ہنزہ میں پیپلز پارٹی کو شکست فاش

ہنزہ میں پیپلز پارٹی کو شکست فاش

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شرافت علی میر‌‍‍

وہ کام جو جنرل ضیاء  گیارہ سال میں نہیں کرسکے وہ جناب زرداری اور مہدی شاہ نے 5 سال میں کرکے دکھایا پیپلز پارٹی جو ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت تھی گلگت بلتستان میں الیکشن کے بعد اب پیپلزپارٹی سندھ تک محدود ہوکررےگئی ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کو بدترین شکست ہوگئی ۔

 ہنزہ حلقہ 6 میں پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پہ آگئی ہنزہ میں خاص کر گوجال میں پیپلز پارٹی کو جو ووٹ ملا وہ پیپلز پارٹی کو نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار جناب ظفراقبال کے ذاتی ووٹ ہے جو ان کے رشتہ داروں ، یار دوستوں اور چاہنے والوں نے ان کو دیا ہے باقی پیپلز پارٹی کی پوزشن وہ ہے جو سنٹرل ہنزہ میں ہے ۔

 پچھلے الیکشن میں جب مرکز میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تب ہنزہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار جناب وزیر بیگ نے گوجال میں ایک کارڈ کھیلا تھا کہ اگر وہ جیت گيا تو گوجال کو ایک الگ حلقہ دے گا اور پھر گوجال کو سب ڈویژن  کا درجہ بھی دیا جائگا ۔ تب گوجال کے عوام نے اپنے اپنے پارٹیوں کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ اس نعرہ کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے امیدوار جناب وزیر بیگ کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن افسوس صد افسوس کی پانچ سال گزرنے کے باوجود انھون نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور جیتنے کے بعد اپنے عوام کو تنہا چھوڈا خاص کر سانحہ عطاآباد کے بعد گوجال کے عوام پہ کیا بیتی یہ سب کو پتہ ہے ۔

وزیر بیگ کو گوجال کے عوام نے منتخب کیا وہ اسپکر بن گیا ان کو پروٹوکول مل گيا لگژری گاڈی اور تمام آسائشے ملنے کے بعد شاہد وہ اپنے وعدے بھول گۓ۔ وہ بھول گۓ کہ ان کو عوام نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے اور پانچ سال کے بعد دوبارہ ان کو عوام کے پاس جانا ہے ان کو ایسا لگا جیسے وہ ایف۔پی۔ایس۔سی کے امتحان پاس کرکے آیا ہے ۔

حالیہ الیکشن کے دوران پیپلز پارٹی کے پاس کوئی منشور بھی نہیں تھا اور بغیر منشور کے وہ روایتی نعروں اور دعووں کے وہ عوام کے پاس گۓ۔

ذولفقار علی بھٹو کے احسانات اور میر جمال خان کے ظلم کی داستان کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے اپنے تقریر کا حصہ بنایا ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ نوجوان جس کی عمر 18 سال سے لیکر 35 سال تک ہے انھوں نے نہ تو میر جمال خان اور میر نظیم خان کے ظلم کو دیکھا ہے اور نہ ہی بھٹو کے احسانات کو دیکھا ہے ۔وہ آج کل کے جو مشکلات اور چیلنجز ہے ان کا شکار ہے ان کو اس کہانی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔

یہ بات تو سچ ہے کہ ہم غلام تھے اور ایک ہنزہ والے کے غلام تھےاور ذولفقار علی بھٹو نے ہمیں آزادی دلائی لیکن پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ہنزہ نگر کے ڈسٹرکٹ آفس میں محمد علی اختر اور مرزا حسین نے اپنے لوگوں کو ملازمت دلایا اور یوں ڈسٹرکٹ کے تمام معاملات کو اس وقت نگر والے چلا رہے ہے یوں سمجھو کہ میر کی غلامی سے نکلنے کے بعد ہنزہ والے نگر والوں کی غلامی کررہے ہے ۔ وزیر بیگ اور شاہ صاحب نے اپنی نا اہلی، اپنی ناکامی ، اپنی سستی ، اپنی کمزوری اور اپنی بے بسی کو میرٹ کا نام دیا ۔

 آفرین ہے محمد علی اختر اور میرزا حسین کو کہ انھوں نے اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کو روزگار بھی دے دیا۔ ردیا کے اس پار 24 گھنٹے بجلی ہے ان کے ہر گاوں تک ٹرک ایبل روڈ ہے صاف پانی ہر جگہ ہے لیکن ہنزہ میں ایسا نہیں ہے۔ ہاں البتہ پرائمیری سکول، فرسٹ ایڈ پوسٹ اور لینک روڈ انھوں نے اپنے دور میں شروع کیا ہے جن پہ کام جاری ہے۔.

اور گزشتہ پانچ سالوں میں عوام ہنزہ اور بالخصوص گوجال کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ نہ تو جمال خان نے کیا اور نہ ہی نظیم خان نے کیا وہ تو جناب وزیر خان اور مہدی خان اور پیپلز پارٹی کے خان تھے جن کے ہوتے ہوۓ یہ سب کچھ ہوگیا۔

پیپلز پارٹی نے اپنا وعدہ تو پورا نہیں کیا البتہ ان کی حکومت میں ہنزہ گوجال کے عوام کے اوپر گولی چلائی گئی اور بھرے بازار میں باپ بیٹا کو قتل کیا گیا اور پھر مقدمہ بھی متاثرین کے خلاف بنایا گیا اور آج تک  ہنزہ کے بیشتر نوجوان  یا توجیلوں میں بند ہے یا پھرانسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات کا سامنا کررہے ہے۔ جس نے قتل کیا تھا ان کو ترقی مل گئی۔اور انعام کے طور پر ان کے بیٹے کو بھی پولیس میں ملازمت مل گئی۔

 اس کے بدلےمتاثرین گوجال کو لاٹھی،شیلنگ،گرفتاریاں ، ایف،آئی۔آر اور اے۔ٹے۔اے جیسے  مقدمات کےتحفے ملے۔ اس تمام صورتحال میں ہمارے نمائندوں نے اپنے عوام کو تنہا چھوڈا۔

 ایف۔آئی ۔آر وزیر بیگ صاحب یا شاہ صاحب نے نہیں کیا تھا لیکن انھوں نے اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کیا کہ ہنزہ گوجال میں احتجاج کرنے والے لوگ ملک دشمن ہے۔ سلام ہو دیامر کے نمائندہ کو کہ اس نے اس قرارداد کے خلاف آواز بلند کیا اور کہا کہ متاثرین احتجاج نہیں کرینگے تو کیا کرینگے احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے۔

سانحہ عطاآباد کے بعد گوجال کو آفت زدہ قرار دیا گیا۔جس کا باقاعدہ نوٹفکیشن بھی جاری ہوا۔ لیکن اس نوٹفیکیشن پہ عملدرآمد نہیں ہوسکا یہ سراسرجھوٹ اور  متاثرین کے ساتھ مذاق تھا عوام گوجال کے ساتھ کیونکہ اس نوٹیفکشن کے بعد گوجال کے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا جن لوگوں نے چھوٹے چھوٹے قرضہ لیا تھا ان کو جیل کی ہوا کھانی پڑی جن لوگوں کا گھر پانی میں ڈوب گیا تھا ان سے بجلی کا بل زبردستی اصول کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے اپنے تقریر میں چائنا ریلیف کی بات کی لیکن یہ نہیں بتایا اس ریلیف سے جیالوں ، ٹھیکداروں ، اور بیوروکریٹس کو کتنا فائدہ ہوا خاص کر کوئلہ اور تیل جو گوجال کے عوام کے نام پہ آیا تھا کہاں گيا کس کو فائدہ ہوا اور وہ وعدہ کہ تیل کے پیسے سے عوام گوجال کے لیے اسپشل کشتی لایا جائگا جو سردیوں میں بھی چلے گا آج پانچ سال گزرنے کے بعد بھی وہ کشتی نہیں آيا ہے ۔ اور کتنا ٹرک آٹا دریا برد کیا گیا اس کا بھی ذکر نہیں کیا۔

الیکشن کمپین کے لیے انھوں نے اسی کائرہ کا انتخاب کیا۔جن کی وجہ سے آج بھی پیپلز پارٹی والوں کو طعنہ مل رہا ہے کیونکہ سانحہ عطا آباد کے فورآ بعد قمرزمان کائرہ نے وعدہ کیا تھا کہ پندرہ دن کے اندر عطا آباد جھیل سے پانی کے اخراج کو ممکن بنایا جائیگا۔ اور آئین آباد کو نہیں ڈوبنے دینگے۔ اور اس نے گلمت میں بڑی بے شرمی سے تقریر کے ساتھ ساتھ سیلفی بھی کیا عوام یہ توقع کررہے تھےکہ کائرہ عوام سے معافی ماننگے گے اور اس جھوٹ کی وضاحت کرئنگے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

حالیہ الیکشن میں مقابلہ بابا جان اور پی ۔ٹی ۔ آئی کا ہونا ہے لیکن عین وقت پر میر غضنفر نے ڈسٹرکٹ کا کارڑ کھیلا جس کی وجہ سے ہنزہ کے عوام کو ایک بار پھر غضنفر کو ووٹ دینا پڑا۔یاد رہے یہ ووٹ انھوں نے غضنفر کو نہیں دیا ہے بلکہ ڈسٹرک کو دیا ہے۔

   آج کے اس جدید دور میں صرف جۓ بھٹو سے کام نہیں چلے گا۔ان کو اپنے غلطی سے سیکھنا ہوگا۔ اپنے ناراض کارکنان کی باتیں ان کو سننا پڑے گا۔اور اس پانچ سال کے دوران اپنے لیے آئندہ الیکشن کے لیے لائحہ عمل بنانا ہوگا اور جہاں ہنزہ اور علاقے کی مفاد کی بات ہو وہاں ان کو ن لیگ کے ساتھ دینا ہوگا اور جہاں کہیں سستی یا زیادتی کی بات ہو تو پھر ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور زبانی دعووں ، وعدوں اور روایتی تقریروں کی بجاۓ عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔آج بھٹو زندہ نہیں ہے لیکن بلاول کے بات سچ ثابت ہوا کہ جمہوریت سب سے اچھا انتقام ہے اور ہنزہ کے عوام نے حالیہ الیکشن میں ووٹ کے زریعے اپنا انتقام لے لیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔