استور میں ریڈ فاونڈیشن سکول سسٹم میں سالانہ نتائج کا اعلان، مجموعی نتیجہ ۹۳ فیصد رہا

استور میں ریڈ فاونڈیشن سکول سسٹم میں سالانہ نتائج کا اعلان، مجموعی نتیجہ ۹۳ فیصد رہا

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

pic of read fundation school 1

استور(ابرارحُسین،عبدالوہاب) تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے بنیادی زینہ ہے۔تعلیم کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔اسلامی تعلیمات کا عملی مظاہرہ آج یورپ میں ملتا ہے ان اقوام نے آج پیغمبر اسلام کے مسلمانوں کو دئے ہوئے طور طریقوں پر تحقیق کر کے عمل کیا آج کا مسلمان نے پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو پس و پشت ڈالا ہے۔تعلیمی نظریات تین قسم کے ہیں اشتراکی نظریہ تعلیم جمعوری نظریہ تعلیم اوراسلامی نظریہ تعلیم ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر قانون مشتاق احمد ایڈوکیٹ نے استور میں ریڈ فاونڈیشن سکول سسٹم کی سالانہ رزلٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔اس موقعے پر انہوں نے مذید کہا کہ اشتراکی نظریہ تعلیم جس کی بنیاد کمیونیزم نے رکھی تھی آج دم توڑ چکی ہے اور جمیوری نظریہ تعلیم آج کی دنیا میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ یہ نظریہ تعلیم اللہ اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے مکمل بیگانگی ہے۔اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر جو نظریہ رکھا گیا ہے اس کی ضرورت آج کائنات میں سب کے لیئے ہے اور آنے والی نسلوں کی بہتری کی خاطر اس نظریہ پر ہم سبکو کاربندہونا چاہئے۔ مسلمانوں کی بے حسی اور بے عملی سے آج کا مغرب ترقی یافتہ بن گیا اور مسلمان محدوم ہوتے گئے اور آج بڑی تیزی کے ساتھ مغرب اسلام قبول کر رہا ہے۔ جس کے لئے پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر یقین رکھنے والوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کہیں انکا حشر بھی بے عملی اور بے حسی کی وجہ سے کمیونیزم جیسا نہ ہو۔پیغمبر اسلام نے تعلیم کے ہتھیار کے ساتھ ساتھ وقت کی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو بھی واضع کر دیا تھا۔اپنی تعلیم کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے مغرب کی ٹیکنالوجی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔بہتر تعلیم و تربیت کے لئے وقت کی ضرورت ہے کہ والدین اور اساتذہ ایک پیج پر ہوں خاص طور پر بچیوں کی تعلیم آج کے معاشرے کی اہم ضرورت ہیاور ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیمی میدان میں آگے لانا ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مظفر ریلے نے کہا کہ ہمارے کرپٹ نظام میں تعلیم کے لئے اربوں روپے کے نتائج سامنے نہیں ائینگے بلکہ تعلیمی نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے نظام حکومت کے ساتھ ساتھ محکمانہ نظام کی دیانتداری اور امانت داری اہمیت رکھتی ہے۔پہچھلے پانچ سالہ دور میں سب سے زیادہ تعلیم کے شعبے کے ساتھ ظلم ہوا انگھوٹھا چھاپ لوگوں کو اساتذہ تعینات کیا گیا ۔ہمیں تعلیم نظام کی بنیادوں کو ازم کے ساتھ درست کرنے کی ضرورت ہے۔آنے والے سیٹ اپ کو بے لگام نہ چھوڑا جائے احتساب کے عمل کو مثبت بنا کر اس نظام کو درست کیا جاسکتا ہے۔تقریب سے الخدمت فانڈیشن کے صدر حبیب اللہ،ایریا مینجر ریڈ فاونڈیشن مرزہ امان اور پرنسپل سکول عبدالواحد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں پرنسپل عبدالواحد لون نے سکول کا رزلٹ اعلان کیا ۔سکول کا مجموعی رزلٹ 93%رہا جسمیں 480طلباء میں سے 475طلباء نے امتحان دیا اور 442طلباء و طالبات کامیاب قرار پائے جبکہ کلاس 7thکے طالب علم نعیم اللہ والد رفیع اللہ آفریدی نے سکول میں ٹاپ کیا جنہوں نے 99%مارکس لئے اور اس بچے نے نرسری سے اب تک سالانہ اسکول میں ٹاپ کیا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔