دیکھا جو تیر کھاکے…..

دیکھا جو تیر کھاکے…..

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان اوریہاں کے عوام کی محرومیوں اور مظلومیت کی داستان ۶۶ سالوں پر محیط ہے۔قیام پاکستان کے ایک سال بعدیہاں کے بہادر عوام نے اپنے زور بازوسے اس علاقے کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا اور اپنی مرضی سے اس نوزائدہ اسلامی مملکت سے الحاق کا اعلان کیااور اس دن سے آج تک تمام تر محر ومیوں کے باوجود اس ریاست کے وفادارچلے آرہے تھے اور ہیں۔شاید یہی اس خوبصورت اور بدقسمت خطے کے عوام کا سب سے بڑا جرم بن گیا ہے ۔

علی محمد رحمانی

علی محمد رحمانی

اس لئے جب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید جو پاکستان کی جغرافیائی حدود کی اطلاع بھی نہیں رکھتے،جن کے پریس کانفرنسوں نے پاکستانی چینلوں پہ چلنے والے تمام مزاحیہ پروگراموں کو مات دی ہے، جن کی واحد کوالیفکیشن شریف خاندان سے وفاداری بشرط استواری ہے،نے ایک بدنام زمانہ چینل کی اندھی محبت میں بد مست ہوکر اپنے منہ کے زاویے کو ۱۸۰ ڈگری دائیں بائیں گھماتے ہوئے میڈیا پہ یہ اعلان کر ڈالا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے اورمذکورہ چینل اور اس کے اخبارنے بھی نام نہادقانونی اور آئینی ماہرین کو بلا بلا کر یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوڑی کا زور لگایا کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ،یہاں کی عدالتوں کے فیصلوں کا اطلاق ملک کے دیگر شہروں کے لوگوں پر نہیں ہوتااور نہ ہی یہاں کی عدالتیں پاکستان کے کسی شہری کو سزا دینے کی مجاز ہیں،تو اس اعلان نے گلگت بلتستان کے ستم رسیدہ عوام کے پرانے زخم پھر سے ہرے کر دیئے اور انہیں شدت سے اس بات کا احساس دلادیا کہ اب انہیں اپنی شناخت کے لئے کچھ نہ کچھ کر گزرنا چاہیے ۔کب تک مان نہ مان میں تیرا مہمان بن کر زبردستی کسی اجنبی سے چمٹے رہیں گے جو ہمارا وجود تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں؟کب تک اپنی شناخت کے لئے دربدر ہوتے رہیں گے؟کب تک ٹکے ٹکے کے لوگوں کو قسم کھا کھا کر پاکستانی ہونے کا یقین دلا تے رہیں گے ؟اتنی قربانیاں جب کسی شمار میں نہیں تو اب بتلانے ،جتلانے اور دکھلانے کو رہ کیا گیا ہے ….؟

عجب طرفہ تماشا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست ببانگ دہل پاکستان سے علحٰیدگی اور نفرت کا اعلان کرتے ہیں مگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ انہیں پاکستانی ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے اور دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام نصف صدی سے زائد عرصے سے پاکستان کے وفادار ہونے کی دہائی دے رہے ہیں مگر انہیں کوئی پاکستانی ماننے پر تیار نہیں۔پرویز رشید کے بیان نے یہاں کے قوم پرستوں کا کیس مضبوط کردیا ہے اور ان کا موقف سچ ثابت کر دکھایا ہے کہ اب یہاں کے عوام کو پاکستانی شناخت پر زیادہ اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ان قوم پرستوں کی بات میں اب کافی وزن محسوس ہونے لگا ہے ۔اس کے ساتھ یہاں کے نون لیگی رہنماؤں کو بند گلی میں لا کھڑا کردیا ہے۔اب انہیں الیکشن میں اس بیان کا خمیازہ ضرور بھگتنا پڑے گا۔ان کی وضاحتوں کے باوجود یہ ان کا پیچھا کرتا رہے گا۔بس اب بہت ہو گیا۔اب اس معاملے کو کسی منطقی انجام تک پہنچ جانا چاہیے۔

اب اس اعلان اور اظہارمیں چھپے منافقت کا دوسرا پہلو ملاحظہ کیجئے کہ مذکورہ چینل اور اخبارکے مالک نے اپنے خلاف گلگت بلتستان کی عدالت کے فیصلے کو وفاق کی ایک عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔اگر گلگت بلتستان ،پاکستان کا حصہ نہیں تو غیر ملکی عدالت کے فیصلے سے آپ جیسے خالص پاکستانی کو اتنے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا کسی غیر ملکی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی عدالتوں میں چیلنج کرنے کی اس سے پہلے کوئی نظیر ملتی ہے؟ کیا امریکہ ،بھارت اور چینی عدالتوں کے فیصلے بھی اتنی آسانی سے یہاں چیلنج کئے جا سکتے ہیں؟کیا فرماتے ہیں ماہرین قانون اور اکرام شیخ صاحب بیچ اس مسئلے کے….؟؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ پرویز رشید کے بیان کی کسی پارٹی نے کھلے لفظوں مذمت نہیں کی اور نہ مسلم لیگ نون کو اس کی تردید کرنے یا ان سے وضاحت طلب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔اور خورشید شاہ نے جو کہنے کو تو پارلیا منٹ میں اپوزیشن لیڈر ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ اپوزیشن ہیں اور نہ لیڈر، بلکہ اول و آخر میٹر ریڈر ہیں ،مجال ہے اس حوالے سے ایک لفظ کہا ہو۔ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ کم و بیش ساری پارٹیوں کا یہی نظریہ ہے گویا در ایں خانہ ہمہ آفتاب است…!

سوال یہ ہے کی اگر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں تو اس علاقے کے وسائل پر غاصبانہ قبضہ کس قانون کے تحت جائزہے ۔ اگراس علاقے کا تعلق پاکستان سے نہیں تو پھر لالک جان شہید نشان حیدر کا تعلق پاکستان سے کیونکر ہوسکتا ہے؟ پھر کسی غیرملکی کو نشان حیدر دیا جانا چہ معنیٰ دارد….! ؟ پھر کے ٹو،سیاچن،سوست ڈرائی پورٹ ،شاہراہ ریشم پاکستان کا حصہ کس طرح ہوسکتے ہیں؟پھر پاکستان اور ہندوستان کی جنگ سیاچن اور کارگل باڈر کی بجا ئے جاتی عمرہ اور گوالمنڈی میں کیوں نہیں ہوتی….؟ پھر…پھر…!!!!کیوں..؟؟؟

بس بہت ہوگیا ۔اب اس معاملے کو کسی منطقی انجام تک پہنچ جانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے کب تک دودھ کو پانی اور پانی کو دودھ کہا جاتا رہے گا۔

اگر وزیر اطلاعات کا بیان حکومت پاکستان کی پالیسی کا اظہار نہیں اور سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس سے اتفاق نہیں کرتیں تو انہیں دفتر خارجہ کے مریل پریس ریلیز کی بجائے واضح انداز میں اس کی تردید اور مذمت کرنی چاہیے بصورت دیگریہاں کے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ پرویز رشید کا بیان انہی کی ایماء پر دیا گیا ہے ورنہ کوئی شخص سینکڑوں عوام اور فوجیوں کی قربانی دیکر بچائی گئی سرزمین کو پاکستان کا حصہ ماننے سے یکسر کیسے انکار کر سکتا ہے۔

اب گلگت بلتستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے ۔دیکھنے کے لائق ہوگا کہ گلگت بلتستان سے بوجہ فرمانبرداری لا تعلقی کااعلان کرنے والے کس منہ سے ووٹ مانگنے آتے ہیں اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے اپنی زنبیل سے کیا نکالتے ہیں۔مگر لگتا ہے کہ اب عوام ان کی اصلیت جان گئے ہیں کیونکہ بقول حفیظ جالندھری:

دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

اب پس تحریر آج کے اخبارات سے معلوم ہوا کہ مجلس وحدت المسلمین نے پرویز رشید کے بیان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے ملک کے ممتاز ماہرین قانون سے مشاورت جاری ہے۔یہ ایک صائب اور بروقت اقدام ہے جس کو سراہا جانا چاہیے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔