پرکوسپ گوزگول: سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تباہ، عوام کو شدید خطرات
قدرتی آفات، خواہ سیلاب ہو یا زلزلہ، کے موقع پر عوام کو ریلیف فراہم کرنا کسی بھی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ تاہم، اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو سیاسی عہدیدار، سنٹرز اور پارٹی رہنما محض زبانی جمع خرچ اور ہمدردی کے نعروں تک محدود رہتے ہیں۔ جب کوئی کام ہو جائے تو کریڈٹ لینے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے، لیکن جب مسائل حل نہ ہوں تو تمام ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر پلہ جھاڑ لیا جاتا ہے۔ پرکوسپ کے علاقے میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد بھی یہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔
3 اگست 2026 کو پرکوسپ گوزگول میں آنے والے اونچے درجے کے سیلاب نے پورے علاقے کو شدید متاثر کیا۔ سیلاب کا وہاڑ اس قدر تیز تھا کہ اس کے راستے میں آنے والے تمام عارضی و اہم بنیادی سہولیات ملیا میٹ ہو گئیں۔ سیلابی ریلہ نکل جانے کے بعد اب یہ علاقہ اپنے پیچھے تباہی کے اثرات اور مقامی آبادی بالخصوص طلبہ کے لیے سخت مشکلات چھوڑ گیا ہے۔
سیلاب کے باعث نالے پر موجود واحد گزرگاہ تباہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے اسکول جانے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کو انتہائی خطرناک حالات کا سامنا ہے- گاؤں کےمعصوم بچے روزانہ نالہ عبور کرنے پر مجبور ہیں اور ذرا سی بے احتیاطی یا کی صورت میں یہ صورتحال کسی بھی وقت کسی بڑے اور ناخوشگوار حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
سیلاب کے بعد عوام نے محض زبانی مطالبات پر اتفا نہیں کیا بلکہ باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار اختیار کیاہے-
اہالیانِ پرکوسپ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر (AC) کے دفتر میں ایک تفصیلی درخواست جمع کرائی گئی تھی، جس میں نالے پر عارضی پل یا محفوظ گزرگاہ کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ بچوں اور عام شہریوں کی آمدورفت محفوظ ہو سکے-
تمام تر کوششوں کے باوجود، انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس درخواست پر کوئی عمل درآمد (Action) نہیں ہوا ہاں اے سی صاحب کے حکم پر پٹواری نے اپنی رپورٹ متعلقہ دفتر میں جمع کرادی ہے-
اہالیانِ علاقہ اور سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے اور اسکول جانے والے بچوں کی حفاظت کے لیے نالے پر فوری طور پر عارضی پل فراہم کیا جائے اسسٹنٹ کمشنر آفس میں جمع شدہ درخواست پر فوری پیشرفت کی جائے اور متعلقہ محکموں کو متحرک کیا جائے۔
اگر انتظامیہ اور نمائندوں نے اب بھی اس اہم مسئلے پر توجہ نہ دی، تو کسی بھی متوقع حادثے کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی




