ضلع استور میں محکمہ تعمیرات عامہ کے عارضی ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری، دفاتر کی تالا بندی

استور (سبخان سہیل) استور محکمہ تعمیرات کے عارضی ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی، ملازمین کا محکمہ تعمیرات کے مین گیٹ پر تالالگا کر گیٹ کے سامنے دھرنا جاری۔ جب تک مطالبات حل نہیں کئے جاتے ہیں تالا بندی جاری رکھنے کا ارادہ، ملازمین سے مذاکرات کے لیے آنے والے اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کواٹرعدیل حیدر اور ایکسن محکمہ ورکس استور کے ساتھ مذاکرات ناکام۔

اس موقعے پر ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے قوم پرست رہنما چیرمین قراقرم نیشنل مومنٹ ڈاکٹر غلام عباس نے کہا کہ68سالوں سے حکومتیں ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے۔ ہمیں اب تک بنیادی حقوق نہیں ملے ہیں۔استور میں آج تک جاگیرداروں اور وڈیروں سے مل کر غریب عوام کا خون چوساء جارہا ہے۔ گزشتہ ایک عرصے سے امن کمیٹی کے نام سے چند مخصوص افراد کے گروہ کو مالی فوائد دیتے ہوئے غریب عوام کو پیسا جارہا ہے۔ اس گروہ کے افرا آئے روز ضلعی انتظامیہ کے دفتروں میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔مگر عوامی حقوق کی جب بھی بات آتی ہے تو یہ لوگ تفرقہ پیدا کرکے انتشار پھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ملازمین کے مطالبات کی منظوری تک ہم آپ ملازمین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

اس موقعے پر سابق امیدور گلگت بلتستان اسمبلی شمس الدین نے کہا کی ہم ملازمین کے ساتھ ہیں اور ضرورت پڑھنے پر عوام کو بھی کال دیں گے ۔ اسسٹنٹ کمشنر عدیل حیدرنے ملازمین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تمام مطالبات جائز ہیں آپ کی ہڑتال کی تمام رپورٹس حکام بالا تک پہنچائی جارہی ہے آپ کے 90%مطالبات حل ہوئے ہیں۔ دفتروں میں تالا بندی مسائل کا حل نہیں ہے تالا کھول کے دفتروں میں بیٹھ کر احتجاج کریں تاکہ مسائل حل ہوسکیں۔ مگر ملازمین نے مطالبات کی منظوری تک تالابندی کا عزم لیے ہوئے تالا کھولنے سے انکار کردیا۔ ملازمین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مطالبات آج حل نہیں ہوئے تو کل گلگت کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ہمارے مطالبات کی منظوری تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments