نیشنل بنک ریجنل آفس کی اسلام آباد منتقلی سے عوام مشکلات سے دوچار ہونگے

NBP

گلگت( فرمان کریم ) نیشنل بنک ریجنل آفس کی اسلام آباد منتقلی کو مختلف سیاسی ، مذہبی اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریجنل آفس کی اسلام آباد منتقلی سے گلگت بلتستان کے عوام مشکلات سے دوچار ہونگے۔

گلگت بلتستان اب بھی اور مستقبل میں بھی معشیت کے اعتبار سے اہم ہے۔ دیامربھاشا ڈیم ، بونجی ڈیم اور دیگر میگا پراجیکٹ کا لین دین نیشنل بنک کے ذریعے ہوتا ہے اور ریجنل آفس کی منتقلی سے گلگت بلتستان میں ان پراجیکٹس کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان فاروق میر کا کہنا ہے کہ نیشنل بنک نے 300 ملین روپے سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہ کی مد میں ادا کی گئی ہے اور گلگت بلتستان میں نیشنل بنک کے4 برانچوں میں ناہندہ گاں ہے۔ ریجنل آفس کی منتقلی سے ان ملازمین اور ناہندہ گاں سے ریکوری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ریجنل آفس کی منتقلی سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ نیشنل بنک کے ملازمین کو بھی دشواری کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔ آفس کی منتقلی سے نیشنل بنک کے ملازمین کو گلگت بلتستان سے دور اسلام آباد، کشمیر اور دیگر علاقوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ واضع رہے کہ وفاق میں نیشنل بنک کے اعلیٰ حکام گلگت میں ریجنل آفس کو ادارے پر زائد بوجھ سمجھ کر اسلام آباد منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments