گلگت بلتستان کا انتخابی دنگل

گلگت بلتستان ایک بار پھر انتخابی موسم کی اُس کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں سیاست محض جلسوں اور نعروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہر گلی کوچے، ہر چائے خانے اور ہر گفتگو کا مرکزی موضوع بن جاتی ہے۔ 7 جون کے عام انتخابات قریب آتے ہی پورا خطہ ایک ایسے غیر معمولی سیاسی جوش و خروش میں ڈوب چکا ہے جو بظاہر جمہوری سرگرمی کی علامت ہے، مگر اس کے اندر طاقت کے نئے توازن کی ایک خاموش مگر گہری جنگ بھی جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 669 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، جن میں 26 خواتین امیدواروں کی موجودگی ایک مثبت مگر محدود پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ پچھلے انتخابات کے مقابلے میں یہ اضافہ صرف اعداد و شمار کی حد تک نہیں بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیاسی میدان میں مقابلہ غیر معمولی حد تک وسیع ہو چکا ہے۔
الیکشن شیڈول کے تحت امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور ان کی جانچ پڑتال کے بعد اب 2 سے 9 مئی تک اعتراضات پر اپیلوں کا مرحلہ جاری رہے گا، جس کے بعد 10 مئی کو حتمی فہرست جاری کی جائے گی اور 12 مئی کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔ دوسری جانب اسمبلی میں خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ترجیحی فہرستیں الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اپریل ہے، جس کے ساتھ ہی اصل انتخابی معرکہ اپنے عملی مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔
دلچسپ اور اہم پہلو یہ ہے کہ ابھی تک کسی بڑی سیاسی جماعت نے اپنے امیدواروں کو باضابطہ طور پر پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیے۔ یہ تاخیر محض انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی سمجھی جا رہی ہے، جس کے ذریعے جماعتیں اپنے اندرونی توازن، دھڑے بندیوں اور ممکنہ ناراضگیوں کو آخری لمحے تک قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ نتیجتاً اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال جنم لے چکی ہے، جہاں امیدوار بظاہر آزاد مگر حقیقت میں جماعتی وابستگیوں کے سائے میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں گلگت بلتستان کی سیاست کا اصل ” بیک اسٹیج “ پوری طرح سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید رسہ کشی جاری ہے تو دوسری طرف حلقوں میں ذاتی اثر و رسوخ، برادری اور مقامی سیاست بھی پوری شدت سے کارفرما ہے۔ آنے والے چند دنوں میں جب سیاسی جماعتیں اسمبلی کی جنرل اور مخصوص نشستوں کے لئے اپنے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کریں گی تو یہی خاموش کشیدگی کھل کر سامنے آئے گی اور وہ تمام اندرونی اختلافات، ناراضگیاں اور سیاسی سودے بازی واضح شکل اختیار کر لیں گی جو اس وقت پردے کے پیچھے جاری ہیں۔
سیاسی طور پر گلگت بلتستان کا یہ انتخاب ہمیشہ ایک منفرد پس منظر رکھتا ہے۔ 2009 کے گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت قائم نیم صوبائی نظام میں ماضی کے انتخابات میں یہ تاثر غالب رہا ہے کہ وفاقی سیاست کا سایہ براہِ راست یہاں کے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماضی میں وفاق میں برسراقتدار جماعتوں کے وزراء اور نمائندے انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہاں بڑے بڑے اعلانات، جھوٹے وعدے اور ترقیاتی پیکجز کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب سیاسی وعدے اکثر ہوائی اعلانات سے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے، مگر انتخابی نتائج ان کے اثرات ضرور سمیٹ لیتے تھے۔
تاہم اس بار صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ گلگت بلتستان کا ووٹر پہلے سے کہیں زیادہ باخبر، تجربہ کار اور سیاسی طور پر حساس ہو چکا ہے۔ عوام اب محض نعروں اور اعلانات پر قناعت کرنے کے بجائے زمینی حقائق، کارکردگی اور تسلسل کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی سطح کے روایتی وعدے اور انتخابی اعلانات اب وہ اثر نہیں رکھتے جو ماضی میں رکھتے تھے۔ ایک واضح احساس ابھر رہا ہے کہ ووٹر اب وعدوں کی سیاست سے نکل کر احتساب کی سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس بار انتخابی منظرنامہ اس لیے بھی زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے کہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی فضا کے باوجود، گلگت بلتستان میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مضبوط سیاسی حریف کے طور پر میدان میں ہیں۔ یہ داخلی تضاد اس انتخاب کو مزید غیر مستحکم اور دلچسپ بنا رہا ہے۔ ایک طرف دونوں بڑی جماعتیں حکومت سازی کے دعوے کر رہی ہیں، مگر دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت کی مضبوط پوزیشن نظر نہیں آتی۔ یہی وہ خلا ہے جہاں نئی سیاسی قوتیں اور آزاد امیدوار اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
استحکام پاکستان پارٹی پہلی بار اس انتخابی میدان میں اتر رہی ہے اور اپنے لیے ایک نئی سیاسی جگہ بنانے کے دعوے کے ساتھ سرگرم ہے۔ اس جماعت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے پلیٹ فارم پر گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کے اہم کردار، ایک سابق وزر اعلیٰ، سابق گورنر اور سابق وزراء پوری طاقت کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ بھی کر سکے، تاہم حکومت سازی میں اس کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب مذہبی و روایتی جماعتیں، مجلس وحدت المسلمین، اسلامی تحریک، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام، اپنے مخصوص ووٹ بینک کے باوجود اس بار ایک مربوط اور جارحانہ انتخابی مہم میں نمایاں نظر نہیں آ رہیں، جس سے ان کے مجموعی اثر میں کمی کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تقریباً تمام حلقوں سے موجود ہیں، مگر اس جماعت کے لیے کامیابی کی راہ میں کئی اہم رکاوٹیں کار فرما ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج اس وقت پارٹی کی تنظیمی کمزوری اور قیادت کی غیر واضح حکمت عملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ کاغذات نامزدگی کی سطح پر اس کی موجودگی نمایاں ہے، لیکن عملی سیاست میں اس کا اثر نسبتاً کمزور دکھائی دیتا ہے۔
گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست کا ایک اور بنیادی پہلو یہ ہے کہ یہاں مقابلہ صرف جماعتوں کا نہیں بلکہ شخصیات،برادریوں ، مسلک اور مقامی اثر و رسوخ کا بھی ہوتا ہے۔ یہی عنصر اکثر نتائج کو غیر متوقع بنا دیتا ہے، اور اس بار بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔
مجموعی طور پر اس وقت انتخابی منظرنامہ ایک ایسے دنگل کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ہر جماعت اپنی کامیابی کے دعوے کے ساتھ موجود ہے، مگر کوئی بھی واضح اکثریت کے قریب نظر نہیں آتی۔ یہی غیر یقینی صورتحال اس انتخاب کو نہ صرف دلچسپ بلکہ فیصلہ کن بھی بنا رہی ہے، جہاں آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ طاقت کا نیا توازن کس سمت جھکے گا اور گلگت بلتستان کی اگلی حکومت کس سیاسی قوت کے حصے میں آتی ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button