مذہبی عدم رواداری میں مہاتما گاندہی کا کردار

مذہبی عدم رواداری میں مہاتما گاندہی کا کردار

28 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
کریم اللہ

کریم اللہ

ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان سمیت خطے کے بیشتر ممالک اپنی تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، دہشت گردی،مذہبی منافرت اور عدم رواداری نے پورے خطے میں زندگی کے تقریباََ سارے شعبوں کو بری طرح متاثر کرکے رکھ دیا ہے، ہمیں ان تاریخی حقائق اور وجوہات پر سے پردہ اٹھا نے کی ضرورت ہے ،جو بوجوہ یا تو ہمارے مصنفین، اسکالر زاور کالم نگاروں کی آنکھوں سے بوجھل رہی یا پھر جان بوجھ کر ان پر پردہ ڈالاگیا ۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں تاریخ کو بحیثیت سائنس پڑھنے اور تاریخی حقائق پر بے لاگ اور پسند وناپسند سے بالاتر ہو کر تحقیق کرنے کا رجحان سرے سے ناپید ہے۔ چند ایک اسکالر نے تاریخی حقائق کو بیان کرنے کی جسارت کی تو وہ غدار اور لادینیت کے فتووں سے قابلِ گردن ز نی کے مرتکب ٹہرے۔ حقائق سے شتر مرغ کی طرح آنکھیں چرانے کی وجہ سے ہی آج ہم تباہی کے ایک ایسے غار کے دھانے کھڑے ہیں ،جہاں سے آگے تباہی ہی تباہی اور پیچھے ہٹنے کی یا تو کوشش ہی نہیں کرتے یا پھر پیچھے ہٹنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے ۔پاکستان ،افعانستا ن سمیت پورے خطے میں جاری اس عدم برداشت اور تخریب کاری و منافرت کو ابھی تک سطحی انداز سے دیکھا گیا اور مجموعی رائے یہ ہے کہ اس سب کے ذمہ دار ضیا الحق کے ظلم وبربریت پر مبنی حکومت ہے ۔یہ بات درست ہے کہ ضیاء کے دور میں مذہبی شدت پسندی اپنے عروج کو پہنچی لیکن اس کی جڑین کافی پرانی ہے تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس شدت پسندانہ سیاست کا آغاز 1918ء میں امن کے پیامبر ایک کانگریسی سیاست دان مہاتماگاندھی نے رکھی تھی۔اس موضوع پر روشنی ڈالنے سے پہلے ہمیں اس وقت کے ہندوستانی سیاست اورخاض کر آل انڈیا نیشنل کانگریس،مسلم لیگ ،محمد علی جناح اور گاندھی کے سیاست اور سیاسی رتبے کو زیرِ بحث لانا انتہائی ضروری ہے۔ بنیادی طورپر قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی کیرئیر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا اپنی قابلیت اور ذہانت وپرسنالٹی کے بل بوتے پر بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں وہ کانگریس میں بلند رتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے 1910ء میں اپنی آئین میں بنیادی تبدیلی لائی اور پہلی مرتبہ انڈین نیشنل کانگریس سے مل کر سیاسی جدجہد کرنے کی کوشش کی، 1912ء میں آل انڈیا مسلم کونسل کے اجلاس میں جناح کو جو کہ مسلم لیگ کا رکن نہیں تھا خصوصی طورپر مدعو کیا گیاتھا، اس اجلاس میں ان کی طرف سے متعدد تجاویز سامنے آئی جس کو من وغن تسلیم کیا گیا ۔لیگی قیادت کی اصرار پر 1913ء میں مسٹر جناح مسلم لیگ میں شامل ہوگئے، اور بیک وقت مسلم لیگ اور کانگریس دونوں جماعتوں کی رکنیت حاصل کی ۔اسکے بعد انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے بھر پور کوشش شروع کی جسکا ثمر 1916ء میں جا کر ملا جب آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کا مشترکہ اجلاس لکھنو میں منعقد ہوا اس اجلاس میں کانگریس نے مسلم لیگ کے بہت سارے مطالبات تسلیم کئے، اس کامیابی کے بعد محمد علی جناح کو انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے ’’ہندو مسلم اتحاد کے سفیر‘‘ کا خطاب ملااور یوں قائد اعظم کی شہرت ہندوستان بھر میں بلندیوں کو چھونے لگی ٹھیک اسی وقت جبکہ پہلی جنگِ عظیم اپنے آخری مراحل میں تھے’’ گاندھی اپنا سیاسی مقام بنانے کی کوشش کر رہے تھے ان کی تمام تر کوششوں کو دراصل اس نقطہ نظر سے دیکھنا چاہئے کہ ان کا مطمعِ نظر دراصل اپنے لئے نئے سیاسی مقام کی تلاش تھی ‘‘ (حمزہ علوی، تخلیق پاکستان صفحہ23)

مغلوں کے دور حکومت میں سرکاری زبان چونکہ فارسی اور عربی تھی اور جدید سائنسی وادبی علوم سرے سے ناپید تھے یہی وجہ ہے کہ اس دور کے علماء کو بہت سارے اختیارات حاصل تھے ۔سیاست ،عدالتی معاملات ،تعلیم اور سماجی معاملات مولویوں کے ہاتھ تھی، 1857ء کی بغاوت کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستان کی سیاست پر مکمل قبضہ جمانے کے بعد انگریزی قوانین اور زبان کو نافذ کیا، تو روایتی علما کا کردار معاشرے سے تقریباََ ختم ہو گیا جس کی وجہ سے’’ علما ء نہ صرف شدت سے انگریزی زبان اور حکمرانوں کے ثقافت کی مخالفت کی بلکہ انگریز حکومت کی بھی کلی طورپر مخالف ہو گئے ا س کے ساتھ ہی بڑی شدت سے پیشہ وروں، تنخواہ داروں اور ان مسلمان معلموں (Educationalist)کی بھی مخالفت شروع کر دی جنہوں نے انگریزی زبان اور مغربی ثقافت کو اپنانا شروع کردیا تھا۔ علماء اور مولوی ابتدا میں شدت پسند تھے لیکن ان کو پسپائی اس وقت اٹھانا پڑی جب 1857ء کو قومی بغاوت کے اختتام پر انہیں ناکامی کے بعد مدرسوں تک محدود ہو نا پڑا‘‘(حمزہ علوی، تخلیق پاکستان صفحہ9-10)

سرسید احمد خان زمانے کی ضروریات کو مدِ نظررکھتے ہوئے انگریزی زبان اور جدید تعلیم کے علاوہ مسلم سماج میں اصلاحات لانے کی کوشش کی تو اس کی بھی زبردست مخالفت ہوئی۔ نیچرلسٹ ،لادین اور مذہب دشمن کے فتوے لگے لیکن اس مردِ درویش کا مشن مسلمانوں کو تواہمات سے نکال کر وقت کا مقابلہ کروانے کے لئے تیار کرنا تھا سو اس حوالے سے جس چیز کو مناسب سمجھا وہ ہر اس کام اور اصول کو اپنا یاجو ان کے خیال میں مسلمانوں کواس زوال سے نکالتے ۔

1857ء کی بغاوت سے لیکر 1918ء تک علما کا سیاسی کردار نہ ہونے کے برابر رہا۔ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد انگریزاو راتحادیوں نے ترکی کے حصے بخرے کئے تو عثمانی سلطنت کی ڈوبتی ہوتی کشتی کو بچانے کی عرض سے ہندوستانی علما خلافت تحریک شروع کی ہندوستان میں خلافت کمیٹیاں تشکیل دے کر خلافت تحریک کا آغاز ہوا اس تحریک کواس وقت عروج پہنچا جب مہاتما گاندھی اسکی قیادت شروع کی ہندوستانی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لئے گاندھی جیسے چالاک وکیل ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھی او ر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس ساری تحریک کے سپہ سالار بن گئے ’’گاندھی کے اپنے قول کے مطابق وہ اس تحریک کے آمر (Dictator)بن گئے تھے تحریک کے دیگر اکابرین بشمول عبدالباری فرنگی محل،انصاری،شوکت علی اور محمد علی گاندھی سے راہنمائی اور ہدایت لیتے تھے ۔یہ انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل ہوگا کہ اس تحریک میں گاندھی کے کردار کا جائزہ لیا جائے جو کہ اس تحریک کے لئے پیر(Saint)بن گئے تھے‘‘‘(حمزہ علوی،تخلقِ پاکستان صفحہ 23)

1918ء سے لیکر 1924ء تک جاری رہنے والی نام نہاد خلافت تحریک نے نہ صرف گاندھی کی سیاسی کیرئیر کو عروج تک پہنچایا بلکہ علما کو بھی متحد کرکے ہندوستانی سیاست میں اپنے پنجے گاڑھنے کا موقع دیا ۔یہی نہیں انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کے بعدجو روشن خیالی کادور شروع ہوا تھا ،خلافت تحریک نے اس کے سامنے دوبارہ ماضی پرست اور رجعتی نظریات کو لاکھڑا کیا۔ شائد مسلم لیگ اور جناح کے ابھرتے ہوئے کردار کو زائل کر کے ہندوستان کی آزادی کا بلاشرکتِ غیر سپہ سالار بننے کے لئے گاندھی جی نے علماء کو الگ سیاسی جماعت بنانے کا مشورہ دیاتھا۔ ’’گاندھی کی اس تحریک(خلافت تحریک)نے مسلم لیگ کے سیکولر قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا اسکے بدلے مولویوں کو سیاست کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا ۔ گاندھی نے مولویوں کو 1919ء میں علیٰحدہ جماعت ’’جمعیت علما ئے ہند‘‘ کے نام سے قائم کرنے میں بھی مدد کی‘‘(حمزہ علوی،تخلقِ پاکستان صفحہ 23)

خلافت تحریک انگریزوں اور بعد کے جدید ہندوستانی اصلاح پسندوں کے ہاتھوں شکست خوردہ علمأ کو دوبارہ سیاست میں لے آئے جوں جوں وہ سیاست کے رموز واوقاف کو سمجھتے ہوئے اپنے مفادات کی تحفظ میں کامیاب ہوئے اسکے ساتھ ہی ان میں شدت پسندی اور عدم رواداری بھی اسی تناسب سے بڑھتی رہی عمومی طورپر مختلف مکتبہ فکر کے علما ء کبھی بھی ایکدوسرے کو برداشت نہیں کرتے لیکن جہاں ان سب کے مفادات پر آنچ آنے کا خدشہ پیدا ہوجائے ،فوراََ سب ملکر’’ اسلام خطرے میں ہے‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے میدان میں کودتے ہیں ۔1918ء سے لیکر 1947ء تک کے عرصے میں چار مذہبی جماعتین جمعیت علمائے ہند،جماعت اسلامی ،مجلسِ احرار اور بعد میں مسلم لیگی لیڈرشپ کی ایما پر 1946ء میں جمعیت علمائے اسلام کی بنیادڈالی گئی۔ اول الذکر تینوں مقبول جماعتیں قائد اعظم ،مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی کھلم کھلا مخالفت کررہے تھے۔ جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے مفادات مسلم لیگ کے ساتھ تھی، یہی وجہ ہے کہ اس غیر معروف مذہبی جماعت کی قیادت مذہب کے تناظر میں تحریک پاکستان کو جائز قرار دیا۔جماعت اسلامی اور اس کے بانی امیر مولانا مودودی کی پاکستان اور قائد اعظم سے متعلق فرمودات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن اگست 1947ء کے بٹورے کے بعد یہی مودودی لاہور آکر مقیم ہوگئے اور پاکستان کو مذہبی ریاست بنانے میں سرگرمِ عمل ہوگئے 50ء کی دہائی میں احمدیوں کے قتلِ عام کے وقت سارے علما ء متفق ہو کر اس عمل کو جہاد قراردیا۔ لیکن حمود الرحمن کمیشن کو انٹرویودیتے ہوئے ان میں سے کسی نے بھی اسلامی ریاست کی کسی متفقہ تعریف اور آئیڈل اسلامی حکوت پر متفق نظر نہیں آئے ۔جونہی ملک میں نو سال کی طویل انتظار اور سیاسی بلیک میلنگ کے بعد1956ء کا آئین نافذ ہوا تو ایکدم سے اس آئین کو اسلامی آئین کا نام دیا گیا ۔1962ء میں ایوب خان نے صدارتی آئین نافذکرکے اس آئین میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سے لفظ اسلامی کو حذف کر کے ملک کا آئینی نام عوامی جمہوریہ پاکستان رکھا تو تب سارے علما دوبارہ متفق ہو کر میدان میں کود پڑے اور ہر طرف شور مچا کہ’’ اسلام خطرے میں ہے ‘‘۔ایوب خان جیسے ڈیکٹیٹر نے بھی علماء کے سامنے ہتھیار ڈال کرملک کانام دوبارہ اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا ۔ 1971ء کے بنگالی علیٰحدگی پسندتحریک کو کچلنے کے وقت دوبارہ اسی ہی نعرے کو لیکر جماعت اسلامی البدر اور الشمس کی مدد سے علیٰحدگی پسندبنگالیوں کے قتلِ عام کو بھی جہاد قراردیا۔ جب 1977ء میں بھٹو حکومت کے خلاف امریکی ڈالروں کے عوض PNAکی تحریک چلی تب بھی اپنے مفادات کے لئے علما ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے حالانکہ ان علماء کے درمیان اختلافات اور پی این اے تحریک کے اندرونی تضادات کو سمجھنے کے لئے مولانا کوثر نیازی کا یہ بیان ہی کافی ہے’’ ایک دفعہ پی این اے کے تضادات کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کی عرض سے میں نے ایک جلسہء عام میں چیلنج دیا کہ اگر یہ لوگ نظامِ مصطفی ﷺکے نفاذ میں اتنے ہی مخلص ہیں اور ان کا اتحاد بھی خلوصِ نیت پر مبنی ہے تو مولانا شاہ احمد نورانی مفتی محمود کے پیچھے نماز اداکرکے دکھائیں اورپھراسکی قضا بھی ادا نہ کریں اگرایسا ہوگا تو میں پیپلز پارٹی کیطرف سے اعلان کرتا ہوں کہ ہم پی این اے کے امیدواروں کے مقابلے میں اپنے تمام امیدوار بٹھائیں گے ۔

میرے اس چیلنج کا ہر دو جانب گہرا اثر مرتب ہو اپی این اے والے بھی جانتے تھے اور میں بھی کہ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کی گردن پر اگر تلوار بھی رکھ دیا جائے تو وہ مفتی محمود کی امامت میں کبھی نماز نہیں پڑھنگے ۔چنانچہ ملتان کے ابن قاسم باغ میں جلسہ عام کے دوران مغرب کی نماز مولانا مفتی محمود مولانا شاہ احمد نورانی کی اقتدا میں اد ا کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے میرا چیلنج قبول کر لیا ہے میں نے اسی شام ایک جلسے میں اپنا چیلنج دھرایا اور کہا ۔۔۔۔’’میں نے چیلج دیا تھا کہ شاہ احمد نورانی مفتی محمود کی امامت میں نماز اداکریں یہ نہیں کہا تھا کہ مفتی محمود شاہ احمد نورانی کی امامت میں نماز ادا کر کے دکھائیں اس پر پی این اے کوسانپ سونگھ گیا ‘‘۔(اور لائین کٹ گئی، مولانا کوثر نیازی صفحہ 34.35)

ہمارے علمائے کرام اور مولوی حضرات فقہی معاملات میں کبھی بھی متفق نہیں ہوتے بلکہ تضادات اور اختلافات کی نوعیت اتنی گہری ہے کہ ایکدوسرے کے پیچھے نماز اداکرنا تو دور کی بات ایکدوسرے کے مساجد میں بھی نہیں جاتے۔ لیکن دنیاوی اورخاض کر سیاسی واقتصادی مفادات ان سب کے ایکدوسرے سے جڑے ہوئے ہیں لہذا ان پر ذر ہ برابر بھی فرق آنے کا خدشہ نظر آئے تو سب متفق ہو کر اپنے پیروکاروں کو لیکر’’ اسلام خطرے میں ہے ‘‘کا رٹ لگاکر میدان میں نکل آتے ہیں ۔جب 80کی دہائی میں افعانستان کی سر زمین کو دو ہاتھیوں (امریکہ اور روس )نے میدان جنگ کیلئے چنا، تو ضیا الحق کے تعاون سے یہی مذہبی جماعتین اپنے کارکنون کو فوجی ٹریننگ دیتے ہوئے جہاد کانام دیکر افعانستان بھیجتے رہے ۔جنہوں نے پہلے افعانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اگلے مرحلے میں پاکستان کی جانب توجہ مرکوز کی اور ساٹھ ہزار پاکستانیوں کا خون بہایا گیا ۔ ملاکنڈ ڈویژن اور سوات وغیرہ میں طالبانائزیش تو مجلس عمل کی حکومت میں شروع ہوئی جس نے پورے سسٹم کو تباہ برباد کرکے رکھ دیا اب بھی مذہبی جماعتیں ان درندوں کی حمایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔دراصل جس مذہبی تحریک اور مذہبی سیاست کی بنیاد مہاتما گاندھی نے 1918ء میں اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے رکھا تھا اس کا خمیازہ آج بھی پاکستان ،بنگلہ دیش اور افعانستان سمیت پورا خطہ بھگت رہے ہیں۔

(ا س مضمون کی تیاری میں نامور اسکالر حمزہ علوی کی کتاب تخلیقِ پاکستان (تاریخی وسماجی مباحث)ترجمہ ڈاکٹر ریاض شیخ سے مدد لی گئی )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author