فیسوں کی زبردستی وصولی اور فراہم کی جانے والی لیپ ٹاپس کی کم تعداد کے خلاف قراقرم یونیورسٹی کے طلبہ سراپا احتجاج

فیسوں کی زبردستی وصولی اور فراہم کی جانے والی لیپ ٹاپس کی کم تعداد کے خلاف قراقرم یونیورسٹی کے طلبہ سراپا احتجاج

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( سٹاف رپورٹر) قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کے طلبا وطالبات نے فیسوں کی وصولی اور لیپ ٹاپ کی تعداد میں کمی کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی طلبا وطالبات نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے۔جن پر یونیورسٹی کے طلبا وطالبات سے زبردستی فیسوں کی وصولی کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم رہنما توصیف حسین ، صوبائی ترجمان پاکستان مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اسلم پرویز اور دیگر نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یوینورسٹی کے طلباوطالبات کے لئے فیس معافی کے اعلان کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ طلباوطالبات سے زبردستی فیس وصول کررہا ہے۔ جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعلان کے مطابق طلبا وطالبات کو فیس معافی پر فوری طور پر عمل درآمد کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایسے بھی طلبا وطالبات موجود ہیں جو اپنی فیس ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ طلبا وطالبات کے مشکلات کو کم کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ فیس معافی پر عمل درآمد کرے۔ مقررین نے مذید کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 1200 سے زاہد طلبا وطالبات کی فہرست یونیورسٹی انتظامیہ کو ارسال کرنے کے باوجود انتظامیہ نے لیپ ٹاپ کی تعداد میں کمی کی ہے اور صرف 233 طلبا وطالبات کی فہرست منظور کر لیا ہے جو کہ نونہار طلبا وطالبات کے ساتھ مذاق ہے ۔ اور مستحق طلبا وطالبات کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ اس اقدام پر یونیورسٹی انتظامیہ کی مذمت کرتے ہیں۔ اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ فیسوں کی معافی اور لیپ ٹاپ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے بصورت دیگر مذید احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔