ہمہ یارانِ لاہور ۔۔۔۔۔۔ تیسرا حصہ

ہمہ یارانِ لاہور ۔۔۔۔۔۔ تیسرا حصہ

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تہذیب حسین برچہ

۱۹ جنوری کی صبح تھی۔ہاسٹل کے کمروں کے باہر احباب دھوپ تاپ رہے تھے۔جبکہ کچھ شعراء اپنے کمروں میں تیاریوں میں مصروف تھے۔پوچھنے پر پتا چلا کہ لاہور رونگی کا پروگرام مرتب کیا گیا تھا۔۰۰:۱۲ بجے کے کارواںیوتھ ہاسٹل کے استقبالیہ میں رختِ سفر باندھے تیار تھا۔تھوڑی دیر بعد فیض آباداڈے کی جانب روانہ ہوئے۔آدھے گھنٹے کے مختصر وقفے کے بعد لاہور کی جانب روانہ ہوئے۔سواری مسلسل مسافت طے کر رہی تھی اور راولپنڈی کے حدود سے آگے نگل رہی تھی۔تاحدّ نظر دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے اور کہیں کہیں پر مالٹوں کے وسیع باغات اپنے اندر ایک طلسمی کشش رکھتے تھے۔موٹروے پر گاڑیوں کا رش بہت زیادہ تھا اور تیز رفتاری سے گزرتی گاڑیاں شور کا بھی سبب بن رہے تھے۔

شام کا وقت تھا ہماری سواری ۳۰:۴ گھنٹے کی طویل سفر کے بعد لاہور کے حدود میں داخل ہوچکی تھی ۔لاہور شہر کے بازار روشن تھے۔لاہور بس اڈے پر اتر کر سامان کی گٹھٹریوں کی وصولی تک شام کے ۳۰:۷ بجے تھے۔لاہور میں شام کے وقت کسی ایسی سواری کاحصول ممکن نہیں تھا جس میں باآسانی تمام احباب سما سکیں۔لٰہذا ۴ رکشوں میں بالترتیب ۳ شعراء بیٹھ کر ایسے ریلوے لائن کی جانب جارہے تھے جیسے کسی کی بارات میں شرکت کے لئے جارہے ہوں۔ریلوے لائن پہنچ کر المنور ہوٹل میں قیام کیا۔ہوٹل نہایت شاندار تھا اور مسافروں کی سہولت کے لئے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے تھے۔ایک ذرا آرام کے بعد طعام کی غرض سے باہر کا رخ کیا ۔لاہور شہر کھانوں کے حوالے سے بھی بہت مشہور ہے اور رات گئے تک فوڈ سٹریٹس میں باآسانی لذیذ کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔پیٹ پوجا کی خاطر رفقاء لاہور شہر کے لذیذ کھانوں سے خوب شکم سیر ہوئے اور دوبارہ ہوٹل کا رخ کیا۔رات گئے طارقؔ ،دکھیؔ ،عاصیؔ اور راقم نے خوب بازار یاترا کیا اور رات ۰۰:۱۲ بجے کے قریب واپسی ہوئی ۔رات کافی ہو چکی تھی لٰہذا آرام کے لئے کمروں کا رخ کیا۔

لاہور میں پہلی صبح دوستوں کے کمروں میں خوب رونق تھی اور تیاریاں جاری تھیں کیونکہ آج شہر کے معروف مقامات کی درشن کا پروگرام بنایا گیاتھا۔پروگرام کے مطابق ۰۰:۱۰ بجے مینار پاکستان کا رخ کیا گیاجو ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کے قراردادِ پاکستان کی یادگار ہے اور آج بھی اپنے شان وشوکت سے ایستادہ ہے۔لیکن اُن دنوں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مکمل سیل تھا ۔بہر حال شعراء نے گارڑن میں تھوڑا سا وقت گزارا ۔مینارِپاکستان یاترا کے بعد شاہی قلعہ کا رخ کیا۔شاہی قلعہ میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا درمیانی علاقہ حضوری باغ کے نام سے جانا جاتا ہے۔،مہاراجہ رنجیت سنگھ نے۱۸۱۸ء میں باغ کے درمیان ایک بارہ دری تعمیر کرائی ۔یہ دومنزلہ عمارت تھی جس کے نیچے تہ خانہ ہے۔بارہ دری امورَ مملکت کی انجام دہی کے دوران مہاراجہ رنجیت سنگھ اور دیگر سکھ حکمرانوں کے زیرِ استعمال رہی۔قومی شاعر علامہ اقبال کا مزار بھی حضوری باغ کے جنوب مغربی کونے میں واقع ہے جو ۱۹۵۱ء میں تعمیر ہوا۔شعراء نے حضوری باغ میں تصویر کشی کے سلسلے کے بعد بادشاہی مسجد کا رخ کیا ۔بادشاہی مسجد کو مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے ۷۴- ۶۷۳ ۱ء میں تعمیر کرایاتھا۔مسجد کی دیواریں چھوٹی اینٹ اور قصوری چونے سے تعمیر کی گئی ہیں جبکہ بیرونی سطح اور گنبدوں پرسنگِ سرخ اور سنگِ مرمرنصب ہے جو انڈیا سے لایا گیا تھا۔سکھوں اور انگریزوں کے دور میں مسجد کو عسکری اور رہائشی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے مسجد کو کافی نقصان بھی پہنچا تھا لیکن ۶۱-۱۹۳۹ء کے دوران مسجد کی جامع درست حالی کا م کیا گیااور تباہ شدہ حصوں کی تعمیرِ نو کی گئی۔

بادشاہی مسجد کے بعد قافلے نے شاہی قلعہ کا رخ کیا۔شاہی قلعہ یا قلعہء لاہور مغلیہ دور کا تاریخی ورثہ ہے ۔ قلعہ لاہور کے جھروکوں سے ماضی میں جھانکا جائے توکئی دیو مالائی قسم کی کہانیاں ہمارے سامنے آتی ہیں اور ۱۹۵۹ء میں لاہور قلعہ کی کھدائی کے دوران دوسری صدی قبل مسیح ؑ کے آثار ملے ہیں جبکہ لاہور قلعہ کے ذکر میں شہاب الدین غوری (۱۱۸۶-۱۱۸۰)کے لاہور حملوں کے حالات سے ملتا ہے لیکن شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۵۶)ء نے ۱۵۶۶ء میں قلعہ لاہور کی پختہ اینٹوں سے تعمیر کرائی اور اسے شمالی جانب سے دریائے راوی تک وسعت دی جو ۱۸۴۹ء تک قلعہ کی شمالی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔اکبری دور میں قلعے کے اندر اکبری محل، دولت خانہ،دولت خانہ ء خاص و عام اور اکبری گیٹ ہوئے اور بعد میں آنے والے مغل بادشاہوں نے بھی قلعہ کے اندر رتعمیرات جاری رکھیں۔اورنگزیب عالمگیر نے ۱۶۷۴ء میں مغربی جانب عالمگیری دروازہ تعمیر کرایا۔۔آٹھ درہ حویلی مائی جنداں سکھ دور میں (۱۸۳۹-۱۷۹۹)ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کروائیں۔۱۸۴۶ء میں انگریزوں نے قلعہ پر قبضہ کیااور جنوبی دیوار گرا کر سیڑھیاں تعمیر کرادیں۔اور آخر کار ۱۹۲۷ء میں اس کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا۔یا د رہے کہ قلعہ لاہور یونیسکو کے تحت عالمی ورثہ میں بھی شامل ہے۔

شاہی قلعہ میں آج کل سیاحوں کی سہولت کے لئے چھوٹے چھوٹے چائے خانے ،مشروب خانے ،کتب خانے اور دکانیں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ سیّاح مستفید ہو سکیں۔رفقاء یہاں چائے نوشی کی غرض سے رکے جبکہ طارقؔ ،دکھیؔ اور عاصیؔ صاحب نماز پڑھنے کے لئے چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد شاہی قلعہ سے واپسی ہوئی اور پا پیادہ لاہور شہر کے گلی کوچوں اور مارکیٹوں سے ہوتے ہوئے داتا دربار کا رخ کیا ۔بازار میں لوگ خریداری میں مصروف تھے جبکہ گلی کوچوں میں بچے کھیل رہے تھے۔ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد داتا دربار پہنچے۔

داتا دربار جنوبی ایشیا کے قدیم زیارات میں سے ایک ہے اور یہ زیارت عظیم صوفی حضرت ابوالحسن ہجویری کے نام سے منسوب ہے اوریہ احاطہ ۱۱ ویں صدی میں حضرت داتا گنج بخش کا مسکن بھی رہا ہے۔داتا دربار کو غزنوی بادشاہ ذاکر الدین ابراہیم نے گیارھویں صدی کے اواخر میں تعمیر کرایا تھالیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کئی تبدیلیاں بھی آئیں۔حلقہ ء اربابِ ذوق کے دوستوں نے دربار پر حاضری دی اور نمازِ عصر بھی یہی پہ ادا کی۔

داتا دربار سے واپسی تک شام ہوچکی تھی اور فضا میں ایک مخملی سی شگفتگی چھائی ہوئی تھی۔احباب نے ایک چائے خانے رخ کیااور چائے کا دور چلا۔رات گئے قیام گاہ کارخ کیا ۔آدھی رات کو بادلوں کی گھن گھرج سے کمرے کا پروقار سکوت ٹوٹ گیا گویا بادل اپنا رنگ چھلکا رہے ہوں۔کمرے کی کھڑکی سے بازار کا منظر نہایت دلکش تھااور اوس ٹپک رہی تھی ۔روڑ پر گاڑیوں کا رش کم تھاجبکہ بارش کے پانی کے سبب شہر کی سڑکیں نکھر رہی تھیں۔

لاہور شہر میں صبحِ صادق کی روشنی نے پھیل کرایک نئے دن کی نوید سنا دی۔کمرے میں دم گھونٹنے والی خاموشی اور اداسی چھائی ہوئی تھی ۔راقم نے باہر نکل کر عاجزؔ اور حسن ؔ کے کمرے کا رخ کیا۔ سینئر شعراء خریداری کی غرض سے مارکیٹ گئے ہوئے تھے۔لٰہذا نوجوان شعراء نے ۰۰:۱۰ بجے بازار کا رخ کیا۔حسنؔ اور راقم نے پاک ٹی ہاؤس کا پروگرا م بنایا۔ٹیکسی لی اور مال روڈ سے ہوتے ہوئے نیلا گنبد پھر تھوڑی سی پیدل مسافت کے بعد پاک ٹی ہاؤس پہنچے۔پاک ٹی ہاؤس پاکستان کے ادباء،شعراء ،فنکار اور دانشوروں کا ایک مشہور چائے خانہ ہے جو آزادی سے قبل۱۹۳۲ء میں ایک سکھ خاندان کی ملکیت تھا۔لیکن ۱۹۴۰ء میں ینگ مینز کرسچن ایسو سی ایشن (YOUNG MEN CHIRISTIAN ASSOSIATION)کے سپرد کی گئی ۔۱۹۴۷ء میں سراج الدین احمد نامی ایک تاجر نے کرائے پر لیا اور پاک ٹی ہاؤس کا نام دیا۔جس کے بعد اردو ادب کے نامور شعراء وادباء جن میں فیض احمد فیضؔ ،آغا شورش ؔ کشمیری،ابنِ انشاءؔ ،احمد فرازؔ ،سعادت حسن منٹو ،منیر ؔ نیازی ،میراؔ جی،کمال ؔ رضوی ،ناصرؔ کاظمی اور انتظار حسین جیسی نامور شخصیات یہاں کا رخ کرکے منڈلی جماتے تھے۔سن۲۰۰۰ء میں کاروباری وجوہات کے سبب اس چائے خانے کو بند کر دیا گیاتھا لیکن ۲۰۱۲ء میں پنجاب گورنمنٹ نے اسے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیایوں ۱۳ سال کے طویل وقفے کے بعد ۸ مارچ ۲۰۱۳ ء کو شعراء، ادباء ،دانشوروں اور طلباء کے لئے اس چائے خانے کی خدمات پیش کی گئی۔

IMG_20150121_213940

نوجوان شاعر حسنؔ اور راقم نے پاک ٹی ہاؤس کی پہلی منزل میں پڑی خالی نشست سنبھالی اور چائے کا آڈر دیا۔چائے خانے میں جی سی یونیورسٹی کے طلباء کی بھیڑ لگی ہوئی تھی جو شور کا بھی موجب بن رہے تھے۔چائے خانے میں ہماری ملاقات گلگت کے معروف ڈاکٹر ارشد کے فرزند حسنین سے ہوئی اور اس ملاقات کا سبب راقم کی گلگتی دیسی ٹوپی بنی ۔حسنین کے ساتھ گفتگو طول پکڑتی جارہی تھی اور ایک دفعہ پھر چائے کا دور چلاایک گھنٹے کے بعد ہماری نشست برخاست ہوئی اور پا پیادہ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا۔

پاک ٹی ہاؤس سے نکل کر مال روڈ سے ہوتے ہوئے انارکلی پہنچے۔دو گھنٹے کی طویل آوارہ گردی تک دوپہر ڈھل چکی تھی اتنے میں راقم کا موبائیل بجا دیکھا تو یاد ؔ صاحب یاد کر رہے تھے اورحلقہ ء ارباب ذوق کے قافلے کی پاک ٹی ہاؤس میں موجودگی کی خبر کے ساتھ ساتھ جلد از جلد ہمیں بھی پہنچنے کی تاکید کر رہے تھے۔راقم اور حسن ؔ نے پاک ٹی ہاؤس کا رخ کیا۔پاک ٹی ہاؤس پہنچ کر نظر دوڑائی تو گراؤنڈ فلور کے بائیں جانب نامور شاعر ناصر زیدی صاحب جلوہ افروز تھے۔راقم اور حسن نے شرفِ ملاقات اور بیٹھنے کی اجازت چاہی۔زیدیؔ صاحب نے جوش دلی سے قبول کیااور انہوں نے حاذ کے دیگر احباب کا بھی پہلی منزل میں جاری انجمن ترقی پسند مصنّفین کی تنقیدی نشست و محفلِ مشاعرہ میں موجودگی کا تذکرہ کیا اور طویل گفتگو ہوئی۔زیدیؔ صاحب سے رخصت کے بعد پہلی منزل پہنچے جہاں انجمن ترقی پسند مصنّفین کے زیرِ اہتمام تنقیدی نشست جاری تھی۔ایک گھنٹے کے بعد حاذ گلگت کے شعراء کو شعر گوئی کاموقع دیا گیاجہاں گلگت بلتستان کے شعراء کے کلام اور تازہ افکار کو خوب سراہا گیا۔

۲۲ جنوری کی صبح ناشتے کے بعد لاہور چڑیا گھر کا رخ کیا۔لاہو ر کا چڑیا گھرجنونی ایشیا کے بڑے چڑیا گھروں میں سے ایک ہے اور اس چڑ یا گھر کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا تیسرا یا چوتھا قدیمی چڑیا گھر ہے جسے لال مہوندرا رام نے ۱۸۷۲ء کو لاہور میونسپل کوعطیہ کیا تھا۔جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کئی تبدیلیاں لائی گئی۔۲۰۱۰ء کے ایک اعداد و شمار کے مطابق اس چڑیا گھر میں۷۱ اقسام کے ۱۲۸۰ درخت ،۱۳۶ نسلوں کے ۱۳۸۰ جانور،۸۲ انواع کے ۹۹۶ پرندے ،۸ اقسام کے ۴۹ مگرمچھ اور ۴۵ اقسام کے ۳۳۶ دودھ پینے والے جانور وں کی قیام گاہ ہے۔

شعراء مسلسل لاہور چڑ یا گھر میں پاپیادہ چل رہے تھے اور قدرت کی تخلیقات سے محظوظ ہورہے تھے۔ایک جگہ جاکر مشروب خانے میں منڈلی جمائی اور مشروبات کے ساتھ ساتھ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری ہوا۔ایک گھنٹے کے بعد لاہور چڑیا گھر سے فراٖغت کے بعد لاہور کے عجائب گھر کا رخ کیا گیا۔لاہورکا عجائب گھر پاکستان کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے جو (۶۶-۱۸۶۵)ء میں موجودہ پنجاب نمائش گاہ کی عمارت میں بنایا گیا تھالیکن ۱۸۹۴ء میں موجودہ عجائب گھر کی عمارت میں منتقل کیا گیا۔اس عمارت کا نقشہ سر گنگا رام نے بنایا تھا ۔لاہور عجائب گھر میں مغلیہ ،سکھ ،بر ٹش اور کئی ادوار کے لکڑی کی چیزیں ،تصاویر، موسیقی کے سامان ،قدیم جیولری ،قدیم کپڑے ،مٹی کے برتن اور جنگی سازوسامان لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جبکہ گندھارا دور کا بدھا کا مجسمہ عجائب گھر کے مقبول ترین اشیاء میں سے ایک ہے ۔یہاں پر دوستوں کو سندھ کی قدیم تہذیب اور گندھارا دور کے تبرکات کو قریب سے دیکھنے کا مو قع ملا۔

حلقہ ء ارباب ذوق کے کارواں کا آج چونکہ دوبارہ اسلام آباد واپسی کا پروگرام تھااور دوپہر کے۰۰: ۲ بھی بج رہے تھے لٰہذا شعراء نے لاہور میوزیم سے ہوٹل کا رخ کیا تاکہ ریلوے سٹیشن پہنچنے میں تاخیر نہ ہو۔ جبکہ طارقؔ ،عاصیؔ اور راقم نے کچھ خریداری کی غرض سے پرانی انارکلی کا رخ کیا ۔عاصیؔ صاحب ماضی کو یاد کرتے ہوئے پرانی انار کلی کے ہوٹلوں کاتذکرہ کر رہے تھے چونکہ عاصی ؔ صاحب ماضی میں کاروباری سلسلے میں اکثر یہاں کارخ کرتے تھے اوریہاں پر قیام کرتے تھے۔احباب نے پرانی انارکلی سے ٹیکسی لی اور ہوٹل کی جانب روانہ ہوئے۔

شام کے ۳۰: ۴ بجے تھے اور فضا مین نیم تاریکی پھیل چکی تھی شعراء بھاگم بھاگ اپنی سامان کی گٹھڑیاں سنبھالے ریلوے سٹیشن کی جانب روانہ تھے۔تھوڑی سی مسافت کے بعد بالاخر ریلوے سٹیشن پہنچے ۔آدھے گھنٹے کے بعد ٹرین اپنے وقت کے مطابق ہماری منزل یعنی راولپنڈی کی جانب روانہ ہوئی۔ریل میں تھوری سی خاموشی کے بعد دوستوں کے مابین گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک گھنٹے کے بعد شعر وشاعری کا دور چلا پھر اس کے بعد شنا گانوں کی سریلی آوازیں فضا میں گونجنے لگیں۔شاکرؔ صاحب اٹھے اور رقص شروع کیا اور ریل میں ایک خوبصورت ماحول پیدا ہوا۔کچھ دیر بعد چائے کابھی دور چلا۔۵ گھنٹے کی طویل سفر کے بعد بالا خر راولپنڈی ریلوے سٹیشن پہنچے۔رات کے ۱۱ بج رہے تھے اور راولپنڈی میں ہلکی پھلکی بارش ہورہی تھی۔ایک وین کا انتظام کیا گیا اور اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔یوتھ ہاسٹل پہنچ کر احباب سخت تھکاوٹ محسو س کر رہے تھے لٰہذا اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا گیا۔ (جاری ہے)

دوسرا حصہ یہاں پڑھی جاسکتی ہے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments