گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے کیوں شروع ہوئے؟
گلگت شہر اور گردونواح کے مختلف علاقوں میں جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ احتجاج کے باعث شاہراہِ قراقرم سمیت متعدد شہری اور بین الاضلاع رابطہ سڑکیں بھی بند ہیں، جس کے نتیجے میں مسافروں، سیاحوں اور مقامی آبادی کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ مظاہرے آغا راحت حسین الحسینی کی کال پر کیے جا رہے ہیں، جن کا بنیادی مطالبہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گرفتار کیے گئے نوجوانوں کی رہائی ہے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ بعض نوجوانوں کو بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف درج مقدمات اور ان کی گرفتاریوں کا شفاف جائزہ لیا جائے اور اگر کسی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔
جن اسیران کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، ان کے بارے میں فی الحال زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف واقعات کے بعد گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں، جن کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ آخری مرتبہ بڑی تعداد میں گرفتاریاں مارچ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے تناظر میں کی گئی تھیں۔
مظاہرین کے مطابق، مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اہلِ تشیع کے اہم رہنما آغا راحت حسین الحسینی نے مختلف علما کے ہمراہ مختلف تھانوں میں گرفتاری پیش کی ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب، چلاس میں بھی احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا ہے، جہاں خیبر پختونخوا میں بعض علما کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ادھر مسافروں اور سیاحوں نے سڑکوں کی بندش پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستوں کی بندش کے باعث لوگ مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں اور ان کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔






