چترال، سینگور کی خواتین تنظیم نے رہنماوں کو کھانے پر بلایا، اور پھر انہیں آئینہ دکھایا

چترال، سینگور کی خواتین تنظیم نے رہنماوں کو کھانے پر بلایا، اور پھر انہیں آئینہ دکھایا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) علاقے کے مسائل حل کرنے کیلئے سینگور کی خواتین تنظیم نے انوکھا طریقہ احتیار کیا۔ خواتین تنظیم نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سینگور میں روایتی کھانوں کی نمائش کا اہتمام کیا۔جس میں چترال کے نہایت قدیمی، روایتی کھانے پکاکر پیش کیا گیا۔اس سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام بھی ہوا جس میں خاتون رکن صوبائی اسمبلی بی بی فوزیہ مہمان حصوصی تھی جبکہ تقریب کی صدارت ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر عبد الاکرم نے کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے خواتین تنظیم کی جنرل سیکرٹری عابدہ شریف نے کہا کہ سینگور کا علاقہ دیکھنے میں تو چترال ٹاؤن کا حصہ ہے مگر اس کی پسماندگی سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی افریقی ملک کا ایک دور آفتادہ جزیرہ ہے۔ اس علاقے میں خواتین کیلئے ابھی تک کوئی دستکاری مرکز نہیں ہے نہ ہی کوئی زنانہ کالج۔ انہوں نے کہا کہ سینگور کی سڑک کاغذوں میں تارکولی(پختہ) دکھایا گیا ہے مگر اس سڑک پر اگر مریض کو ہسپتال لے جایا جائے تو وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے مرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ایک منتحب خاتون کونسلر بھی ہے مگر ابھی تک اس کو کوئی فنڈ نہیں دیا گیا ہے اور نہ کسی ترقیاتی کام میں اس سے مشاورت کی گئی ہے۔
ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر عبد الاکرم نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے کیلئے نہایت اچھے اقدامات کئے ہیں جن میں لوگل باڈیز انتحابات کے ذریعے کونسلران کو منتحب کرنا ہے اور چترال میں سو دیہی کونسل ہیں لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت نوجوان کونسلروں کیلئے 197 ملین بجٹ اور 285 ملین بجٹ ویلیج کونسل کیلئے محتص کیا گیا ہے۔اب یہ منتحب نوجوان اپنے مسائل اپنے علاقے ہی میں حل کریں گے۔ انہوں نے اس نمائش میں روایتی کھانے پکانے والے خواتین کیلئے دس ہزار روپے کا اعلان کیا۔
بی بی فوزیہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوان اور خواتین کی مسائل حل کرنے کیلئے ان کو بلدیاتی انتحابات کے ذریعے ان کو باقاعدہ کوٹہ دیا ہے اور یہ لوگ منتحب ہوکر اپنے ہی لوگوں کے مسائل حل کریں گے۔ انہوں نے خواتین کیلئے دس ہزار روپے کا اعلان کرکے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے روایات یو نہ بھولے اور ان اچھے روایات اور ان روایتی کھانوں کے ذریعے وہ دنیا بھر سے سیاحوں کا توجہ مرکوز کرسکتی ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کی کہ اسے سیاحت کی پارلیمانی سیکرٹری مقرر کرکے وہ چترال کی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے دور رس مفید منصوبے بنائیں گی۔
تقریب سے نوجوان رہنماء قاضی فیصل، پی ٹی آئی کے سابق صدر عبد الطیف ، حاجی سعید اللہ، اقبال الدین اور دیگر نے اظہار حیال کیا۔
بعد میں آنے والے مہمانوں کو چترال کے روایتی کھانوں کی نمائش میں مدغو کرکے ان کو یہ لذیذ کھانے پیش کئے گئے جنہوں نے ان کی بے حد تعریف کی۔ ماسٹر شیف گلناز جنہوں نے روایتی کھانوں میں عالمی ایوارڈ حاصل کی ہے نے جج کے فرائض انجام دی اور اول دوم اور سوم آنے والی خواتین میں انعامات تقسیم کی۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے بی بی فوزیہ نے کہا کہ یہ روایتی کھانے ابھی آہستہ آہستہ ناپید ہورہی ہے اور نئی نسل ان کے نام تک بھول چکے ہیں۔ ماسٹر شیف گلناز نے کہا کہ اسے بڑی خوشی ہوئی کہ چترال کے خواتین میں روایتی کھانے پکانے کی بہت زیادہ قابلیت اور صلاحیت ہے انہوں نے اسی سکول سے تعلیم کا ابتداء کی تھی اور عالمی ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد آ ج اسی سکول میں روایتی کھانوں کا نمائش دیکھ کرے اسے بڑی خوشی ہوئی۔
عابدہ شریف نے کہا کہ ہمارے ان تگ و دو اور روایتی کھانوں کی نمائش کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرف چترال کی خواتین کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور دوسری طرف منتحب نمائندگان اور انتظامیہ کے افسران کو یہاں بلاکر ان کے سامنے اپنے مسائل پیش کرے۔ جس پر اے اے سی عبد الاکرم نے اعلان کیا کہ سینگور کے مقام پر نوجوانوں کیلئے ایک سہولت کار مرکز بھی تعمیر کیا جائے گا۔
سینگور میں ندی ، نالے گندگی کی ڈھیر کا منظر پیش کرتے ہیں اور یہاں پر پینے کی پانی کی پائپ بھی ان گندی نالیوں سے گزر کر گھروں میں جاتی ہے جس میں نالے کی گندہ پانی بھی شامل ہوکر محتلف بیماریوں کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ پائپ لائن 1975 میں بنایا گیا تھا اور اس کے بعد اس کی مرمت یا تبدیلی کیلئے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔
اس نمائش میں کثیر تعداد میں علاقے بھر کے خواتین ، حضرات، سماجی کارکنان، منتحب کونسلران نے شرکت کرکے اتنی اچھی اور لذیذ کھانے پکانے پر خواتین کی تعریف کی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔