جنگِ آزادی گلگت بلتستان یا آپریشن دتہ خیل؟

"گلگت ریبیلین” (بغاوتِ گلگت) کی اشاعت کے بعد بہت سے مقامی باشندے اور غیر مقامی لکھاریوں کی اکثریت گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کو میجر براؤن کے نام نہاد "آپریشن دتہ خیل” کا شاخسانہ قرار دینے لگی ہے۔ اس نقط نظر میں مقامی مزاحمت اور گلگت سکاؤٹس کی جدوجہد کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ رویہ مقامی لوگوں کی جدوجہدِ آزادی سے انکار کے مترادف ہے، اور ایسا بیانیہ درحقیقت تاریخ کا قتل ہے۔
لہٰذا آپریشن دتہ خیل کی حقیقت سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ میجر براؤن کون تھا، جسے اس کی وفات کے چودہ برس بعد 1998 میں جنگِ آزادی گلگت بلتستان کا ہیرو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا میجر براؤن نے اپنی زندگی میں گلگت کے واقعات پر کوئی کتاب شائع کروائی تھی؟ تیسرا یہ کہ جنگِ آزادی میں اس کا اصل کردار کیا تھا؟ اور چوتھا یہ کہ کیا اس وقت گلگت میں میجر براؤن اور کیپٹن میتھیسن کے علاوہ کوئی اور برطانوی افسر بھی تعینات تھا جنہوں نے یہ کارنامہ از خود سر انجام دیا یا یہ برطانوی حکومت کا کوئی سیکرٹ مشن تھا جس سے آپریشن دتہ خیل کا نام دیا گیا؟
ان سوالات کے جواب تلاش کرنے سے پہلے میجر براؤن کے پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں۔ ولیم براؤن نے 1941ء میں برٹش انڈیا کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا اور انہیں جنوبی وزیرستان میں تعینات کیا گیا۔ 1943ء کے ابتدائی دنوں میں ان کا تبادلہ گلگت ایجنسی میں ہوا، جہاں اس نے تین سال تک بطور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ، چلاس خدمات انجام دیں اور وہاں ایک پولو گراؤنڈ بھی تعمیر کروایا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پولو کا بڑا شوقین تھا اور شینا زبان بھی سیکھ چکا تھا۔ 1946ء میں اس سے "توچی سکاؤٹس” (شمالی وزیرستان) بھیج دیا گیا اور کچھ عرصے بعد بطور اسسٹنٹ کمانڈنٹ سکاؤٹس چترال تعینات کیا گیا۔
چترال میں مختصر قیام کے بعد اسے "گلگت سکاؤٹس” کی کمانڈ کی پیشکش ہوئی، جو اس نے قبول کر لی، اور اس کو قائم مقام میجر کا رینک دیا گیا۔ یوں میجر براؤن 29 جولائی 1947ء کو گلگت پہنچا۔ یہ گلگت کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، کیونکہ تاجِ برطانیہ نے گلگت لیز ایگریمنٹ (1935ء) کو ختم کر دیا اور یکم اگست 1947ء کو گلگت ایجنسی مہاراجا ہری سنگھ کو واپس کر دی، حالانکہ معاہدے کی مدت میں ابھی اڑتالیس برس باقی تھے۔ گلگت ایجنسی سے برطانیہ کا جھنڈا اتار کر مہاراجا کی ریاست کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔ یوں گلگت ایجنسی سے آخری برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ کرنل بیکن واپس چلا گیا، اور مہاراجہ کے حکم پر ریاستِ جموں و کشمیر کے نمائندے کی حیثیت سے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ نے بطور گورنر گلگت بلتستان کا چارج سنبھال لیا۔ اگست 1947ء سے جنوری 1948ء گلگت میں جو واقعات رونما ہوئے، ان کے نتیجے میں گلگت بلتستان سے ڈوگرہ راج کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ تاہم جنگِ آزادی میں میجر براؤن کا کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں ایک مکتبِ فکر اسے سازشی اور غدار قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا مکتبہ فکر نے اسے سرکاری سطح پر ہیرو بنا کر پیش کیا، اور اس عمل میں اس کی بیوہ مارگریٹ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
جب انقلابِ گلگت رونما ہو رہا تھا تو ولیم براؤن کی عمر صرف چوبیس سال تھی، اور اس نے اپنی پچیسویں سالگرہ گلگت ہی میں منائی۔
انقلاب کے بعد گلگت سے واپسی پر جولائی 1948ء میں اس نے فرنٹیئر کانسٹیبلری میں ملازمت اختیار کی، جو اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبہ (خیبر پختونخواہ) میں نارتھ وزیرستان پولیس فورس کہلاتی تھی۔ 1948ء سے 1958ء تک وہ پاکستان میں مختلف عہدوں پر کام کرتا رہا، پھر فرنٹیئر کانسٹیبلری چھوڑ کر تجارت کے شعبے سے وابستہ ہو گیا۔ 1957ء میں اس کی ملاقات مارگریٹ روز میری کوکسلے (Margaret Rosemary Cookslay) سے ہوئی، جو اس وقت کراچی میں برطانوی ہائی کمشنر کے دفتر میں کام کرتی تھیں، اور 1958ء میں دونوں کی شادی ہو گئی۔ انہی دنوں براؤن کو "ہمالیئن سوسائٹی” میں حکومتِ پاکستان کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ 1959ء میں وہ اپنے خاندان سمیت برطانیہ لوٹ گیا اور 1960ء میں اپنے گاؤں میں ایک لیوری یارڈ (Livery Yard) اور گھڑ سواری کا اسکول کھول لیا۔ اگلے چوبیس برس وہ وہیں مقیم رہا اور گھوڑوں کے استاد کے طور پر جانا جاتا رہا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برطانیہ واپسی سے لے کر اپنی وفات تک اس نے گلگت کے بارے میں کوئی کتاب شائع نہیں کروائی۔ وفات کے 14 برس بعد تک بھی جنگِ آزادی میں اس کا مبینہ کردار دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا۔ پھر اس کی بیوہ مارگریٹ نے یہ کردار دنیا کے سامنے پیش کیا۔
کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ میں سب مردوں کے بارے میں یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا، مگر مجھے یقینِ کامل ہے کہ برطانیہ اسکاٹ لینڈ کےایک چھوٹے سے گاؤں میں گھوڑوں کے استاد کے طور پر پہچانے جانے والے ولیم براؤن کو ان کی بیوہ نے بڑی ہوشیاری سے، حکومت پاکستان کے ساتھ مراسم استوار کر کے، ایک نئے بیانیے کے ساتھ جنگِ آزادی گلگت بلتستان کے اہم ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بدلے میں حکومتِ پاکستان نے گلگت سکاؤٹس کے اس سابق انگریز کمانڈنٹ کو ستارہ پاکستان سے نوازا۔ لیکن برطانوی حکومت نے نہ تو اسے کسی انعام سے نوازا اور نہ ہی اس کی پذیرائی کی؛ بلکہ وہ اسکاٹ لینڈ میں گھوڑوں کے ٹرینر کے طور پر گمنامی کی زندگی بسر کرتا رہا۔
چنانچہ یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ آخر آپریشن دتہ خیل کیا تھا جس کا انکشاف میجر براؤن نے خود اپنی زندگی میں نہیں کیا بلکہ ان کے وفات کے 14 سال بعد اس کی یادداشتوں کو شائع کرکے دنیا کے سامنے لایا گیا اور اچانک اس سے جنگِ آزادی گلگت بلتستان کا ہیرو بنایا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گلگت ریبیلین نامی کتاب میں "آپریشن دتہ خیل” کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے:
​”یہ ہمارا منصوبہ تھا کہ یہ آپریشن ‘دتہ خیل’ کہلائے گا، اور چلاس میں ‘جاک’ (Jock) کو جیسے ہی یہ کوڈ ورڈ (اشارہ) ملے گا، وہ اسے فوری طور پر نافذ کر دے گا۔
بغاوت کے لیے کسی حتمی دن کا تعین کرنا ابھی ممکن نہیں تھا۔ میں گلگت میں حالات کا غور سے جائزہ لیتا اور درست دن کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ہوتی؛ جیسے ہی میں یہ فیصلہ کرتا کہ اب وقت آ گیا ہے، تو اس دن کا نام ‘ڈی ڈے’ (D-Day) رکھا جاتا اور اس کے بعد کے دنوں کو ڈی پلس ون (D+1) وغیرہ کہا جاتا۔
گلگت میں ‘ڈی ڈے’ کے روز میں یہ اقدامات کرتا:
(1) گورنر اور اس کے عملے کو حفاظتی تحویل میں لے لیتا۔
(2) تمام ہندوؤں اور سکھوں کو پہرے میں ایک پناہ گزین کیمپ کے اندر رکھتا۔
(3) فون کے تمام رابطے کاٹ دیتا؛
(4) سول وائرلیس اسٹیشن پر قبضہ کر لیتا۔
(5) پورے صوبے میں اپنی خود کی انتظامیہ قائم کر لیتا۔
(6) صوبہ سرحد کے شہر پشاور میں موجود وزیرِ اعظم کو یہ پیغام بھیجتا کہ گلگت میں پاکستان کے حق میں بغاوت ہو چکی ہے، اور ان سے درخواست کرتا کہ وہ حکومتِ پاکستان کو اس کی اطلاع دیں؛
(7) نئے نظام کو چلانے اور برقرار رکھنے کے لیے جو بھی اقدامات ضروری سمجھتا، وہ کرتا۔”
​یہ تھا میجر براؤن کا "آپریشن دتہ خیل” کا منصوبہ، جس کے تحت وہ خود کو جنگِ آزادی گلگت بلتستان کا ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔

دوسری طرف تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے بارے میں جنگ آزادی گلگت بلتستان کا ایک اہم رہنما کرنل حسن خان سمیت دیگر لکھاریوں کا موقف یکسر مختلف ہے مثلا کرنل حسن خان اپنی کتاب "شمشیر سے زنجیر تک” میں لکھتے ہیں: "یکم نومبر 1947ء کو راقم نے گلگت آفیسر میس میں اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈ نکالا تو وہاں میجر براؤن بھی موجود تھا۔ شاہی گراؤنڈ کے ہجوم سے نکل کر ہم اسکاؤٹ لائنز میں آئے تو کرنل کمانڈنگ کے بنگلے میں تمام افسران اور گلگت کے معززین جمع تھے، جنہیں گویا خاموشی سے دعوت دے کر بلایا گیا تھا۔ یہی حال پریڈ گراؤنڈ کا بھی تھا، جو لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ مجلسِ مشاورت یا انقلابی کنونشن کا ہنگامی اجلاس عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے بلایا گیا ہے۔ کمرے میں داخل ہوا تو حاضرین میں میجر براؤن اور کیپٹن میتھیسن بھی مدعو تھے۔ میرے رفقاء اس کارِ خیر میں اپنا ہاتھ بٹانا چاہتے تھے اور اپنے مہرے آگے لانا چاہتے تھے۔ انگریز افسران اجلاس میں بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے اور باقی لوگ ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ راقم کو انقلاب کا سربراہ یا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ تعجب ہے کہ یہ بوجھ میرے کاندھوں پر ڈالتے وقت کسی نے مجھ سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اس مجلسِ مشاورت کا دل رکھنا میرا فرض تھا، اس لیے اجلاس کی برخاستگی کے فوراً بعد میں نے انگریزوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا، اور انہیں انہی اسکاؤٹ سرداروں کے ذریعے گرفتار کروا دیا جو انہیں ساتھ لائے تھے اور مجھ پر مشیر مسلط کرنا چاہتے تھے۔”
میجر براؤن کے بارے میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سرپرستِ اعلیٰ امان اللہ خان مرحوم اپنی کتاب "جہدِ مسلسل” کے صفحہ 286 پر لکھتے ہیں:
"میرے قیامِ برطانیہ کے اواخر میں اپنے ایک عزیز حشمت اللہ خان (جنہیں گلگت کے تاریخی واقعات لکھنے کا شوق ہے) کے کہنے پر میں نے میجر براؤن کو فون کر کے گلگت کے انقلاب سے متعلق دستاویزات مانگیں۔ کچھ تذبذب کے بعد انہوں نے دستاویزات دینے کی حامی بھر لی۔ مگر ان دنوں مجھے اپنے ساتھی مقبول بٹ شہید کی تہاڑ جیل میں پھانسی کا شدید دکھ تھا… اور دیگر مصروفیات کے باعث مجھے اسکاٹ لینڈ جا کر وہ دستاویزات لانے کی فرصت نہ ملی۔ بعد میں فرصت ملتے ہی میں نے میجر براؤن کا پتہ کیا تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ میجر صاحب کا حال ہی میں، 5 دسمبر 1984ء کوانتقال ہو چکا ہے۔ میں نے دستاویزات کے بارے میں پوچھا تو مسز براؤن نے کہا کہ ‘کچھ دستاویزات تو رائٹرز نیوز ایجنسی والے لے گئے ہیں اور باقی پاکستانی سفارت خانے کے پریس قونصلر مسٹر قطب الدین عزیز لے گئے ہیں، اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
میجر براؤن کی کتاب "دی گلگت ریبیلین” (The Gilgit Rebellion) ان کی وفات کے بہت سالوں بعد 1998ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے صفحہ 15 پر صاف لکھا ہے کہ گلگت سے واپسی پر، یعنی کم از کم 1948ء تک، ولیم براؤن کے پاس ایک ڈائری موجود تھی جو بعد میں کھو گئی (بظاہر چوری ہو گئی)۔ اس نے واقعات کو بیانیہ انداز میں لکھا تھا اور انہیں چھپوانے کا ارادہ بھی رکھتا تھا، مگر پھر یہ ارادہ ترک کر دیا، اور بعد میں اس کا اصل ٹائپ شدہ مسودہ بھی گم ہو گیا۔ چنانچہ کام کاربن کاپی سے چلایا گیا، جس کے مستند ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
اسی لیے اس یادداشت کے دیباچے میں یہ الفاظ ملتے ہیں:
"اشاعت کے لیے اس یادداشت کی تیاری میں بہت سے لوگوں نے مدد کی۔ ہم خصوصی طور پر گروپ کیپٹن شاہ خان کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے گلگت بلتستان میں 1947ء تا 1948ء کے واقعات سے متعلق اس یادداشت کے مواد کی تصدیق میں ہماری مدد کی۔”
اس یادداشت کی تدوین اور تصدیق کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو سچائی پردہ اخفا میں رکھی جائے، وہ زہریلی ہو جاتی ہے۔ نوآبادکاروں کے بیانیے پر لکھی گئی یہ کتاب اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلابِ گلگت کے بارے میں ولیم براؤن کی یادداشتیں اس کی وفات کے چودہ برس بعد اس کے دوستوں کے ایک وسیع حلقے نے ترتیب دیں، اور "بغاوتِ گلگت” کے ذریعے اس کا کردار گلگت سکاؤٹس کے کمانڈنٹ سے بڑھا کر لیجنڈ آف دتہ خیل اور جنگِ آزادی کے ایک ایسے ہیرو کا بنا دیا گیا جس نے مبینہ طور پر تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ ”
اس کتاب کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ اگر براؤن نہ ہوتا تو گلگت بلتستان بھارت کے ہاتھ چلا جاتا۔ یوں نوآبادیاتی پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے جنگِ آزادی کو "بغاوتِ گلگت” کا نام دے دیا گیا۔ اس کتاب میں براؤن "تقسیم کرو اور حکومت کرو” (Divide and Rule) کی پالیسی کا نہ صرف دفاع کرتا ہے بلکہ اسے وقت کی ضرورت بھی قرار دیتا ہے۔ دنیا کی دیگر نوآبادیات کی طرح گلگت بلتستان کی تاریخ بھی نوآبادیاتی بیانیے پر لکھوائی گئی، اور بعد میں سرکاری دانشوروں نے بغیر تحقیق کے اسی بیانیے کو حرفِ آخر مان کر آگے بڑھایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی لوگ 1857ء کی بغاوتِ ہند کو "جنگِ آزادی” کہتے ہیں، مگر گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کو "بغاوتِ گلگت” اور "آپریشن دتہ خیل” کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ بغاوتِ ہند کا انجام یہ ہوا کہ پورے ہندوستان پر برطانیہ کا براہِ راست قبضہ ہو گیا، بہادر شاہ ظفر کی مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا اور ہندوستان برطانیہ کی کالونی بن گیا۔ اس کے برعکس گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کے نتیجے میں ڈوگرہ قبضے کا خاتمہ ہوا۔ ڈوگروں نے 1846ء میں معاہدہ امرتسر کے تحت ریاستِ جموں و کشمیر کے قیام کے بعد گلگت بلتستان پر جارحیت شروع کی تھی اور کئی خونریز جنگوں کے بعد اس پر قبضہ کیا تھا، جبکہ ان سے پہلے رنجیت سنگھ کی سکھ افواج نے بلتستان اور استور پر قبضہ کیا تھا۔ مزید یہ کہ 26 اکتوبر 1947ء کو مہاراجا کے بھارت سے الحاق کے بعد گلگت بلتستان میں موجود مہاراجا کی افواج بھی بھارت کے ساتھ شامل ہو چکی تھیں۔ اس کے باوجود یہاں کے غیور عوام نے اپنا خطہ خود آزاد کرایا، اور تب سے آج تک یہ خطہ نہ بھارت کے زیرِ قبضہ ہے اور نہ ڈوگرہ افواج کے۔ یہ سب ساری دنیا جانتی ہے، مگر بعض حلقے اس خطے کی حقیقی تاریخ کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
لہٰذا جنگِ آزادی گلگت بلتستان کو "بغاوتِ گلگت” کہنا دراصل ہماری قوم کو اس کی اصل تاریخ سے ناآشنا رکھنے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
فرانز فینن کا قول بجا ہے:
"نوآبادیات میں ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ مقامی لوگوں کی تاریخ، ثقافت اور روایات کو مٹا دیا جائے۔”
ایف ایم خان اپنی کتاب "تاریخ گلگت بلتستان و چترال” کے صفحہ 68 پر لکھتے ہیں:
"جنگِ آزادی گلگت بلتستان میں میجر براؤن کی واحد کامیابی یہ تھی کہ اس نے انقلابِ گلگت کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کو ایک سازش کے ذریعے ختم کیا، اور گلگت بلتستان کو صوبہ سرحد کے ایک نائب تحصیلدار سردار محمد عالم کے حوالے کر کے آمرانہ حکومت قائم کر دی۔ یوں اس نے خطے میں نوآبادیاتی نظام کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا اور یہاں کے عوام کو ایک غلامانہ نظامِ حکومت کا پابند بنا دیا۔”
اس تناظر میں منیر نیازی کا یہ شعر بالکل برمحل ہے:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اس تاریخی پس منظر میں اگر گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کو میجر براؤن کی کتاب میں مذکور "آپریشن دتہ خیل” کا ثمر مان لیا جائے تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس خفیہ منصوبے کی اصل دستاویز کہاں ہے؟ آج تک کسی آنکھ نے اسے کیوں نہیں دیکھا؟
اس دستاویز کا ذکر پہلی بار میجر براؤن کی اسی کتاب میں ملتا ہے جو ان کی وفات کے چودہ برس بعد شائع ہوئی۔ قبل ازیں کسی مغربی دانشور یا مؤرخ نے اپنی کسی تصنیف میں اس خفیہ منصوبے کا حکم نامہ یا کوئی سرکاری دستاویز کا حوالہ نہیں دیا، اور نہ ہی کوئی مستند حوالہ دستیاب ہے جس سے اس منصوبے کی تصدیق ہو سکے ۔ یہ امر اس لیے بھی باعثِ حیرت ہے کہ دنیا بھر میں خفیہ دستاویزات چند دہائیوں بعد عام کر دی جاتی ہیں، اور برطانیہ میں تو اس کا قانونی ضابطہ نہایت واضح ہے۔
برطانیہ میں سرکاری ریکارڈ کو عام کرنے اور اس پر عائد رازداری کی پابندی ہٹانے کا عمل بنیادی طور پر پبلک ریکارڈز ایکٹ 1958ء اور فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ 2000ء کے تحت انجام پاتا ہے۔ یہ قوانین سرکاری ریکارڈ کی منتقلی، جانچ پڑتال اور درجہ بندی کے خاتمے کا باقاعدہ نظام وضع کرتے ہیں۔ پبلک ریکارڈز ایکٹ 1958ء کے تحت سرکاری محکموں پر لازم ہے کہ وہ اپنا ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے "دی نیشنل آرکائیوز” کے سپرد کریں۔ ابتدا میں یہ منتقلی تیس برس بعد ہوتی تھی، مگر "کانسٹی ٹیوشنل ریفارم اینڈ گورننس ایکٹ 2010ء” نے یہ مدت گھٹا دی، اور اب بیس برس بعد درجہ بند دستاویزات عوام کے سامنے آ جاتی ہیں۔
اس کے باوجود یکم نومبر 1947ء سے آج تک اناسی برس گزر چکے ہیں اور یہ مبینہ دستاویز کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی۔ کیا دنیا میں آپریشن دتہ خیل ہی واحد خفیہ دستاویز ہے جس کے افشا سے کوئی طوفان برپا ہو جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد بھی اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ یہ کہانی میجر براؤن کے ان گمنام دوستوں کی تراشیدہ معلوم ہوتی ہے جنہوں نے ان کی وفات کے چودہ برس بعد ان کی داستانِ حیات کو کتابی شکل دی اور انہیں گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کیا۔
اس کتاب کی اشاعت سے پہلے دنیا میں کوئی بھی میجر براؤن کے اس مبینہ کارنامے سے واقف نہ تھا۔ وہ اسکاٹ لینڈ میں گھوڑوں کے ایک ٹرینر کی حیثیت سے گمنامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ کتاب کے انگریزی دیباچے میں صاف درج ہے کہ ان کی اصل ڈائری کھو گئی تھی یا بظاہر کسی نے چرا لی تھی، اور ان کی وفات کے بعد دوستوں نے ان کی یادداشتیں ترتیب دیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان دوستوں میں سے کسی کا نام کتاب میں واضح طور پر مذکور نہیں۔
میجر براؤن نے اپنی زندگی میں کوئی کتاب شائع نہیں کروائی تھی؛ یہ کام ان کے بعد ان کے گمنام احباب کے حلقے اور ان کی اہلیہ مارگریٹ (جو ریٹائرڈ سفارت کار تھیں) نے انجام دیا۔ اس کہانی کو دوام بخشنے میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کا بھی اہم حصہ رہا، جس نے اپنی یادداشتوں میں سارا سہرا برطانوی راج کے سر باندھ دیا ان کی یادداشتیں بھی گلگت 1947 سے پہلے: برگیڈیئر گنسارا سنگھ جموال کی یادیں کے عنوان سے ان کی وفات کے بعد ہی شائع کی گئی ہے اور ریاست جموں کشمیر پر انڈیا کے سرکاری بیانیے کے تحت یہ کتاب شائع کی گئی ہے جو کہ قابل چیلنج ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ مہاراجا کے گورنر کی حیثیت سے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ گلگت بلتستان پر اپنی گرفت برقرار نہ رکھ سکا۔ یکم نومبر کو گلگت کے مقامی لوگوں کی تعاون سے گلگت سکاؤٹس نے اسے گرفتار کر کے آزادی کا اعلان کر دیا، اور جنگ کے بعد اسے قیدی کے طور پر بھارت کے حوالے کیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ اس نے اپنی شکست اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے تاریخی حقائق کو مسخ کر دیا اور ڈوگرہ راج کے خلاف مقامی مزاحمت کو سرے سے نظرانداز کیا، حالانکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ ڈوگرہ افواج کے خلاف گلگت بلتستان میں یہ کوئی پہلی مزاحمت نہ تھی۔ اس سے پہلے بلتستان کے لوگ سکھ فوج کے خلاف جنگ لڑ چکے تھے۔ گلگت میں گوہر امان نے کشمیر کی ڈوگرہ فوج کو کئی بار شکست دے کر علاقے سے نکال باہر کیا تھا۔ دیامر کے عوام نے بھی سخت مزاحمت کی تھی، اور ہنزہ و نگر پر کرنل ڈیورنڈ نے برطانوی حکومت کی اجازت سے جنگ مسلط کر کے ایک خونریز معرکے کے بعد قبضہ جمایا تھا۔ ایسے میں یہ دعویٰ کرنا کہ یکم نومبر 1947ء سے پہلے یہاں کے لوگوں میں ڈوگروں کے خلاف مزاحمت کا جذبہ موجود ہی نہ تھا، ایک سطحی اور بے بنیاد موقف ہے۔ لہذا جنگِ آزادی گلگت بلتستان کو اس کے تاریخی پس منظر سے کاٹ کر دیکھنا کسی طور درست نہیں۔
حیرت ہے کہ میجر براؤن اور دیگر نام نہاد سرکاری لکھاریوں میں سے، کسی نے اس تاریخی واقعے کو اس علاقے کی وسیع تاریخی مزاحمتی پس منظر میں دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انہوں نے اسے صرف 1947ء اور 1948ء کے دو برسوں تک محدود رکھا، جو کسی بھی تاریخی واقعے کو سمجھنے کے لیے ناکافی ہے۔
اس طرح اسکاٹ لینڈ میں گھوڑوں کے ایک ٹرینر میجر براؤن کو جنگِ آزادی گلگت بلتستان کا ہیرو بنانے میں اس کی بیوہ مارگریٹ کے ساتھ سرکاری دانشوروں نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ "گلگت ریبیلین” میں مقامی ہیروز کی جگہ میجر براؤن کو اصل ہیرو ٹھہرایا گیا، اور اس کے صلے میں حکومتِ پاکستان نے اسے اعزاز سے نوازا۔ حالانکہ اس اعزاز کے اصل حق دار گلگت بلتستان کے وہ غیور مقامی لوگ تھے جنہوں نے کسی بیرونی فوجی مدد کے بغیر اپنا خطہ خود آزاد کرایا۔ اس بات کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ مہاراجا ہری سنگھ نے 26 اکتوبر کو ریاستِ جموں و کشمیر کا بھارت سے الحاق کر دیا تھا، جس کی بنیاد پر بھارت آج بھی گلگت بلتستان سمیت پوری ریاست پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔
بعض ناقدین کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی سے ریاستِ کشمیر کو نقصان پہنچا۔ یہ دلیل بھی بے بنیاد اور تاریخ سے نابلد ہونے کا نتیجہ ہے۔ جنرل فرمان کی کتاب "دی رایڈرز ان کشمیر” نامی کتاب میں صاف الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ 22 اکتوبر کو قبائلی لشکر کشی کے بعد مہاراجہ کشمیر کی شاہی ریاستِ جموں و کشمیر عملاً بکھر چکی تھی، 24 اکتوبر 1947ء موجودہ پاکستانی زیرِ انتظام ریاست "آزاد جموں و کشمیر” وجود میں آ چکی تھی، اور 26 اکتوبر 1947ء کو مہاراجا الحاق نامے پر دستخط کر چکے تھے اگرچہ اس کی قانونی حیثیت قابل چیلنج ہے۔ بہرحال اس کے باوجود بھی یہ کہنا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے ریاستِ کشمیر کی وحدت کو نقصان پہنچایا، ایک لغو بات ہے۔
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی مسئلہ کشمیر ہی کے تناظر میں رونما ہوئی۔ یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔ پروفیسر احمد حسن دانی اپنی کتاب ہسٹری آف ناردرن ایریاز آف پاکستان میں لکھتے ہیں کہ
"گلگت کی آزادی کی جدوجہد ایک خودمختار عمل تھا۔ اگرچہ اس پر اس وقت کے جنوبی ایشیائی سیاسی رجحانات کے اثرات تھے، تاہم یہ جدوجہد گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں اور وہاں متعین ریاستِ جموں و کشمیر کے فوجیوں (جن میں کچھ مسلم افسران بھی شامل تھے) نے الگ تھلگ اور تقریباً خودمختارانہ طور پر لڑی۔ گلگت سکاؤٹس نے، جن کی قیادت بنیادی طور پر چند مسلم افسران کے ہاتھ میں تھی، رہنمائی کا کردار ادا کیا، پھر بھی یہ جدوجہد ‘کشمیر مہم’ کا حصہ نہیں تھی، جیسا کہ پاکستانی اور ہندوستانی، دونوں طرف کے مؤرخین عموماً پیش کرتے ہیں۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد شجاع پاشا نے بھی کشمیر پر بعنوان "تنازعہ کشمیر ” ایک کتاب لکھی ہے، مگر اس میں بھی آپریشن دتہ خیل کے اس نام نہاد منصوبے کی کسی دستاویز یا حوالے کا ذکر نہیں ملتا بلکہ وہ کرنل حسن خان اور اس کے ساتھیوں کو جنگ آزادی گلگت بلتستان کا کریڈٹ دیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ 79 سال گزرنے کے باجود بھی آپریشن دتہ خیل کا فوجی منصوبے کے متعلق کوئی مستند ثبوت دنیا کے سامنے نہیں آیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ برطانوی حکام نے یہ سازش اس لیے رچی کیونکہ وہ ایک بفر ریاست بنانا چاہتے تھے، اگر اس دلیل کو درست مانا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کو اس علاقے کی ضرورت تھی تو انہوں نے گلگت لیز ایگریمنٹ ختم کرکے گلگت ایجنسی مہاراجا کو حوالہ ہی کیوں کیا؟ حالانکہ وہ چاہتے تو گلگت لیز ایگریمنٹ کے تحت مزید 48 سال گلگت ایجنسی کو آسانی سے اپنے فوجی اور انتظامی کنٹرول میں رکھ سکتے تھے جس کے لئے ان کے پاس بھرپور قانونی جواز بھی حاصل تھا۔ لہٰذا یہ دلیل سطحی اور بے بنیاد ہے کہ برطانیہ نے میجر براؤن کے ذریعے سازش کی۔
اصل بات یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تاج برطانیہ معاشی طور پر قلاش ہو گئی تھی اور سمندر پار کالونیوں پر قبضہ برقرار رکھنا عملا ناممکن تھا اس لیے ان کے پاس اپنے ملک واپس جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تاریخی
حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ صدیوں سے جنگجو رہے ہیں ، انہوں نے اپنی قومی بقا اور آزادی کے لیے رنجیت سنگھ کے خالصہ فوجیوں کے بعد ڈوگرہ افواج کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کیا تھا ریاست ہنزہ اینڈ نگر کی طرف سے کرنل ڈیورنڈ کو بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا اعتراف انہوں نے خود اپنی تصنیف "دی میکنگ آف اے فرنٹیئر” میں کیا ہے جبکہ مقامی لوگوں کی شجاعت کا ذکر ای ایف نائٹ نے اپنی کتاب "جہاں تین سلطنتیں ملتی ہیں” میں بھی تفصیل سے بیان کیا ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نےبیرونی قبضے اور غلامی کو تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ 22 اکتوبر 1947ء کو جب ریاست جموں و کشمیر پر قبائلی لشکر کشی شروع ہوئی تو مہاراجہ کے افواج ان کے خلاف جنگ میں مصروف ہوئی عین اس وقت گلگت بلتستان میں مہاراجہ کے محض چند سو فوجی تعینات تھے، تاج برطانیہ نے گلگت لیز ایگریمنٹ ختم کیا تو گلگت ایجنسی میں قائم برطانوی فوجی اور سول ایڈمنسٹریشن یکسر ختم ہوا لہذا موقع سے فائدہ اٹھا کر یہاں کے لوگوں نے ڈوگرہ فوج کو نکال باہر کیا اور اپنے خطے کو بیرونی قبضہ سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے لیکن سیاسی طور پر غیر متحرک ہونے کی وجہ سے آزادی کے ثمرات سے محروم رہے جو کہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ ان تاریخی حقائق کے باوجود بھی اگر گلگت بلتستان یا پاکستان میں کسی صاحب علم کے پاس اس نام نہاد آپریشن دتہ خیل کی کوئی مستند ثبوت یا ڈی کلاسیفائیڈ ریکارڈ موجود ہو تو براہِ کرم ہمارے ساتھ شیئر کریں، تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو سکے۔

آپ کی رائے

comments

ایڈوکیٹ اشفاق

اشفاق احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے گلگت بلتستان کی تاریخ، ثقافت اور قدیم ورثے پر تحقیق و تحریر سے وابستہ ہیں۔ وہ نہ صرف خطے کے تاریخی پس منظر کو دستاویزی بنیادوں پر اجاگر کرتے ہیں بلکہ سیاسی و قانونی محرومیوں پر بھی مدلل انداز میں قلم اٹھاتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button