر کرکے اس میں گدھا پولو کھیلا جاتا ہے تاکہ گدھے کو زیادہ دور تک دوڑنا نہ پڑے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے چند کھلاڑیوں نے کہا کہ وہ گدھا پولو نہایت شوق سے گدھا پولو کھیلتے ہیں مگر اس کھیل کیلئے گدھا پالنا پڑتا ہے اور بروغل وادی میں موسم سرما میں جانوروں کیلے چارے کی شدید قلعت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی یا غیر سرکاری ادارے ان کے ساتھ مالی تعاون کرے تو ان کے نیا نسل بھی صدیوں سے یہ روایتی کھیلیں زندہ رکھنے میں بھر پور کردار ادا کریں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔