گلگت بلتستان میں ٹیکس مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان، 14 جنوری کو شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کیا جائے گا

گلگت بلتستان میں ٹیکس مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان، 14 جنوری کو شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کیا جائے گا

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( فرمان کریم)کنٹریکٹرایسوسی ایشن ، تاجر ایسوسی ایشن، پیٹرولیم ڈیلرز، چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور ہوٹل اندسٹری اور دیگر تنظمیوں نے انکم ٹیکس کے خلاف 16جنوری سے گلگت بلتستان میں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

ہفتے کے روز کنٹریکٹرایسوسی ایشن کے جنرل سکرٹیری مرتضیٰ علی، انجمن تاجر کے جنرل سکرٹیری مسعود الرحمن ، پیٹرولیم ڈیلرزصدر جہانگیر، چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائیندے عبدالطیف، اور ہوٹل اندسٹری کے صدر راجہ ناصر خان اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمایئندے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کومکمل آئینی حقوق دئے جانے تک انکم ٹیکس اور ودہونڈنگ ٹیکس کے نٖفاذ کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے اور اس سلسلے میں 2013سے لے کر آج تک اس مد میں ناجائز طور پر لی گئی رقومات متعلقہ افراد کو واپس کیجائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اینٹی ٹیکس موومنٹ کی 8جنوری کو گلگت میں بلائے گئے اجلاس کی قرارداد کے تحت 14جنوری کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی متفقہ کال دیدی گئی ہے۔ اور تمام اضلاع میں پیٹرولیم منصوعات کی سپلائی بند کردینگے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے کو جب تک آئینی حقوق نہیں دئے جائیں گے۔ تب تک گلگت بلتستان میں غیر قانونی ٹیکس کا نفاذ بلاجواز ہے۔ہم پہلے ہی انکم ٹیکس کے فیصلے کے خلاف برسرپیکار تھے اب بھی اس نئے محاذ کا سامنا ہے جس کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 3سال سے ایف بی آر کا آفس گلگت میں انلینڈریونیو کے نام پر کام کر رہا ہے ۔ عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے دفتر کے باہر جی بی کونسل کا بورڈ آویزان کیا گیا ہے جبکہ تمام تر عملہ ایف بی آر کا کام کر رہا ہے۔ اور تب سے 3فی صد کی شرح سے تما کنٹریکٹرز ارو سرکاری ملازمین سے غیر قانونی طور پر انکم ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ جو کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کے منافی اقدام ہے۔ جو ایک مقدمے الجہاد ٹرسٹ کے حوالے سے 1998میں صادر کیا گیا تھا۔ جسکی روح سے گلگت بلتستان کی وفاق میں آئینی نمائندگی سے قبل ہر قسم کے ٹیکسز کے نفاذ کو بلاجواز قرار دیا گیا تھا۔

پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام بالواسطہ ٹیکسز جی ایس ٹی کے ذریعے ہر سال اربوں کا مالیہ وفاق کو ادا کرتے ہیں جس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی سبسڈی نہیں دی جارہی ہے۔جبکہ آزاد کشمیر کے عوام کو اس مد میں اربوں روپے کی سبسڈی کی مد میں دی جاتی ہے۔یہ امر انتہائی مایو س کن ہے کہ گزشتہ سال سے اقتصادی راہداری منصوبے کی باتیں ہو رہی ہے۔ واضع رہے کہ یہ راہداری گلگت بلتستان کے قلب سے گزر کر اپنے مقررہ مقام تک پہنچتی ہے۔ ان حالات میں اس قسم کے ٹیکسز لاگو کرنے والے لوگ اس پراجیکٹ کے اور ملک کی تعمیر وترقی کے خیر کواہ نہیں ہو سکتے ہیں۔گلگت بلتستان کی جعفرافیائی حساسیت کے پیش نظر مذکورہ ٹیکس کے نفاذ جیسے اقدامات سے قبل جی بی قانون ساز اسمبلی سے باقاعدہ منظوری لی جاتی مگر افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ صرف کشمیر افیئرز اور ایف بی آر کی ایما ء پر انتہائی عجلت میں عوام پر ظلم ڈھایا گیا ہے۔ جبکہ جی بی اسمبلی نے انکم ٹیکس کے حوالے سے نام نہاد جی بی کونسل کے ٹیکس کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا اُنہوں نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ آج ملک کے ایسے علاقے دیر ، سوات ، مالاکنڈ اور فاٹا جن کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائیدگی کے باوجود انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز سے مشتنیٰ ہیں کیونکہ بقول حکمران یہ علاقے پسماندہ ہے۔ اگر پسماندگی کی بات ہے تو گلگت بلتستان پاکستان کا سب سے پسماندہ خطہ ہے۔ جہاں صرف 5مہینے زندگی کا کاروبار چلتا ہے جبکہ گرمیوں میں بارش اور سردیوں میں برف باری کے باعث ملک کے دیگر حصوں سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔اور اس خطے کے لوگوں کا ملک کے لئے بے شمار خدمات ہیں۔ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مختلف ٹیکسزز عائد کر کے ظلم کی انتہاکی گئی ہے۔

پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ بین الااقوامی اصول No Taxation without Representation کے تحت جب تک ملک کے اعلیٰ ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ نمائیدگی نہیں دی جاتی اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئینی جعفرافیائی حدود میں شامل نہیں کیا جاتا اس وقت تک کسی بھی شکل میں ٹیکس کا نفاذ نامنظور ہو گا۔ حکومت ہماری شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ہمارے احتجاجی سلسلے کا دائرہ مرحلہ وار بڑھارہے ہیں۔ حکومت اب بھی ہوش کے ناخن لے کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ ہماری مطالبہ جائز ہے اور حق پر مبنی ہے۔ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔حکومت فوری طور پر گلگت بلتستان سے انکم ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس واپس لے اور آئینی حقوق کے حصول تک گلگت بلتستان سے تمام آئینی اداروں بلخصوص ایف بی آر اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے دفاتر کو ختم کیا جائے بصورت دیگر عوام کو سٹرکوں پر نکال پر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔