صحت   عامہ کی سہولیات کا فقدان

صحت   عامہ کی سہولیات کا فقدان

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد قیوم

محکمہ صحت بظاہر گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہے ۔ سرکاری عمارات قائم ہیں ۔ ہر ایک کی پیشانی پر دیوقامت سائن بورڈ نصب ہیں ۔ سرکاری فائلوں میں ان کا وجود ہے۔کروڑوں کا فنڈ ہے۔  عمارات کے اندر باہر افتتاح کی تختی نصب ہے جس پر کسی اہم حکومتی عہدے دار کا نام و نصب جلی حروف میں کندہ ہے۔ کچھ نہیں ہے تو وہ ہے غربا کے لیے علاج کی سہولت۔ ایک دردمند ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف جس کے بغیر  یہ  تمام کارِ لاحاصل ہے ۔ ہسپتالوں کے اندر باہر غریب عوام کا جم ِ غفیر اپنے بیمار اعزہ کے ہمراہ  سرکاری علاج کا منتظر ہے مگرمسیحائی کی تمام امیدیں سرکاری عمارت  کی سپاٹ دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتی ہیں۔غریبوں کے لیے مفت دوا اور علاج  کے سنہری خواب کی بنیاد پر کھڑی عوام کے قیمتی ٹیکس کے پیسوں سے بننے والی عمارات اپنے اولین مقصد و غایت کے حصول میں ناکام ہیں۔ہسپتالوں میں ڈاکٹر تعینات نہیں، ایکسرے  وغیرہ کی سہولت ناپید ہے اور سرکاری دوا مستحق تک پہنچنے سے پہلے  آپس میں بٹ جاتی ہے۔حکومت نے صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی  سے مکمل  صرفِ نظر کررکھا ہے۔

قواعد کی رو سے ہر ضلع میں ایک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ایک   اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر  تعینات ہوتا ہے، جن کےزیر  نگرانی  سول اسپتال کام کرتا ہے۔اس کا سٹاف ایک میڈیکل آفیسر، ایک ڈینٹل سرجن اور ایک لیڈی میڈیکل آفیسر پر مشتمل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ضلع میں قائم ڈسپنسریوں میں سے ہر ایک میں میڈیکل آفیسر اور  کوالیفائیڈ ٹکنیکل سٹاف موجود ہوتاہے۔اسی طرح ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ایک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایک ڈپٹی  میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات ہوتے ہیں۔ ایک مکمل طور پر فعال   ڈی ۔ایچ ۔کیو ہسپتا ل میں ڈاکٹرں کی ایک پوری ٹیم ہوتی ہے،  جس میں میڈیکل اسپیشلسٹ گائنوکالوجسٹ ، چائلداپیشلسٹ،  پیتھالوجسٹ،  ریڈییالوجسٹ،  انستهیٹسٹ،  سرجیکل اسپیشلسٹ،  کارڈیالوجسٹ،  سونولوجسٹ،  یورولوجسٹ،  ڈینٹسٹ،  ای این ٹی آرتهوپیڈک،  آئی اسپیشلسٹ  وغیرہ شامل ہیں۔  ان ڈاکٹروں کی تکنیکی معاونت کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ سٹاف  بھی ازحد ضروری ہے۔علاوہ ازیں، ان تمام  کے لیے الگ الگ شعبہ جات کا قیام بھی ضروری ہے تاکہ صحت عامہ کی دیکھ بھال بہ آسانی انجام دی جاسکے۔

 اس ضمن میں یہ تذکرہ از بس کہ ضروری ہے کہ ضلع غذر میں  صحت عامہ کی سہولیات یا تو سرے سے موجود نہیں اور اگر کسی حال میں موجود ہیں تو ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔  غذر میں ڈی ایچ کیو ہسپتا ل کے قیام کو کئی سال ہوچکے ہیں مگر سچ پوچھو تو یہ  ڈی ایچ کیو ہسپتا ل  کا محض  سایۂ مبہم ہے۔  سالوں گزر گئے مگر یہاں نہ کبھی پورا سٹا ف تعینات ہوسکا نہ مطلوبہ سہولتیں فراہم ہوسکیں۔ دوا کے نام پر چند گولیاں تھما کر ہمیشہ بازار کا رستہ دکھایا جاتا ہے۔  ضلع غذر کی ڈھائی لاکھ آبادی کے لیے  ایک منظم اور فعال ہسپتال کی عدم دستیابی  لمحہ ٔ  فکریہ ہے۔

محکمہ صحت غذر  میں مجاز افسران کی تعیناتی علیحدہ  مسئلہ ہے۔  ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس غذر  میں ڈی ایچ او کی  پوسٹ کئی سالوں سے  خالی ہے، جس سے ایک مبہم اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ صحت عامہ کے معاملات کس قدر ڈنگ ٹپاؤ انداز سے چلائے جارہے ہیں۔  ڈی ایچ کیو ہسپتا  ل کے انتظام و انصرام  میں ایم ایس اور ڈی ایم ایس کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، ڈی ایچ کیو ہسپتا ل گاہکوچ  میں ان منتظمین کا وجود ہی نہیں۔یہاں محض دو اسپیشلسٹ ڈاکٹر چائلڈ اسپیشلسٹ اور پیتھالوجسٹ  تعینات ہیں۔ سول اسپتال میں  میڈیکل آفیسر، لیڈی میڈیکل آفیسر اور  ڈینٹل سرجن سرے سے موجود ہی نہیں۔ چند ایک ڈسپنسریوں کے  علاوہ کسی میں میڈیکل آفیسر کا تصور بھی محال ہے۔

یوں تو  صحت  و تعلیم    قومی پالیسی سازوں  کی ترجیح  کبھی نہیں رہی مگر غذر جیسے دور افتادہ  خطے  سرکاری  پالیسی سازوں  کی بے حسی اور حکام  بالا  کی کرپشن  اور نااہلی کا زیادہ ہی خمیازہ بھگتتے ہیں۔ اڑھائی لاکھ آبادی والے ضلع کے لوگ کروڑوں روپے  سرکاری فنڈ سے بننے والے ہسپتا ل کے عین دروازے کے سامنے سے گزر کر گلگت کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ۔ وہاں پر ان کی محرومی  کا خراج  بھاری  فیسوں کے ذریعے ان کا خون نچوڑ کر وصول کیا جاتا ہے۔  عوامی نمائندوں کی نااہلی ،   لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری اور سرکاری  اہلکاروں کی بے حسی   ہر عوامی مفاد کے منصوبے کے آڑے آتی رہی ہیں۔ ضلع کے عوام نے کچھ عرصہ صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا مگر شنوائی نہ ہوئی ۔ اب انھوں نے اسے اپنا مقدر سمجھ کر صبر و شکر کرلیا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ اگر پالیسی میں ایک بڑا تغیر رونما نہ ہوا تو یہ جمود ہونہی برقراررہے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے بڑے عظیم الشان منصوبوں  کی  بجائے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی ترجیح بنایا جائے۔ تعلیم صحت اور خوراک کی فراہمی   کے بغیر ترقی کا خواب کھوکھلا اور بے بنیاد ہی رہے گا۔اب وقت ہے کہ سرکاری محکموں بالخصوص محکمہ صحت میں ہر سطح پر کرپشن اور نااہلی کی بیخ کنی کی جائے۔ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے تمام جائز مطالبات پورے کیے جائیں تاکہ وہ بلاناغہ صحت کی سہولیات بہم پہنچاتے رہیں۔  عوام کو بھی چاہیے کہ اس ضمن میں اپنے حقوق پہچانیں اور شعور حاصل کریں ۔ جب تک ہم خود اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہ کریں گے ، ہماری شنوائی نہ ہوسکے گی۔

 _________________________

محمد  قیوم کا تعلق گاہکوچ سے ہے۔ آپ  بنیادی طور پر ایک کیمسٹ اور ڈرگسٹ ہیں اور عرصہ ٔ دراز سے صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کی تحریک کےعلمبردار ہیں ۔ ساتھ ہی صحت کے شعبے سے وابستہ افراد  کے حقوق  کے لیے بھی متحرک ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔