میں بہت خوبصورت ہوں!

میں بہت خوبصورت ہوں!

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatمیری واجبی صورت تھی سیاہی مائل چہرہ،ناک نقشہ اتنا قابل توجہ نہیں۔ذرا تیڑھی سی ناک،سر بڑا،بکھرے گرد الود بال۔۔۔استاد سکول میں مارتا تب ناخن اور دانتوں کو صفائی کی فکر ہوئی۔جوتے بھی پالش کو ترستے ۔۔عام سے کپڑے ہوتے۔غسل بھی بڑی مجبوری اور وقفے سے کرتے۔بدن سے کوئی خوشبو بھی نہ آتی۔کھبی کسی بڑے کاسپرے چوری چھپکے سے بدن پہ چھڑکتے تو اس کا اثر عرصے تک رہتا۔۔۔مگر ماں’’چاند‘‘ کہتی ۔باپ ’’پھول‘‘کہتا۔گاؤں کے بوڑھے بوڑھیاں تعریف کرکے نہ تھکتے۔بہن کہتی۔۔’’تم میرے لئے کھلی کائنات ہو۔بڑا بھائی کہتا تیرے حسن کے وارے۔۔۔۔استاد کہتا تم’’شیر‘‘ہو،گاؤں کی ’’بچیاں ‘‘کہتی۔۔۔۔کہ میرے والدین کتنے خوش قسمت ہیں کہ روز میرے چہرے کو تھکتے ہیں‘‘مجھے پتہ تو نہیں تھا کہ یہ خوبصورتی کیا ہوتی ہے۔میں نے اپنی تعریف ہی سنی۔کھبی شیشے میں اپنا ناک نقشہ نہیں دیکھا نہ اس کی پرواہ کی۔البتہ اتنا مجھے یاد ہے کہ میں’’ماں‘‘کے پیر چوما کرتا اس کی گود میں سر رکھ کر اس کی گودی کی خوشبو سونگھتا کرتا۔اتنے میں وہ کہتی۔۔۔بیٹا دکان سے سبزی لانی ہے۔میں لپک جاتا ۔وہ کہتی ’’میرا چاند‘‘ابو کہتے۔۔۔بیٹا کھیتوں کو پانی دینا ہے۔میں ایک منٹ ضائع کئے بغیر کھیتوں میں پہنچ جاتا۔ابو کہتے ۔۔۔’’تم میری زندگی کی آرزو ہو‘‘بہن کہتی کہ اس کے لئے بازار سے چپل خرید کے لانا ہے۔میں چھلاوا کی طرح جاتا واپس آتا دسیوں بار جاتا۔واپس آتا ۔وہ کہتی کہ’’میں پھول‘‘ہوں۔گاؤں کی کوئی بڑھیا کھیت سے چارے اٹھا گھر جارہی ہوتی میں دوڑ کے اُٹھاتا گھر پہنچاتا۔وہ مجھے’’سورج‘‘کہتی۔حالانکہ میرا چہرہ گرد سے اٹا ہوا ہوتااور بال پریشان ہوتے۔کوئی بزرگ کسی کام کا کہتا کام اسی وقت مکمل ہوتا۔بزرگ دعا دیتا۔میں استاد کی آنکھوں کے اشارے کا منتظر رہتا۔وہ مجھے ’’خوبصورت‘‘کہتے میں لوگوں’والدین‘اساتذہ اور رشتہ داروں کی آنکھوں کا ’’تارہ ‘‘تھا۔۔۔۔سب مجھے’’خوبصورت ‘‘کہتے۔۔۔۔وقت گذرتا گیا ۔میراچہرہ وہی قدکاٹ وہی،بال وہی البتہ مونچھیں اُگ آئیں۔۔۔میں ’’اردو‘‘’’انگریزی‘‘بولنے لگا۔اب استاد جی’’سر‘‘بن گیا۔میں استاد کے علم کو تولنے کے مرحلے تک پہنچ گیا۔کہنے لگااستاد’’لائق‘‘نہیں ہے۔۔۔۔کامپٹنڈ ‘‘نہیں ہے۔مجھے مجلس ادب کا اندازہ ہونے لگا۔سوچنے لگا کہ ’’ابو کی باتیں مجلس اداب کے خلاف ہیں،’’ماں‘‘کی گود میں سرکیوں رکھوں’’بالوں ‘‘کو مشکل سے بنایا ہے بگڑ جائیں گے۔۔۔۔میں شیشہ دیکھنے لگا ۔اعلی قسم کے شیمپو ، خوبصورتی کے کریم۔اپنی خواہش،اپنی پسند کے کپڑے ،ریسٹ واچ ،جوتے،موبائل سیٹ پھر میں ہاتھ میں کنگن پہنے لگا۔درمیانی انگلی میں انگھوٹی بھی ڈالی۔بات کرتے ہوئے بھی سرجھکانے،ہلانے اور انداز بدلنے لگا۔شوخی سی بھی آگئی۔ہنسنے میں بھی سٹائل درآیا۔اب میں تنقیدبھی کرنے لگا۔ لوگ’’اچھے‘‘’’بُرے‘’’لائق نالائق‘‘’’تہذیب یافتہ بدتہذیب‘‘میں تقسیم ہونے لگے۔غرور کا بت جوان ہوتا گیا۔مجھے اب کپڑوں اور میک اپ کی فکر رہنے لگی۔ایک ارزو جوان ہوتی گئی’’خوبصورت‘‘ہونے کی آرزو۔۔۔کہ لوگ شخصیت دیکھ کر رشک اور حسد سے جل جائیں۔۔۔۔لوگ بھی ظالم ہیں۔کسی نے کھبی یہ نہیں کہا کہ۔۔۔۔سجیلا جوان ہے‘‘کپڑے اچھے ۔جوتے بے مثال ہیں۔موبائل سیٹ قیمتی ہے۔کہنے ’’والیوں‘‘نے بھی کبھی یہ نہیں کہا’’بال چمکتے‘‘ہیں بدن سروسنوبرہے۔آواز سریلی ہے۔آنکھیں نشیلی ہیں۔اور یہ سب بات کرنے میں بھی کنجوس ہیں۔کبھی کسی کی زبان سے ’’آئی لو یو‘‘نہیں سنا۔جس کا سامنا کرو منہ دوسری طرف کرتا ہے ۔اور ادھر میں اپنی شخصیت کو نکھارنے میں سارا وقت صرف کرتا ہوں۔میں نے اپنے آپ کو شیشے میں اتارا ہے کوئی مجھے خوبصورت نہیں کہتا۔وہ مجھے ’’چاند‘‘کہنے والے خاموش ہیں۔وہ مجھے ’’پھول‘‘کہنے والے گونگے ہوگئے ہیں۔وہ مجھے دعا دینے والوں کی زبان کسی نے کھینچ لی ہے۔۔۔۔ایک روز کالج سے آرہاہوں ۔دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے سے ایک بوڑھا آدمی بوری میں کچھ اُٹھا کے لئے جارہا ہے۔بوجھ بھاری ہے لڑکھڑا رہا ہے۔یکایک مجھے کچھ ہو جاتا ہے۔میں بوڑھے کو روکتا ہوں۔اپنی کتابیں اس کوتھما دیتا ہوں اپنے اوجلے کپڑوں کے اوپر اس کی طوری اُٹھتا ہوں۔بوری پر تیل کی میل ہے میرے سفید کپڑے ہیں۔۔۔میں آگے ہوں بوڑھا میرے پیچھے پیچھے ہے۔کہتا ہے’’تم موتی ہوں‘‘عجیب لگتا ہے۔عرصے بعد یہ’’لفظ‘‘ سن رہاہوں۔بڑی سڑک سے اس کے گاؤں کی طرف پکڈنڈی پر روان ہوتا ہوں،کیچڑ ہے جوتے کیچڑ میں لت پت ہیں لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔۔سچ کہتا ہوں جو سامنے سے آتا ہے مجھے’’چاند‘‘کہتا ہے۔بوڑھے بوڑھیاں’’پھول‘‘کہتے ہیں۔۔۔دور دولڑکیاں کھڑی دیکھ رہی ہیں جب ان کے قریب سے گذرنے لگتا ہوں تو کہتی ہیں۔۔۔’’تم گاؤں کی عزت ہو‘‘میرا دل سن کر دھک جاتا ہے۔کم بخت دل کہتا ہے ’’خوبصورت ہو‘‘کہو۔بوڑھے کا گھر آتا ہے۔بڑھیا بلائیں لیتی ہے۔کہتی ہے میں ’’خوبصورت‘‘ہوں۔۔۔اس حالت میں گھر پہنچتا ہوں۔ماں باپ کو کہانی سناتا ہوں۔تو ماں ’’پھر سے چاند کہتی ہے‘‘سر اپنی گود ی میں رکھتی ہے میں ممتا کی خوشبو سونگھتا ہوں۔باپ’’زندگی کی آرزو‘‘کہتا ہے۔بہن کپڑے بدلنے کو کہتی ہے۔۔۔مگر کہتی ہے کہ میں ’’پھول‘‘ بھی ہوں’’کھلی کائنات ‘‘بھی ہوں۔زندگی کی تمنا‘‘بھی ہوں۔مری خوشبو سے ساری کائنات معطر ہے۔۔۔اور میں بہت خوبصورت ہوں۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔