عورت اور آزادی

عورت اور آزادی

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ساجدہ بی بی

کہنے کو تو سب کہتے ہیں کہ عورت آزاد ہے مگر بات جب آزادی کو زندگی کا حصّہ بنانے کی ہو توعورت کی ذات پر طرح طرح کی اُنگلیاں 

اُٹھنے لگتی ہیں۔کبھی اسے چاردیواری میں قید رکھا جاتا ہے تو کبھی جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔کون کہتا ہے عورت آزاد ہے! عورت وہ واحد مخلوق ہے جس کو ماں کے پیٹ سے ہی غلامی کی زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ پیدا ہونے سے پہلے ہی اُس کی زندگی کے فیصلے لیے جاتے ہیں۔عورت کی غلامی اور مظلومی کی وجہ سماج کے بنائے ہوئے طور طریقے اور پِدرشاہی نظام کے قوانین ہیں۔مردانہ سماج نے بڑی سوچ و بچار سے عورت کو اُس کے حقوق سے بے خبر رکھا ہے۔عورت کی حیثیت کو معاشرے میں اِس قدر محدود کر دیا ہے کہ خود عورت کو یہ لگتا ہے کہ جو بھی حق سماج میں اُسے مل رہا ہے وہ اُسی کے لائق ہے، مزید وہ اپنے حقوق کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہیں سمجھتی۔ یہی وجہ ہے کہ عورت سماج کے بنائے ہوئے زنجیروں کو اپنا مقدر سمجھ بیٹھتی ہے اور انہی زنجیروں میں جکڑی خود کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔یہاں تک کہ عورت خود ہی ان زنجیروں کی دل سے قدر کرتی ہے اور سجا کے رکھتی ہے ۔ایسی حالات میں اگر کوئی عورت کی آزادی کی بات کرے تو سب سے پہلے عورت ہی اِس بات سے انکار کرتی ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ آزادی کا مطلب محص کپڑے اپنی مرضی سے پہننا یا پھر اپنی مرضی سے شادی کرنا ہے، مگر عورت کی آزادی کا مطلب صرف کپڑوں اور شادی تک محدود نہیں ہے بلکہ عورت کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرد کے برابر سمجھی جائے، اُسے بولنے کا حق ہو، اپنی زندگی کے فیصلے لینے کا حق ہو،زندگی کا ہر وہ پہلو جہاں عورت کو مرد سے کم درجہ دیا جاتا ہے وہاں برابری ہو۔

سماجی طور طریقوں نے عورت کی سوچ کو اِس قدر محدود کر دیا ہے کہ عورت کو اپنی آزادی بھی ایک سماج دشمن سوچ لگتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عورت اپنے اُپر ہونے والی ظلم کو ظلم نہیں سمجھتی بلکہ وہ اُسے اپنی ذمہ داری سمجھ کے تسلیم کرلیتی ہے۔اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیاں یہ سوچ کر برداشت کر لیتی ہے کہ شاید کوئی دن آئے گا جب یہ اذیت اُسے نہیں ملنا ختم ہو گی۔مگر اُسے یہ نہیں معلوم کہ مردانہ سماج کے درندے ہر سمت سے اُسے نوچ کھانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ وہ آسرا بھی اُنھی سے کر رہی ہے جنہوں نے اُسے غلامی کی زندگی جینے پر مجبور کر رکھا ہے۔بھلا آقا اپنے غلام کی آزادی کیوں چاہے گا؟اور نہ ہی کوئی ظالم ظلم کے خلاف آواز اُٹھائے گا۔ اِسی لئے سماج کے عظیم مردوں نے عورت کو ہر طرح سے کمزور کرنے اور اپنے تابع بنانے کے لئے کبھی مذہب کا سہارا لیا تو کبھی سیاست کا استعمال کیا۔ کبھی محبت اور احساسات کے نازک رشتوں سے جوڑ کرعورت کو کمزور کر دیا گیا تو کبھی اُس کے پاؤں میں جنت رکھ کر اُس کے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا۔ان تمام رشتوں سے بُنے زنجیروں کے اس جال میں عورت خود کو بہت محفوظ پاتی ہے اور اس قدر محو رہتی ہے کہ اُسے اپنے آپ کی فکر ہی نہیں رہتی۔

بظاہر تو یہ سماج کے اصول و ضوابط ہیں جو محص عورت کے لئے بنائے گئے ہیں۔ لیکن یہ استحصال کی ایک ایسی شکل ہے جو نہ ظالم کو ظلم سے روکتی ہے اور نہ مظلوم کوظلم کا احساس دلاتی ہے۔یہاں ظالم سے ذیادہ مظلوم گناہ گار ہے کیوں کہ وہ ظلم سہتا ہے اور ظالم کی مدد کرتا ہے ظلم کو جاری رکھنے میں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔