انتخابی نشان

انتخابی نشان

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatاصحاب کبارؓ کی محفل جمی ہے مسجد نبوی کا کچا صحن ہے زمین کے اس ٹکڑے میں آسمان کے تارے جمع ہیں۔ ان کے دل حق شناس پرشان ہیں مسئلہ امت کے لئے ’’نمائندہ ‘‘ چنا ہے لیڈر کا انتخاب کرنا ہے ۔ خلیفہ اول ؒ نے عمرؓ کا نام منتخب کیا ہے وصیت کی ہے۔ یہی عمرؓ جس کے حق میں فخر موجوداتؓ کی دعا قبول ہوئی تھی ۔یہی عمرؓ جس کے اسلام نے کفر کو لزرہ برآندام کردیا ہے ۔ یہی عمرؓ جو ایمان لاتے ہی دارالرحم سے جلوس کی شکل میں سردار دوجہانؓ کی معیت میں مسجد حرام آتے ہیں ۔کفار دیکھ کر سہم جاتے ہیں کہ عمرؓ آرہا ہے ۔ یہی عمرؓ جس کے بارے نبی مہربان ؐ نے فرمایا تھا کہ جس راستے سے عمرؓ جائے وہاں سے شیطان بھاگتا ہے۔ اس عمرؓ کو امت کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے ۔ صحابہ ؓ کو آپؐ کی زات بابر کات میں کوئی کمزوری دیکھائی نہیں دیتا ۔ مگر چند صحابہ ؓ فرماتے ہیں ۔ عمرؓ جذباتی ہیں ۔ کہیں خلافت کے کام جذبات میں انجام نہ دے جو اب آتا ہے کہ خلافت کا بوجھ اس کی تند خوئی خوش خوئی میں بدل دے گا ۔ امت کا خوف اس کو عاجز کر دے گا ۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ دل حق شناش کے چنے ہوئے فرد نے اس کائنات میں انسان کا معیار وہاں تک پہنچا دیا جس سے آگے کوئی معیار نہیں ’’عدل فاروقیؓ‘‘ اصطلاح بن گیا ۔ غلام اپنی باری کی سواری کرنے لگے آقا مہار پکڑنے لگے ۔آٹے کی بوریاں خلیفہ خود کندھوں پہ اٹھانے لگا ۔ زلزلہ آنے پر زمین پر پاؤں مار کر رکنے کو کہا جانے لگا ۔ دریا کو خط لکھا جانے لگا ۔ یہ انتخاب ہے یہ انتخابی نشان ہے ۔ یہ امت کی نمائندگی کا معیار ہے ۔امت کا کوئی فرد خود نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا ۔ اپنے آپ کو منوانے کے لئے زمین وآسمان کے قلا بے نہیں ملاتا ۔ دن میں تارے نہیں دیکھتا۔ صلاحتیں اور خدمت خود بولتے ہیں ۔ حق سلیم نہ دھوکہ کھاتی ہے نہ اس کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کی بھول بھلیوں اور گہماگہمیوں میں ان سو چوں میں گم ہو تا ہوں ۔ لوگ اسناد پر تصدیق دینے کے لئے لاتے ہیں تصدیق دیتا ہوں صرف کاغذ کو درست کہتا ہوں ۔ انتخاب لڑنے والے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ اپنی سوچیں اس کو سنانے کو دل کر تا ہے مگر سنا نہیں سکتا ۔ گاؤں جاؤں دسیوں انتخاب لڑرہے ہیں ۔ جمہوریت کو زندہ باد ہو ۔ کہ سیاست گلی کوچوں تک آگئی ہے۔ بس بات اتنی سی ہے کہ نمائندہ ہونے کے لئے کو الیفیکشن کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ حالانکہ زندہ قومیں لیڈرشب کو سند کے طور پر مانتی ہیں ۔ مشہور فارمولا ہے کہ ہزار بھیڑیں ایک شیر کی کمانڈ میں بہتر ہیں اس سے کہ ہزار شیر ایک بھیڑ کی کمانڈ میں ہوں ۔ ایک انگریز محمد علی جوہر کے بارے میں لکھا ہے کہ جو ہر کا قلم ’’تلوار ‘‘اور زبان ’’برق‘‘ کی ہے لیڈر کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتا یہ ایک طلسماتی شخصیت ہوتی ہے یہی قرآن کی زبان میں رَجَلُُ رَشِید’ہ ہے اس کی صلاحیت ہی اس کا انتخابی نشان ہوتا ہے ۔اس کی دیانت ، اس کی خدمت ، اس کا ایثار و قربانی اس کا انکسار ، اس کا انتخابی نشان ہوتا ہے ۔ اس کے لئے کسی اور نشان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کا تعارف اس کا کردار ہوتا ہے ۔ اس کی کارکر دگی اعتماد اور خدمت ہوتا ہے وہ قوم کے لئے جئے گا اس مٹی پہ نثار ہوگا ۔ اس کو خود اس اکرام سے نوازا جائے گا۔ ملک خداداد میں بلدیاتی انتخابات بڑی اہمیت کے حامل ہیں اسی سے سیاست کی نسری تیار ہوئی ہے اسی سے سیاست کے کھیلاڑی اوگاہے جاتے ہیں ۔اس لئے اس انتخاب میں رشتوں ناتوں ، دوست داریوں ، تعلقات کا دخل نہ ہو ۔ ’’ووٹ ‘‘ قوم کی امانت ہے یہ کسی رشتہ دار یا دوست کو گفٹ کرنے کی چیزنہیں ۔پھر آگے یوم حساب بھی ہے۔ وہاں یہ ایک سوال یوں بھی ہوگا ۔ کہ تو نے موزون نمائندہ کیوں نہیں چنا ۔ یہ جمہوریت کی برکات ہیں کہ گھر گھر ہل چل ہے گہماگہمی ہے بیداری ہے۔عزم وہمت بیدار ہے ۔ سوچیں تبدیل ہورہی ہیں۔خدمت کی چمک نوجوانوں کی آنکھوں میں اترآئی ہے اللہ کر ے کہ یہ پاک سر زمین جمہوریت کی برکات سے مالا مال ہو ۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔