بہتر کارگردی کا صلہ:‌ آغا خان ایجوکیشن سروس چترال کے 196 اساتذہ میں‌ 60 لاکھ روپے بطور بونس تقسیم

چترال(نمائندہ خصوصی) آغا خان ایجوکیشن سروس نہ ہوتا تو پاکستان میں گلوبل ایجوکیشن کے موضوع پر پہلے پی آیچ ڈی کرنے کا اعزاز مجھے نہیں ملتا ۔ اس لیے میں اپنےآپ کو آغا خان ایجوکیشن سروس کی عقلانی اولاد intellectual child سمجھتا ہوں ۔ پاکستان میں صرف ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان کے تعلیمی ادارے گلوبل ایجوکیشن کے تصور کے ساتھ تعلیم دے رہے ہیں۔ یہ باتیں گزشتہ دنوں آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ چترال میں آغا خان ایجوکیشن سروس  کی طرف سے  لوئر چترال کے  اساتذہ  کے لیے منعقدہ  ٹیچر ریکوکنیشن ڈے کے موقع پر  بات کرتے ہوئے چترال یونیورسٹی کے پرووسٹ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ  ڈاکٹر تاج الدین شرر نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اس لیےاہم نہیں ہے کہ اس میں اساتذہ کرام کو بونس  دیئے جارہے ہیں  بلکہ یہ تقریب ا س لیے بھی اہم ہے  کہ آج اساتذہ کرام     اپنے کار نمایاں ، تخلیقیت اور innovation کو Celebrate  کر رہے ہیں ۔ اس لیے آج اس فلسفے کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے بونس حاصل کرنے والاے اساتذہ کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ان اساتذہ کو  پیغام دیتے ہوئے کہا جو  اس سال بونس حاصل نہیں کرپائے ۔انہوں نے کہا جیتنا ہی اہم نہیں بلکہ جیت کے اس دوڑ میں شریک ہونا بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

مہمان خصوصی ڈاکٹر تاج الدین شرر  نے تعلیم کے جدید تقاضوں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ  دُنیا میں تعلیمی تقاضے بدل گئے ہیں اس لیے تعلیمی اداروں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنے اقدار کے اندر رہتے ہوئے وہ عالمی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ جو ہماری زندگی کو با مقصد بنائیں اور ترقی کی راہیں ہموار کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے ۔ جب اساتذہ کی قدرومنزلت ہمارے معاشرے اور طلبہ میں موجود ہو۔

تقریب کے صدر محفل سابق ڈی او صمد گُل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام کا پہلا پیغام ہی  اقراء  ہے  اور رسول مقبولؐ نے علم کے حصول کیلئے چین تک جانے کی ہدایت فرمائی اور بدر کے قیدیوں کو بھی مسلمان بچوں کو پڑھانے پر ہی پر رہائی ملی تھی  ۔ جس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ دین اسلام میں  دُنیاوی اوراُخروی دونوں علوم کا حصول کتنا  ضروری ہے ۔

 انہوں نے کہا  کہ چترال کا ماحول انٹلیکچول ہے  اور چترال کےطلبہ میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں ۔ جنہیں بہتر تربیت اور علم کے ذریعے مزید نکھارنے   کی ضرورت ہے ۔

 آغاخان ایجوکیشن سروس چترال کے جنرل منیجر  بریگڈیئر ریٹائیرڈ خوش محمد نے   مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ  اس سال پورے چترال میں  کل 196اساتذہ کرام کو  بونس  دیا جا رہا ہے جو کہ کل اساتذہ کا 47  فی صد بنتا ہے۔جس کی کل مالیت  تقریباً 6  ملین ہے۔   بونس چار مختلف category  میں دیا جا رہا ہےجن کی مالیت 25000                              ، 50000،35000اور 75000 ہیں۔ آغا خان ایجو کیشن سروس  کے پاس اساتذہ کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے جانچ پرکھ کا ایک عمدہ نظام موجود ہے جس کوعرف  عام میں Performance Management and Reward System (PMRS)کہتے ہیں ۔ مڈل اور ہائی سکولز میں یہ کام ہمارے سکول ہیڈز کرتے ہیں جبکہ پرائمری سکولزکی کارکردگی کی جانچ پرکھ کی ذمہ داری RSDUہیڈ  کے پاس ہے ۔

جانچ پرکھ کا یہ نظام پورے سال پر محیط ہوتا ہے جس میں تین بنیادی پہلوؤں کو دیکھا جاتا ہے ان بنیادی پہلوؤں میں کمرہ جماعت میں پڑھانا  ، طلباء و طالبات کے امتحانی نتائج اور اساتذہ کرام کے دوسرے پیشہ وارانہ ذمہ داریاں  شامل  ہیں  جو اساتذہ  کرام مسلسل تین سالوں تک اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں ان کو ایک درجہ ترقی بھی دی جاتی ہے  ۔

انہوں نے کہا  کہ اے کے ای ایس پی ایک وسیع وژن رکھتا ہے  اوراس وژن کے تحت معیار تعلیم کو بہتر بنانے ، طلبہ میں لیڈر شپ صلاحیتوں کو اُبھانے ، اُن کی رہنمائی کرنے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے گلوبل ایجوکیشن کے حصول کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ اشتراک سے اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا کہ اُن کی کو ششوں سے آغا خان ایجوکیشن  سروس ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ انہوں نے  طلبہ کو  بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ اقدار سے بھی بہرہ ور ہونے کی بھی تلقین کی  ۔

 انہوں نے  اے کے ای ایس کے اساتذہ  کو کم معاوضے پر رضا کارانہ جذبے کے تحت خدمات انجام دینے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ  اے کے ای ایس کے اساتذہ اپنی بہترین تربیت کی بدولت سرکاری تعلیمی اداروں میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں  اوریہ ان ہی اساتذہ کا سہرا ہے  کہ آج ملک کے اندر اور بیرون ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں چترال کے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پروگرام میں کارکردگی کی بنیاد پر  لوئرچترا ل کے۶۳ساتذہ کو پچیس ہزار ،نو کو  پینتیس ہزار،۷ کو پچاس ہزار جبکہ پانچ اساتذہ ٔ کرام کو پچھتر ہزار روپے کے چیک پیش کیے گئے۔اس کے علاوہ  سینئر اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو واسکٹ پیش کیے گئے۔

 اساتذہ  کرام میں تقریب میں موجود مہمانان گرامی محمود غزنوی ایس ڈی ای او ، ڈاکٹر نورالاسلام ، ڈاکٹر سعد ملوک ، امیر محمد منیجر فوکس ،  سینئر صحافی محکم الدین ، سیف اللہ جان لائبریرین ، عنایت اللہ اسیر ، لیاقت علی خان سابق منیجر اے کے ای ایس ، سید رمضان شاہ ، سلطان مُراد کنوئنیر ، سید مومن شاہ ، کنوئنیر ، سلطان مراد پرابیک ،چیف ایڈیٹر چترال ٹائمز سیف الرحمن عزیز ، ذوالفقار  علی  ہیڈ آفاق ، ظہران شاہ سابق منیجر اے کے ای ایس ، شاہ کریز خان سکالر ، امیر اللہ ، پروفیسر سید شمس النظر فاطمی،پریذیڈنٹ نامدارریجنل کونسل لوئر چترال محمدافضل ، زاہدہ گُل ویمن لیڈر ، شکور محمد سابق ناظم ،  چیئر مین ریجنل اطرب لوئر چترال شیر نواز ، ڈاکٹر ریاض حسین ہیڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ سنٹر چترال  ، خدا پناہ ہیڈ ماسٹر ، ڈی ای او میر ولی ، نظام علی منیجر ہاشو ، عبد الصمد سابق ڈی ای او اور ڈاکٹرتاج الدین شرر پرووسٹ چترال یونیورسٹی، ریجنل منیجر ہاوسنگ بورڈ محمد کرم نے بونس سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے۔

اساتذہ ٔ کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے ہیڈ ٹیچر محمور مراد نے آغاخان ایجوکیشن سروس کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں خراج ِ تحسین پیش کی۔

جنرل منیجر آغاخان ایجوکیشن سروس چترال نے مہمانِ خصوصی اور صدرِ محفل کو اے کے ای ایس کی جانب سے یاد گاری شیلڈ پیش کیا۔

   تقریب میں آغاخان سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز ،   لوئر چترال کے آغاخان سکولوں کے اساتذہ سمیت خواتین و حضرات  کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

 تقریب کے دوران سکول کے میوزیکل کلب کے بچوں نے ملی نغمے پیش کیے اور خوب داد وصول کی ۔آخر میں منیجر سکول ڈویلپمنٹ  آغاخان ایجوکیشن سروس چترال  ذوالفقار علی نے مہمانوں  کا شکریہ ادا کیا۔ اس خوبصورت تقریب کی  نظامت کے فرائض عطا حسین اطہر اور  ماریہ نذیر نے سرانجام دیے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments