گزشتہ چار سالوں میں چترال کے مختلف علاقوں میں خودکشی کے ڈیڑھ سو سے زائد واقعات ہوے ہیں

گزشتہ چار سالوں میں چترال کے مختلف علاقوں میں خودکشی کے ڈیڑھ سو سے زائد واقعات ہوے ہیں

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

This slideshow requires JavaScript.

چترال ( بشیر حسین آزاد ) چترال میں بڑھتی ہوئی خود کُشی کے واقعات کی وجہ سے چترالی معاشرے پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے اور اس قبیح فعل کی روک تھام کو ممکن بنانے کیلئے ایلی پراجیکٹ اے کے آر ایس پی کے تعاون سے ایک روزہ ورکشاپ ہیومن رائٹس پروگرام چترال کے زیر انتظام چترال میں منعقد ہوا ۔ جس میں وکلاء ، سول سو سائٹی آرگنائزیشنز کے مردو خواتین نمایندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
ورکشاپ میں سال 2011سے لے کر 2014 تک خود کُشی کے حوالے سے جائزہ رپورٹ پیش کیا گیا ۔ جس کے مطابق گذشتہ چار سالوں میں چترال میں رونما ہونے والے خودکُشی کے واقعات کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے ۔ ان میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے ۔ ورکشاپ میں یہ بات سامنے آئی کہ ان واقعات میں سب سے زیادہ جوانسال بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں ۔ اور یہ رجحان بتد ریج بڑھتی جا رہی ہے ۔ مقررین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ۔ کہ اکثر قتل کے واقعات کو خود کُشی کا رنگ دے کر معاملے کو رفع دفع کیا جاتا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ مقامی پولیس کی طرف سے واقعے کے بارے میں عدم دلچسپی اور قانون کے مطابق تفتیش نہ کرنا ہے ۔ حالانکہ ضابطہ فوجداری کے دفعہ 174کے تحت مقامی ایس ایچ او کو مکمل اختیار حاصل ہے ۔ کہ وہ اپنی مدعیت میں واقعے کی مکمل چھان بین کر سکتا ہے ۔ اور مبینہ خود کُشی یا قتل کے محرکات کو سامنے لا سکتا ہے ۔ لیکن مقامی پولیس بڑی آسانی سے متوفی کے رشتہ داروں کی بیان کردہ کہانی پر یقین کرکے معاملے کو داخل دفتر کرکے اپنی گُلو خلاصی کر لیتا ہے ۔
ورکشاپ میں چترال سے باہر شادیوں کی وجہ سے ہونے والے قتل کے واقعات پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اور اس حوالے سے کم عمری میں شادی کی ممانعت کے قانون مجریہ 1964پر سختی سے عملدر آمد کا مطالبہ کیا گیا ۔ورکشاپ میں اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ ان واقعات کی روک تھام کیلئے بڑے پیمانے پر چترال کے یوتھ کو منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اس مقصد کیلئے یوتھ پر مشتمل ایکشن گروپ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ جس میں خواتین وکلاء بار ایسوسی ایشن ،پریس کلب اور سول سو سائٹی کے نمایندگان شامل ہیں ۔ یوتھ ایکشن گروپ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے آفیسران ، محکمہ ایجوکیشن ، محکمہ صحت ، چترال کے علماء اور لوکل سپورٹ آرگنائزیشز ،سی سی ڈی این کے ذمہ داراں سے رابطہ کرے گا ۔ اور گھر گھر آگہی پھیلانے کی کوشش کی جائے گی ۔ ورکشاپ سے نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ ، کو آرڈنیٹر سیپ محمد اسماعیل، زینت جبین ایڈوکی ، آفتاب رحیم ایڈوکیٹ ، بی بی جان ،گلاب خان سریر، بی آسیہ ، بی بی ثمینہ وغیرہ نے خطاب کیا ۔ یوتھ ایکشن گروپ کے ممبران نے ضلع کی سطح پر چترال شہر میں ایک یوتھ ریسورس اینڈ انفارمیشن سنٹر کے قیام پر زور دیا ۔ تاکہ اس سنٹر کے قیام سے نوجوانوں کے باہمی روابط کو مربوط بنایا جا سکے ۔اور اُن کے مسائل حل کئے جاسکیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔