ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف چترال شہر کے مرد و خواتین سراپا احتجاج

ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف چترال شہر کے مرد و خواتین سراپا احتجاج

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Lediesچترال ( بشیر حسین آزاد ) ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف چترال شہر کے مرد و خواتین سراپا احتجاج ۔ خواتین نے جغور میں چترال پشاور روڈ بند کردی۔ تین دن کے اندر بجلی کا مسئلہ حل نہ کرنے کی صورت میں سنگین گراؤ جلاؤ کی دھمکی۔

چترال شہر میں گذشتہ دو ہفتے سے ناروا لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ جمعرات کے روز چترال شہر میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف وکلاء برادری اور بکر آباد و جغور خاص کی خواتین نے جلوس نکالا ۔ کالے جھنڈے لہرا کر ضلعی انتظامیہ ایم این اے، ایم پی ایز اور واپڈا کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے ۔

جغور میں خواتین نے میونسپل کمیٹی چوک میں کئی گھنٹوں تک چترال پشاور روڈ کو بند کیا، احتجاجی جلسہ منعقد کیا اور میگا فون پر حکومت،انتظامیہ چترال کے نمایندگان کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا۔

women raod block

احتجاجی خواتین نے ایک مرحلے میں پٹرول لے کر دنین واپڈا آفس کو جلانے کی کوشش کی ۔ تاہم ایس ایچ او تھانہ چترال سلطان بیگ کی مصالحتی کوشش کامیاب ہوئی اور وہ راستے سے واپس آئے ۔ احتجاج کے دوران ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئےاے این پی شعبہ خواتین چترال کی صدر خدیجہ سردار نے کہا کہ چترال میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ نمائندگی کا دعوی کرنے والے ایم این اے اور ایم پی ایز چترالی عوام کو بھول چکے ہیں ۔ اس لئے لوگ ، غربت ، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کےعذاب سہنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں شاید کوئی جگہ ایسا ہو جہاں اڑتالیس گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے بجلی دی جارہی ہو اور وہ بھی کم وولٹیج کی وجہ سے کسی کام کا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کیلئے کوئی طریقہ اور شیڈول ہونا چاہئے ۔ چترال کی خواتین اب حکومت کی طرف سے مزید ظلم و زیادتی برداشت نہیں کریں گی ۔ اور حکومتی جبر کا آ ہنی ہاتھوں سے متحد ہوکر جواب دیا جائے گا ۔

انہوں نے چترال کے مردوں کوشدید تنقید کا نشانہ بنا یاکہ وہ اپنے حقوق کیلئے حکومت پر دباؤ نہیں ڈالتے ۔ جس کی وجہ سے اُنہیں مجبورا باہر نکلنا پڑا ہے۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر چترال سعید قیصرانی کی شام تک بجلی کی بحالی کی یقین دھانی کے بعد مظاہرین خواتین نے مشروط طور پر روڈ کھول دی ۔

روڈ کی بندش کے دوران چترال پشاور اور اطراف کے علاقوں کو جانے والے مسافروں کو انتہائی مشکلات کا سامنا Lawerکرنا پڑا ۔

قبل ازین ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے وکلاء نے پی آئی اے چوک چترال میں احتجاجی جلسہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے تین دن کی ڈیڈ لائن دی ۔ اپنے خطاب میں عبد الولی خان ایڈوکیٹ ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے ناروا لوڈ شیڈنگ کو مرکزی و صوبائی حکومت ،چترال کے نمایندگان اور انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیا اور کہا کہ تین دن کے اندر اس کیلئے مناسب طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گھروں سے لے کر بازاروں تک بجلی کی وجہ سے عوام انتہائی پریشان ہیں لیکن متعلقہ اداروں کی کانوں تک جوں نہیں رینگتی ۔

wokala

وکلاء برادری ریلی کی صورت میں ڈی سی آفس گئے وہاں وفد کی صورت میں ڈی سی سے ملاقات کیں اور تین دن کے اندر اندر بجلی کا مسئلہ حل کرانے پر زور دیا گیا۔

DC

پاؤر کمیٹی چترال کے وفد نے بھی ڈی سی چترال سے بجلی کی سنگین صورت حال سے نمٹنے کے لئے ڈی سی چترال سے ملاقات کیں جسمیں چترال ٹاون کو چترال پاؤر ہاؤس سے بجلی کی فراہمی اور ڈیزل جنریٹر چالو کرکے رمضان المبارک میں کم وولٹیج اورلوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا۔

درین اثنا دروش کے عوام نے بھی لوڈ شیڈنگ کے سلسلے میں شدید احتجاج کرتے ہوئے چترال پشاور روڈ بند کردی ۔ جس کی وجہ سے مسافروں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایک مسافر وقار احمد نے فون پر بتایا کہ چترال پشاور مین روڈ عوام نے احتجاج کرکے جبکہ متبادل پرانا روڈ چترال سکاؤٹس نے بند کردیا ہے ۔ جس کی وجہ سے بچے بوڑھے ، بیمار اور خواتین مسافرایک مصیبت سے دوچار ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں پر جومشکلات ڈھائے جارہے ہیں اُس سے مایوسی اور احساس محرومی میں پل پل اضافہ ہورہا ہے ۔ لوگوں کا قوت برداشت اور غم و غصہ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ۔ کیا تبدیلی اسے کہا جاتا ہے؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔