ڈگری کالج گلگت فار بوائز پچھلے دوسال سے عدم تحفظ کا شکار ہے، حالات پورے گلگت بلتستان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، قرارداد

ڈگری کالج گلگت فار بوائز پچھلے دوسال سے عدم تحفظ کا شکار ہے، حالات پورے گلگت بلتستان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، قرارداد

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) آج مورخہ ۲۱ نومبر ۲۰۱۵ ء بروز ہفتہ گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز، گلگت میں ایک غیر معمولی اجلاس زیرِ صدارت پرنسپل کالج ہذا پروفیسر عطاء اللہ منعقد ہوا۔ جس میں گلگت بلتستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن کے صدر پروفیسر راحت شاہ اور کالج کے تمام فکلٹی ممبرز (لیکچررز اور پروفیسرز )نے شرکت کی۔ اجلاس میں پچھلے دنوں کالج میں ’’یومِ حُسین‘‘ منانے کے سلسلے میں رُونما ہونے والے حالات اور کالج کو درپیش جملہ مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ اِس سیر حاصل بحث کے نتیجے میں تمام شرکائے اجلاس نے مکمل اتفاقِ رائے سے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی۔

(۱)۔ یہ کہ گور نمنٹ ڈگری کالج فار بوائز ، گلگت کے پرنسپل اور تمام جملہ تدریسی و غیر تدریسی عملے کے درمیان مکمل فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارگی پائی جاتی ہے۔ لہذا اِس قرارداد کے ذریعے متعلقہ حکّام اور اربابِ بست و کُشاد کو واضح کیا جاتا ہے کہ کالج کے پرنسپل اور تمام فکلٹی ممبرز کسی بھی قسم کے فر قہ وارانہ تعصّب اور سازش کا نہ حصّہ تھے، نہ ہیں اور نہ ہی رہیں گے۔

(۲)۔ یہ کہ کالج کے پرنسپل اور تمام فکلٹی ممبرزکو اِس امرکا بخوبی اِدراک ہے کہ یہ معاشرے کے ایک مقدس اور غیرمعمولی اہمیت کے حامل پیشہ سے وابستہ ہیں۔ جسے پیشہء پیغمبری بھی کہاجاتاہے۔ بحیثیتِ معلّم ہمارے فرائضِ منصبی میں نہ صرف خلوصِ دل سے درس و تدریس کے عمل کی بجا آوری کرنا ہے بلکہ طلباء کی ذہن سازی و کردار سازی میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنی ہے۔ اِس تناظر میں کالج کے پرنسپل اور فکلٹی ممبرز نے دامے، دِرمے، سُخنے اور قدمے معاشرے میں اپنا کردار نبھایا ہے اور آئندہ بھی نبھاتے رہیں گے۔ اس قرارداد کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں، متعلقہ حکام اور تمام شراکت داروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ ہمیں اپنا کردار نبھانے دیا جائے اور مختلف رکاوٹوں کو ہمارے راستے کا امر مانع نہ ہونے دیا جائے۔

(۳)۔ یہ کہ طلباء کو ’’یومِ حُسین‘‘ کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اور اس کے لئے کالج کے پرنسپل نے حفظہ ما تقدم کے طور پر اقدامات اُٹھائے تھے اور متعلقہ حکام تک پہنچائے تھے۔ اِس کے باوجود مورخہ ۱۶ نومبر ۲۰۱۵ء کو اچانک ایک کلاس روم میں پروگرام شروع ہوا۔ جس پرطلباء کا دوسرا گروپ بھی سراپااحتجاج ہوا۔ اِسی اثنا پرنسپل اور فکلٹی ممبرز کالج کے حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئے اور دو مُشتبہ اشخاص کو حوالہ ء پولیس کیا۔

(۴)۔ یہ کہ کالج ہذا پچھلے دو سالوں سے شدید عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔ ان سالوں کے دوران کالج میں شدید نوعیت کے فسادات اور لڑائی جھگڑے رونما ہوتے رہے ہیں۔ جس میں فکلٹی ممبرز اور طلباء معجزانہ طور پر اپنی جانے گنوانے سے بچتے رہے ہیں۔ کالج کی یہ صورتِ حال نہ صرف کالج کے لئے ایک مستقل سیکیورٹی تھریٹ ہے بلکہ پورے گلگت کے سماج کے امن و اماں کے لئے ایک مستقل رِسِک ہے۔ لہذا اِس غیر معمولی قرارداد کے ذریعے حکامِ بالا سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ سنجیدہ اور فوری اقدامات کرتے ہوئے کالج کے احاطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ’’ مستقل چوکی‘‘ کا قیام عمل میں لائیں۔

(۵)۔ یہ کی کالج ہذا بے پناہ مسائل کی گرداب میں گِرا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اس کا پُرسانِ حال کوئی نہیں۔ گلگت بلتستان کے سب سے پُرانے اور بڑے کالج کے مسائل دیکھتے ہوئے کوئی ذی شعورشخص تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ اکیسوی صدی میں کوئی کالج اتنی زبوں حالی کا شکار ہو سکتا ہے ۔کالج انتہائی بنیادی ضروریات مثلا بجلی ،پانی اور ٹوائیلیٹس کی سہولت سے یکسر محروم ہے ۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت تعلیمی اداروں کی چاردیواری کو یقینی بنانا ناگزیرہے ۔مگر صدافسوس کہ کالج چار دیواری سے بھی محروم ہے۔اسکے علاوہ ایک اور اہم اور بنیادی ضرورت ٹرانسپورٹ کے فقدان کا بھی کالج شکار ہے ۔کالج کی نامکمل عمارت ،لیبارٹری اور لائیریری کے تعمیراتی کا م کا تعطل ،کھیل کے میدان اور کے ۔کے۔ ایچ سے کالج کے لیے لنک روڈ کی عدم دستیابی کالج کے پرنسپل، فیکلٹی

ممبرز اور طلباء کے لئے ایک مستقل دردِ سربنے ہوئے ہیں ۔اس تناظر میں قرارداد ہذا کے ذریعے عوامی نمائندوں ، متعلقہ حکام اور تمام شراکت داروں سے درد مندانہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنا بنیا دی فرض نبھاتے ہوئے کالج کی ان بنیا دی اور اہم ترین ضروریات کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لئے جنگی بنیادوں پر اپنا کردار ادا کریں۔

(۶)۔ یہ کہ باوثوق ذرائع سے معلو م ہوا ہے کہ پرنسپل کالج ہذا پروفیسر عطاء اللہ صاحب کے خلاف جوٹیال پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔جس میں محترم پرنسپل صاحب پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں ۔اجلاس میں تمام شرکاء نے پرنسپل صاحب کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ایک معزز اور اعلیٰ آفیسر کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کر کے نہ صرف معزز پرنسپل صاحب اور گلگت بلتستان کے کالجز کے لیکچررز اور پروفیسرز کی توہین کی گئی ہے بلکہ معاشرے کے سب سے اہم پیشے ’’درس و تدریس‘‘ کی بھی توہین کی گئی ہے۔ اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ پرنسپل صاحب کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے اور ایف آئی آر درج کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اور ساتھ ساتھ پرنسپل صاحب کی مجروح ہونے والی عزتِ نفس کا ازالہ کیا جائے۔

اس موقع پر تمام شرکائے اجلاس نے پچھلے سال اِسی نوعیت کے ایک واقعے کے نتیجے میں بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے معزز پرنسپل پروفیسر سرباز صاحب اور تین فیکلٹی ممبرز کو ملازمت سے معطل کرنے اور سزا کے طور پر پوسٹنگ کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اور متعلقہ آفیسرز کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

(۷)۔ یہ کہ با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کالج ہذا کے طلباء کا ایک گروپ عنقریب ’’یومِ فاروق‘‘ منعقد کرنا چاہتا ہے۔ لہذا متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس معاملے پر بھی فوری اور موثر اقدامات اُٹھائیں جائیں۔

(۸)۔ یہ کہ تمام شرکائے اجلاس اورگلگت بلتستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن مذکورہ مسائل کے حل کے لئے یہ قدم اُٹھانے پر مجبور ہیں کہ مورخہ ۲۴ نومبر ۲۰۱۵ء سے ۳۰ نومبر ۲۰۱۵ء تک گلگت بلتستان کے تمام کالجز میں فیکلٹی ممبرز اور پرنسپلز کی جانب سے ’’علامتی ہڑتال‘‘ کی جائے گی۔ جس کے تحت بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر درس و تدریس کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ اس دوران مسائل کے حل کی صورت میں ہڑتال ختم کی جائے گی۔ بصورتِ دیگر علامتی ہڑتال مکمل ہڑتال میں تبدیل کی جائے گی اور درس و تدریس کا عمل مکمل طور پر معطل کیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر پاکستان کے تمام کالجز کے فیکلٹی ممبرز کی نمائندہ جما عت ’’ آل پاکستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن (ایپلا)‘‘ سے مدد بھی لی جائے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔